• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خسرہ عالمی خطرہ بن گیا، دنیا بھر میں ایک بار پھر وبا کیوں پھیل رہی ہے؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

دنیا بھر میں خسرہ ایک بار پھر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ خسرے سے پاک کی حیثیت رکھنے والے ملک امریکا اور میکسیکو میں بھی 2026ء میں وبا پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس سے عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ 

ماہرین کے مطابق انسانوں کی اجتماعی مدافعت کمزور ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں یہ انتہائی متعدی وائرس دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔

کوویڈ-19 کے بعد کئی ممالک میں بچوں کی معمول کی ویکسینیشن متاثر ہوئی ہے، اسپتالوں پر دباؤ اور لاک ڈاؤن کے باعث لاکھوں بچے ایم ایم آر (خسرہ، مَمپس، روبیلا) ویکسین سے محروم رہے ہیں۔

امریکی ریاست ساؤتھ کیرولائنا کے اسپارٹنبرگ کاؤنٹی میں 2026ء کے آغاز سے اب تک 550 سے زائد خسرہ کے کیسز سامنے آ چکے ہیں جس کے باعث اسکول بند اور اسپتالوں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

کینیڈا 2025ء میں ہی خسرے سے پاک ہونے کی حیثیت کھو چکا ہے جبکہ پاکستان،  بھارت، انڈونیشیا اور یمن میں بھی ہزاروں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

ماہرین کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ خسرہ صرف بخار اور دانوں تک محدود نہیں۔ یہ بیماری مدافعتی نظام کو شدید نقصان پہنچاتی ہے جس سے بچے کئی سال تک دیگر بیماریوں کا آسان شکار بن سکتے ہیں۔

خسرہ کی علامات

ابتدا میں نزلہ، کھانسی، ناک بہنا اور آنکھوں کی سوزش ہوتی ہے۔ چند دن بعد منہ میں سفید دھبے اور پھر چہرے سے شروع ہو کر پورے جسم پر دانے نکل آتے ہیں۔

تحفظ اور سفر سے پہلے احتیاط

دو خوراکوں پر مشتمل ایم ایم آر ویکسین عمر بھر کا تحفظ فراہم کرتی ہے۔ بیرونِ ملک سفر سے کم از کم دو ہفتے پہلے ویکسین مکمل کروانا ضروری ہے۔ متاثرہ علاقوں سے واپسی کے بعد 21 دن تک علامات پر نظر رکھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خسرے کے خلاف جنگ صرف فرد کی نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کی ذمہ داری ہے۔ بروقت ویکسینیشن ہی اس خطرناک بیماری سے بچاؤ کا واحد مؤثر ذریعہ ہے۔

صحت سے مزید