کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)ریونیو ایڈوائزر زایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ ٹیکس پالیسی کی تشکیل کو باقاعدہ طور پر ٹیکس انتظامیہ سے الگ کر کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے وزارتِ خزانہ میں منتقل کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،سپر ٹیکس کا معاملہ کوئی الگ تھلگ تنازعہ نہیں ہے بلکہ یہ مالیاتی نظام کے اندر ایک دہرائے جانے والے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں ٹیکسیشن کو معاشی ڈھانچے کے بجائے محض ریونیو نچوڑنے کا ایک ٹول سمجھا جاتا ہے۔ عہدیداروں نے کہاکہ پاکستان میں ٹیکس کا تہہ در تہہ نظام ہے جس کی وجہ سے لوگ ٹیکس نیٹ میں آنے سے گھبراتے ہیں، حکومت کو ٹیکسز کی تعداد اور شرح کو کم کرناچاہیے تاکہ ٹیکس نیٹ فروغ پا سکے ۔ تجویز ہے کہ پالیسی کو نفاذ کی آسانی کے بجائے معاشی ہم آہنگی کے اصولوں پر مرتب کیا جائے۔