فیٹی لیور (جگر میں چربی جمع ہونے کی بیماری) دنیا بَھر میں جگر کی سب سے عام بیماریوں میں سے ایک ہے اور اب یہ عوامی صحت کا ایک اہم مسئلہ بن چُکی ہے۔ یہ بیماری اُس وقت پیدا ہوتی ہے، جب جگر کے خلیوں میں ضرورت سے زیادہ چربی جمع ہو جائے۔ اگرچہ ابتدائی مرحلے میں صرف چربی کا جمع ہونا زیادہ نقصان کا باعث نہیں بنتا، لیکن بعض کیسز میں جگر میں سوزش بھی ہو جاتی ہے، جسے ’’MASH ‘‘کہا جاتا ہے۔
اگر اِس کا بروقت علاج نہ کیا جائے، تو ماش، جگر کے فائبروسز(داغ پڑنے)، سروسز، یعنی جگر کے سکڑنے سے لے کر جگر کے سرطان تک پہنچ سکتا ہے۔موٹاپے، ذیابطیس اور بڑھتے ہوئے غیر فعال طرزِ زندگی نے پاکستان سمیت دنیا بَھر میں فیٹی لیور اور ماش کے بڑھتے بوجھ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
دنیا اور پاکستان میں شرحِ پھیلاؤ
فیٹی لیور دنیا کی بالغ آبادی کے تقریباً30 سے38 فی صد افراد کو متاثر کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا میں جگر کی سب سے عام بیماری بن چُکی ہے۔ اس کی شرح اُن ممالک میں زیادہ ہے، جہاں موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابطیس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فیٹی لیور کے مریضوں میں سے تقریباً20 سے30 فی صد افراد ماش کا شکار ہو سکتے ہیں، جو بیماری کی زیادہ شدید اور خطرناک شکل ہے۔
پاکستان میں مختلف مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ25 سے40 فی صد بالغ افراد فیٹی لیور میں مبتلا ہو سکتے ہیں، جب کہ موٹاپے، ذیابطیس اور میٹابولک سینڈروم کے مریضوں میں یہ شرح زیادہ ہے۔ شہری آبادی میں اضافہ، غیر صحت بخش غذائی عادات اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی اِس بیماری کے پھیلاؤ کی اہم وجوہ ہیں۔
عوامل اور خطرے کے اسباب
فیٹی لیور اور ماش کے خطرے میں اضافہ کرنے والے عوامل میں شامل ہیں۔موٹاپا: خاص طور پر پیٹ کے گرد چربی کا زیادہ ہونا خطرے کا سب سے اہم عُنصر ہے۔ اضافی چربی جگر میں چربی جمع ہونے اور سوزش کا سبب بنتی ہے۔ ٹائپ ٹو ذیابطیس: ذیابطیس کے مریضوں میں فیٹی لیور اور ماش کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔ خون میں چکنائی کی خرابی (ڈس لپیڈیمیا): ٹرائی گلیسرائیڈز اور کولیسٹرول کی غیر معمولی سطح جگر میں چربی جمع ہونے کا باعث بنتی ہے۔
میٹابولک سینڈروم:موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر، ذیابطیس اور خون میں چکنائی کی خرابی کا مجموعہ بیماری کے خطرے کو بہت بڑھا دیتا ہے۔ غیر فعال طرزِ زندگی:باقاعدہ جسمانی سرگرمی کی کمی، وزن میں اضافے اور انسولین مزاحمت کا سبب بنتی ہے۔
غیر صحت بخش غذا: میٹھے مشروبات، ری فائنڈ کاربوہائیڈریٹس، پراسیسڈ فوڈز اور سیر شدہ چکنائیوں کا زیادہ استعمال خطرہ بڑھاتا ہے۔ جینیاتی عوامل:بعض موروثی تبدیلیاں بھی مختلف افراد کو فیٹی لیور اور اس کے ماش میں تبدیل ہونے کے لیے زیادہ حسّاس کر سکتی ہیں۔ دیگر عوامل: پولی سیسٹک اووری سینڈروم (PCOS)، نیند کے دوران سانس رُکنے کی بیماری، ہائپو تھائرائیڈ ازم اور بڑھتی عُمر بھی بیماری کے اہم عوامل ہیں۔
علامات
فیٹی لیور کو اکثر’’خاموش بیماری‘‘ کہا جاتا ہے کہ بہت سے مریض برسوں کسی واضح علامت کے بغیر رہتے ہیں۔ اِس بیماری کی علامات میں٭تھکن اور کم زوری ٭پیٹ کے دائیں اوپری حصّے میں ہلکا درد یا بے آرامی٭پیٹ بَھرنے یا پُھولنے کا احساس٭خون کے ٹیسٹ میں جگر کے انزائمز کا غیر معمولی طور پر بڑھ جانا وغیرہ شامل ہیں۔
