اسلام آباد (قاسم عباسی) بھارت کی معاشی برتری کے باوجود گھریلو سہولیات میں پاکستان آگے، گیلپ پاکستان کا کہنا ہے کہ واشنگ مشین کی ملکیت میں پاکستانی گھرانے بھارت سے تین گنا آگے ہیں۔ فی کس جی ڈی پی جیسے بڑے معاشی اشاریوں میں بھارت کی نمایاں برتری کے باوجود، پاکستانی گھرانوں میں محنت بچانے والی ضروری گھریلو اشیاء (مشینری) کی ملکیت کے امکانات نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ گیلپ پاکستان کی جانب سے 23 جنوری 2026 کو جاری کی گئی ایک جامع ’بگ ڈیٹا اینالسس‘ رپورٹ، پاکستان اور بھارت میں گھرانوں کے معیارِ زندگی اور صرف (صارفین) کی ترجیحات میں ایک حیران کن فرق کو ظاہر کرتی ہے۔ خاص طور پر، اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اب 57.6فیصد پاکستانی گھرانوں کے پاس واشنگ مشین موجود ہے، جو کہ بھارت میں ریکارڈ کی گئی 20 فیصد ملکیت کی شرح سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ اعداد و شمار پاکستانی خاندانوں کے اس اسٹریٹجک انتخاب کی عکاسی کرتے ہیں جس میں وہ صارفین کے دیگر اخراجات کے مقابلے میں گھریلو سہولت اور طویل مدتی اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ گاڑیوں کی ملکیت دونوں ممالک میں کم ہے، جس میں بھارت 8 فیصد کے ساتھ پاکستان کے 6.4 فیصد کے مقابلے میں معمولی برتری رکھتا ہے۔ یہ نتائج ایک اہم نتیجے کی نشاندہی کرتے ہیں: یعنی فی کس جی ڈی پی ہمیشہ گھریلو فلاح و بہبود کا براہ راست عکس (آئینہ) نہیں ہوتی۔ متعلقہ قیمتیں، انفرااسٹرکچر (بنیادی ڈھانچہ) اور ثقافتی اقدار جیسے عوامل اس بات میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں کہ کس طرح آمدنی کو حقیقی معیار زندگی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ معیارِ زندگی آمدنی اور انتخاب، دونوں کا حاصل ہوتا ہے، جو پاکستان میں ایک ایسے لچکدار متوسط طبقے کی امنگوں کو ظاہر کرتا ہے جو ملک کی مجموعی معاشی عدم استحکام کے باوجود برقرار ہے۔