• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاہ عبدالطیف یونی ورسٹی، 147 جعلی ڈگریاں، ایف آئی آر کٹ گئی

کراچی( سید محمد عسکری) شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پور نے جعلی اسناد کا کاروبار روکنے اور 147جعلی اسناد کے حامل افراد کیخلاف سخت کارروائی کیلئے ان کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج کرادی ہے۔ ایل ایل بی، ایل ایل ایم، بی اے، بی ایس سی، بی کام ، بیچلرز اور ماسٹرز کی یہ اسناد مختلف اداروں نے تصدیق کیلئے عبداللطیف یونیورسٹی خیر پور بھیجی تھی اور یہ اسناد 1994سے لے کر 2024تک کے دوران جاری کی گئی تھیں جب کہ ان اسناد کا یونیورسٹی میں سرے سے کوئی ریکارڈ ہی نہیں تھا اور امیدواروں کا تعلق خیر پور یا قریبی اضلاع کے بجائے پنجاب، کے پی کے، بلوچستان، سندھ، اور دیگر علاقوں سے تھا۔شاہ لطیف یونیورسٹی خیر پور کے ایک پروفیسر نے جنگ کو بتایا کہ دو سے پانچ لاکھ روپے میں شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پور کی جعلی سند ملنے کاروبار طویل عرصے سے جاری تھا اور خاموشی اور ملی بھگت سے اسناد کی تصدیق بھی کردی جاتی تھی تاہم موجودہ انتظامیہ نے شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پور کی ساکھ کو بحال کرنے اور جعلی اسناد کے کاروبار کو روکنے کے لیے سخت کارروائی کا فیصلہ کیا اور 147 اسناد کو جعلی قرار دیتے ہوئے ان جعلی امیدواروں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرادی ہے تاکہ جب پولیس ان امیدواروں سے تحقیقات کرے تو یہ پتہ چل جائے کہ کس طرح اور کس زریعے سے یہ سند حاصل کی گئی تھی جس کے بعد ملوث افراد کے خلاف سخت ایکشن ہوسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایف آئی آر کے سلسلے میں شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پور کے رجسٹرار باقاعدہ پولیس کو خط لکھا جس میں ایس ایچ او سے کہا گیا کہ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی، خیرپور نے اپنے ناظم امتحانات نے تصدیق کے ذریعے 147 (ایک سو سینتالیس) جعلی تعلیمی اسناد کا پتہ لگایا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ متعلقہ افراد کا یونیورسٹی میں کوئی داخلہ یا امتحانی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ چناچہ اسی لیے یونیورسٹی نے ان اسناد کو مسترد کر کے متعلقہ محکموں کو مطلع کر دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جعلی سرٹیفکیٹس کا اجراء اور استعمال ایک مجرمانہ فعل ہے جس سے اس سرکاری جامعہ کی ساکھ اور ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ چناچہ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے ساتھ، درخواست کی جاتی ہے کہ قانون کے قابل اطلاق شقوں کے تحت ملوث تمام افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کریں اور تحقیقات کو آگے بڑھائیں۔
اہم خبریں سے مزید