کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)جمعیت علماء اسلام پاکستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالمالک ، صوبائی رابطہ کمیٹی کے ارکان حاجی عبدالرزاق لانگو ، مفتی مطیع الرحمٰن لانگو ، مولانا عبدالغنی ساسولی اور مولانا امان اللہ گرگناڑی نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے شیرانی اور سوراب کی ضلعی حیثیت ختم کرنے کی باتیں مقامی لوگوں میں تشویش کا باعث بن رہی ہیں انہوں نے کہا کہ کسی علاقے کیلئے ضلعی حیثیت کے تعین کا فیصلہ متعلقہ اداروں اور عوامی نمائندگان کی منظوری کے بعد ہی کیا جاتا ہے ایک بار کسی علاقے کیلئے ایک انتظامی حیثیت کی ضرورت اور استحقاق کو تسلیم کرنے کے کئی سال بعد اس حیثیت کو ختم کرنا منتخب ایوانوں کے فیصلوں اور منتخب عوامی نمائندوں کی رائے کی توہین کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ ضلع شیرانی کے حوالے سے یہ دلیل کہ ضلعی دفاتر میں ملازمین حاضر نہیں ہوتے ناکافی اور نامناسب دلیل ہے ملازمین کی حاضری کو یقینی بنانا بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے جب حکومت ان ملازمین کو فرائض منصبی کی ادائیگی کا پابند نہیں بناسکتی تو اس کی سزا عوام کو کیوں دی جارہی ہےان اضلاع کے ضلعی ہیڈکوارٹر اور سرکاری دفاتر کی تعمیر پر جتنی رقم قومی خزانے سے خرچ ہوچکی ہے ضلعی حیثیت ختم کرنے کا مطلب ان تمام اخراجات کو ضائع کرناہے۔