کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) شاہ لطیف کے علاقے میں گزشتہ روز ڈاکوؤں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا موٹر سائیکل رائیڈر دوران علاج دم توڑ گیا،ملزمان نے مقتول کا موبائل فون 8 ہزار روپے میں فروخت کر کے 6 ہزار روپے کی شراب خریدی۔تفصیلات کے مطابق شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے میں گزشتہ روز دوران ڈکیتی مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا شخص دوران علاج جناح اسپتال میں چل بسا۔مقتول کی شناخت 30 سالہ زاہد حسین کے نام سے ہوئی جو کہ ان لائن موٹر سائیکل چلاتا تھا۔مقتول شیر پائو کالونی کا رہائشی تھا جبکہ اس کا آبائی تعلق ڈیرہ بگٹی سے تھا۔ایس ایچ او شاہ لطیف ٹاؤن ممتاز مروت نے بتایا کہ ابتدائی طور پر معلوم ہوا تھا کہ واقعہ لڑائی جھگڑے کے دوران پیش آیا تاہم بعد ازاں تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ دو افراد نے مقتول سے شاہ لطیف ٹاؤن کے لیے موٹر سائیکل بک کروائی اور وہاں پہنچنے پر اس سے موبائل فون چھینا اور اس پر فائرنگ کی جس سے وہ گر گیا اور موٹر سائیکل بھی گر گئی۔ملزمان مقتول موٹر سائیکل چھین کر لے جانے لگے تو مقتول نے پھر ایک ملزم کو پکڑ لیا جس پر ملزمان نے اسے دو اور گولیاں ماریں جسے سن کر وہاں لوگ جمع ہو گئے ۔شور شرابے پر ملزمان موٹر سائیکل چھوڑ کر پیدل فرار ہو گئے۔مقتول کو تین گولیاں لگیں۔انہوں نے بتایا کہ جب مقتول کے موبائل فون کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں تو اس کا ڈیٹا نکالا گیا اور قذافی ٹائون میں ایک جگہ پر چھاپہ مار کر پہلے ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا اور اس کی نشاندہی پر ایک اور ملزم کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ملزمان کی شناخت عبدالصمد نیازی اور عمران کے ناموں سے ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملزمان سے دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ واقعہ میں ایک برطرف پولیس اہلکار آصف بھی ملوث تھا جو تاحال فرار ہے جو پہلے بھی ڈکیتی کے واقعات میں ملوث ہے،اس کا بھائی بھی پولیس اہلکار ہے جسے بلا لیا گیا ہے۔ایس ایچ او نے بتایا کہ ملزمان نے مقتول کا موبائل فون 8 ہزار روپے میں فروخت کیا اور ان پیسوں میں سے 6 ہزار روپے کی شراب خریدی اور گزشتہ شب وہ شراب پی۔انہوں نے بتایا کہ یہ ایک منظم گینگ کے جو خود کو پولیس اہلکار ظاہر کر کے لوٹ مار کرتا تھا۔