ٹنڈوو سعید خان ( اے ایف پی) پاکستان میں جعلی ڈاکٹروں کی وبا،لاکھوں لوگ عطائیوں کے رحم و کرم پر،دیہی سندھ میں غیر رجسٹرڈ کلینکس کا تیزی سے پھیلاؤ، ناقص علاج اور آلودہ آلات سے ہیپاٹائٹس اور ایڈز خطرات، ماہرین کا کہنا ہےدبائو کا شکار صحت نظام مزید متاثر ،مریض ناقص علاج کے بعد ہسپتال پہنچتے ہیں تو حالت بگڑ چکی ہوتی ہے۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن سربراہ نے بتایا کہ ہماری ٹیموںکو شدید خطرات کا سامنا رہتا ہے، وسائل محدودہیں ، 25غیر رجسٹرڈ کلینکس بند کریں، تو اگلے دن ہی 25نئی کھل جاتی ہیں۔پاکستان میں تقریباً 6لاکھ جعلی اور غیر اہل طبیب سرگرم ہیں جو اکثر غریب کمیونٹیز میں پہلا اور کبھی کبھار واحد طبی سہارا فراہم کرتے ہیں۔ ٹنڈوو سعید خان جیسے دیہاتوں میں چھوٹے کلینکس میں ہومیوپیتھی اور نرسنگ ڈپلومہ رکھنے والے افراد مریضوں کو بلا اجازت علاج فراہم کرتے ہیں، آلودہ آلات اور دوبارہ استعمال شدہ سرنجوں کے ذریعے ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے خطرات بڑھاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ غیر قانونی عمل ملک کے پہلے سے دباؤ میں چلتے صحت کے نظام کو مزید متاثر کر رہا ہے، کیونکہ مریض جو ناقص علاج کے بعد ہسپتال پہنچتے ہیں ان کی حالت بگڑ چکی ہوتی ہے۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے مطابق محدود وسائل اور قانونی کمزوریوں کی وجہ سے ایسے کلینکس کو بند کرنا مشکل ہے اور زیادہ تر بار متاثرہ اہلکاروں کو خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے سربراہ احسن قوی صدیقی کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس محدود وسائل ہیں۔ اگر ہم 25 غیر رجسٹرڈ کلینکس بند کریں، تو اگلے دن ہی 25 نئی کلینکس کھل جاتی ہیں۔ کمیشن کی انسپکشن ٹیمیں اکثر شدید خطرات کا سامنا کرتی ہیں۔احسن صدیقی نے کہا کہ یہ لوگ اپنے علاقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور کئی مواقع پر ہماری ٹیموں کو اغوا کر لیا جاتا ہے یا ان پر فائر کیا جاتا ہے۔ ہمارے پاس مضبوط کارروائی کے لیے طاقت نہیں ہے۔طبی ماہرین اور حکام خبردار کرتے ہیں کہ یہ عمل نہ صرف جانوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ مالی نقصان اور طویل عرصے کی معذوری بھی پیدا کرتا ہے۔