پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ معروف اداکارہ و میزبان ندا یاسر نے اپنے چھوٹے بیٹے بالاج یاسر کی عادات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اپنے شو میں ندا یاسر نے بچوں میں پائی جانے والی بعض تشویشناک عادات پر گفتگو کی اور اپنے بیٹے بالاج کی دو ایسی عادات کا ذکر کیا جو انہیں فکرمند کرتی ہیں۔
ناخن چبانے کی عادت پر بات کرتے ہوئے ندا یاسر نے کہا کہ میرا بیٹا 11 سال کا ہے اور اس نے یہ عادت اپنی بڑی بہن سے اپنائی ہے۔ وہ اب بھی ناخن چباتا ہے۔ میں نے ایک نیا طریقہ آزمایا ہے، لیکن مجھے ابھی معلوم نہیں ہے کہ یہ کتنا مؤثر ہوگا۔ میں اسے گندی اور ناگوار چیزوں کی تصاویر اور آگاہی پر مبنی ویڈیوز بھیجتی ہوں جن میں بتایا جاتا ہے کہ ناخن چبانے سے بیکٹیریا پھیلتے ہیں اور جسم کو نقصان پہنچتا ہے۔
ان ویڈیوز کے بعد کم از کم میں اس کے ناخن کاٹنے میں کامیاب ہو گئی ہوں، ورنہ وہ مجھے انگلیاں چھونے بھی نہیں دیتا تھا۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے پیسے خفیہ طور پر جمع کرنے کی عادت پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایک دن میں نے بالاج کی دراز کھولی تو اس میں اچھی خاصی رقم موجود تھی، جس پر مجھے حیرت ہوئی، کیونکہ میں ہمیشہ بچوں کو براہِ راست پیسے دینے کے خلاف رہی ہوں، اس لیے میں نے اسے کبھی پیسے نہیں دیے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اس کے لنچ کے لیے اس کی ٹیچر کے پاس رقم جمع کرواتی تھی، جس میں سے ٹیچر بالاج کو روزانہ کچھ رقم دیتی تھیں۔ جب میں نے دراز میں پیسے دیکھے تو میں نے اساتذہ سے بات کی۔ پہلے بالاج سے پوچھا مگر اس کے جوابات مطمئن کن نہیں تھے۔ بعد میں اس کی ٹیچر نے بتایا کہ وہ ان سے پیسے لے کر جمع کر رہا تھا۔
ندا یاسر نے بتایا کہ میری بیٹی نے پھر مجھے سمجھایا کہ اسے چھوٹی موٹی چیزوں کے لیے بھی پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ بچت کے لیے بھوکا رہتا ہے۔ اس کے بعد میں نے اسے باقاعدہ ماہانہ 5 ہزار جیب خرچ دینا شروع کی۔ اب اس کے پاس ایک لاکر ہے اور وہ اس میں پیسے جمع کرتا ہے۔