اگر ماش اور جگر کا فائبروسز زیادہ بڑھ جائے، تو٭یرقان(جِلد اور آنکھوں کا پیلا ہونا)٭پیٹ میں پانی بَھر جانے٭ٹانگوں میں سوجن٭آسانی سے نیل پڑ جانے٭جگر کی خرابی کے باعث ذہنی الجھن٭اور خون کی قے آنے جیسی علامات سامنے آسکتی ہیں۔
تشخیص
فیٹی لیور کی تشخیص کے لیے عام طور پر مختلف ٹیسٹس کا مجموعہ استعمال کیا جاتا ہے، جن میں٭جگر کے افعال کے ٹیسٹ (ALT, AST)٭خون میں شوگر اورHbA1c شامل ہیں، جب کہ لپڈ پروفائل امیجنگ ٹیسٹس میں٭جگر کا الٹراساؤنڈ٭فائبرو اسکین٭ اور ضرورت پڑنے پر سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی شامل ہیں۔
یاد رہے، جگر کی بایوآپسی، ماش کی حتمی تشخیص اور جگر میں سوزش اور فائبروسز کی شدّت جانچنے کا سب سے معتبر طریقہ ہے، تاہم ہر مریض میں اِس کی ضرورت نہیں ہوتی۔
بچاؤ
اِس بیماری سے بچاؤ کا بنیادی مقصد میٹابولک صحت برقرار رکھنا ہے۔٭جسمانی وزن نارمل حد میں رکھنا خطرے کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔٭ہفتے میں کم از کم 150 منٹ درمیانی شدّت کی ورزش کی سفارش کی جاتی ہے۔٭سبزیوں، پھلوں، مکمل اناج، کم چکنائی والے پروٹین اور صحت بخش چکنائیوں پر مشتمل متوازن غذا استعمال کی جائے۔٭میٹھے مشروبات، فاسٹ فوڈ، پراسیسڈ غذاؤں اور ری فائنڈ کاربوہائیڈریٹس سے پرہیز کیا جائے۔٭خون میں شوگر اور کولیسٹرول مناسب سطح پر رکھنا بیماری کو بڑھنے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔٭موٹاپے، ذیابطیس یا میٹابولک سینڈروم کے شکار افراد کو وقتاً فوقتاً فیٹی لیور کی جانچ کروانی چاہیے۔
علاج
طرزِ زندگی میں تبدیلی علاج کی بنیاد ہے۔٭جسمانی وزن میں5 سے 10 فی صد کمی جگر کی چربی کم کر سکتی ہے۔٭اس سے زیادہ وزن کم کرنے سے جگر کی سوزش اور فائبروسز میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔٭ایروبک ورزش اور مزاحمتی ورزش دونوں جگر کی صحت کے لیے مفید ہیں۔ علاج کا اہم حصّہ متعلقہ میٹابولک بیماریوں کا مناسب کنٹرول ہے، جیسے:٭ذیابطیس کا مؤثر علاج٭خون میں چکنائی کی خرابی کا علاج٭ہائی بلڈ پریشر پر کنٹرول٭دل کی بیماریوں کے خطرات میں کمی۔
کچھ مخصوص مریضوں میں، جن میں بایوآپسی سے ماش کی تصدیق ہو یا بیماری کا خطرہ زیادہ ہو، یہ ادویہ استعمال کی جا سکتی ہیں:٭ Resmetirom، Pioglitazone،اور وٹامن ای۔شدید موٹاپے کے شکار افراد میں بیریاٹرک سرجری (وزن کم کرنے کی سرجری) فیٹی لیور اور ماش میں نمایاں بہتری لا سکتی ہے۔
جگر کی شدید بیماری کے مریضوں میں یہ اقدامات ضروری ہیں:٭جگر کے سرطان کی باقاعدہ نگرانی٭پورٹل ہائپرٹینشن کا علاج٭پیچیدگیوں کا مناسب انتظام٭آخری مرحلے کی بیماری میں جگر کی پیوندکاری پر غور۔
خلاصۂ کلام
فیٹی لیور اور ماش ایسی بیماریاں ہیں، جو موٹاپے، ذیابطیس اور میٹابولک خرابیوں میں اضافے کے باعث دنیا بَھر میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اگرچہ بہت سے مریضوں میں کوئی واضح علامات موجود نہیں ہوتیں، لیکن ماش جگر کے فائبروسز، سروسز، جگر کی فیلیئر اور جگر کے سرطان تک پہنچ سکتا ہے۔
بروقت تشخیص، طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی، وزن میں کمی، باقاعدہ ورزش اور میٹابولک خطرات کا مناسب علاج اِس بیماری کی روک تھام اور علاج کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ پاکستان اور دنیا بھر میں فیٹی لیور کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیشِ نظر عوامی آگاہی میں اضافہ اور مؤثر طبّی حکمتِ عملیوں کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ اِس بیماری کے طویل مدّتی نقصانات کم کیے جا سکیں۔
(مضمون نگار، ڈاکٹر ضیاء الدین یونی ورسٹی اسپتال، کلفٹن، کراچی کے شعبہ معدہ و جگر (گیسٹرو انٹرولوجی) سے منسلک ہیں)