• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسان نے صدیوں بیماریوں کا علاج تلاش کیا، دوا بنائی، جدید اسپتال قائم کیے اور پیچیدہ ترین طبّی مسائل حل کرنے کی کوشش کی، لیکن جدید سائنس کی ایک بڑی دریافت یہ ہے کہ صحت مند زندگی کا راز صرف بیماری کے بعد علاج میں نہیں، بلکہ بیماری سے پہلے جسم مضبوط بنانے میں بھی پوشیدہ ہے۔ آج دنیا ایک ایسے قدرتی نظام کی طرف متوجّہ ہو رہی ہے، جو ہر انسان کے اندر موجود ہے، مگر جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور وہ ہے، ہمارے اپنے پٹّھے۔

ایک وقت تھا، جب مضبوط جسم صرف طاقت، محنت یا جسمانی خُوب صورتی سے جوڑا جاتا تھا، لیکن اب سائنس نے ثابت کیا ہے کہ پٹّھے، انسانی صحت کا بنیادی ستون ہیں۔ یہ صرف جسم کو حرکت ہی نہیں دیتے، پورے جسم کے میٹابولزم، ہارمونز، مدافعتی نظام، دماغی صحت اور بڑھاپے کے عمل پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں ہونے والی تحقیقات نے دنیا کو پیغام دیا کہ لمبی اور صحت مند زندگی کے لیے صرف وزن یا کیلوریز کم کرنا کافی نہیں، بلکہ جسم میں مضبوط پٹّھوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ریزیسٹینس ٹریننگ یعنی وزن اُٹھانے یا جسم کو مزاحمت کے خلاف کام کروانے والی ورزش اب صرف کھلاڑیوں کے لیے نہیں رہی، بلکہ اسے صحت کے تحفّظ کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔ درحقیقت، مضبوط پٹّھے انسان کو صرف طاقت وَر ہی نہیں بناتے، بیماریوں کے خلاف زیادہ مزاحمت رکھنے والا جسم بھی فراہم کرتے ہیں۔

جدید زندگی کا مسئلہ: حرکت کی کمی

انسانی جسم حرکت کے لیے بنایا گیا تھا۔ ہمارے آباؤ اجداد کی زندگی میں جسمانی کام کاج یا مسلسل حرکت ایک معمول کا عمل تھا، لیکن جدید زندگی نے انسان کے معمولات مکمل طور پر بدل دیئے۔ آج دفتر میں کئی کئی گھنٹے کرسی پر بیٹھنا، موبائل اور کمپیوٹر کے سامنے وقت گزارنا، معمولی فاصلے کے لیے بھی گاڑی استعمال کرنا اور جسمانی سرگرمی کو زندگی سے نکال دینا عام ہے۔ یہ تبدیلی بظاہر آسان لگتی ہے، لیکن جسم کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

جب پٹّھوں کو مسلسل استعمال نہیں کیا جاتا، تو وہ کم زور ہونے لگتے ہیں۔ جسم کی توانائی خرچ کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، وزن بڑھنے لگتا ہے اور مختلف بیماریوں کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان جیسے مُلک میں یہ مسئلہ مزید اہم ہے کہ شہری زندگی میں جسمانی سرگرمی مسلسل کم ہو رہی ہے۔

نوجوان طبقہ بھی ایسی زندگی گزار رہا ہے، جس میں حرکت کم اور بیٹھنے کا عمل زیادہ ہے۔ یہی طرزِ زندگی’’ Sedimentary Life Style ‘‘ کہلاتا ہے۔ نتیجتاً وہ بیماریاں، جو پہلے بڑی عُمر میں نظر آتی تھیں، اب کم عُمر افراد میں بھی سامنے آنے لگی ہیں۔ ہارٹ اٹیک، بلڈ پریشر، شوگر اور موٹاپا اب صرف عُمر رسیدہ افراد کے مسائل نہیں رہے۔

جسم کے پٹّھے اور لمبی عُمر

دنیا بَھر میں لاکھوں افراد پر کی جانے والی تحقیقات نے ورزش اور لمبی عُمر کا تعلق واضح کیا ہے۔ خاص طور پر ریزیسٹینس ٹریننگ سے متعلق یہ بات سامنے آئی کہ جو افراد باقاعدگی سے پٹّھے مضبوط بنانے والی ورزش کرتے ہیں، اُن میں مجموعی صحت بہتر رہتی ہے اور کئی خطرناک بیماریوں کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کے لیے باڈی بلڈر بننا ضروری نہیں کہ ہر شخص جِم جا کر بھاری وزن اُٹھائے یا جسم کو غیر معمولی حد تک تبدیل کرے۔

اصل مقصد یہ ہے کہ جسم کے پٹّھے فعال رہیں اور اپنی قدرتی طاقت برقرار رکھیں۔ ہفتے میں چند دن مناسب ورزش، جس میں جسم کے بڑے پٹّھوں کو کام کروایا جائے، صحت پر گہرے اثرات مرتّب کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ صحت اب ورزش کو صرف فٹنس نہیں، بیماریوں سے بچاؤ کی حکمتِ عملی سمجھ رہے ہیں، اِسی لیے پٹّھے مضبوط رکھنا دراصل مستقبل کی صحت میں سرمایہ کاری ہے۔

پٹّھے، جسم کی قدرتی فارمیسی

جدید تحقیق نے پٹّھوں سے متعلق ایک حیران کُن حقیقت سامنے رکھی ہے۔ پٹّھے صرف حرکت اور طاقت ہی کے لیے نہیں، جسم کے اندر ایک کیمیائی نظام کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص ورزش کرتا ہے، تو پٹّھے ایسے مادّے خارج کرتے ہیں، جنہیں ’’مائیو کائنز‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ مادّے جسم میں مختلف مثبت تبدیلیوں کا باعث بنتے ہیں۔

یہ اندرونی سوزش کم کرنے، میٹابولزم بہتر بنانے اور جسم کا دفاعی نظام متحرّک رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ سوزش، جسم میں کئی دائمی بیماریوں کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، جب کہ امراضِ قلب، شوگر اور بعض دوسری بیماریاں جسم میں مسلسل رہنے والی سوزش سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایسے میں مضبوط اور فعال پٹّھے جسم کے لیے ایک قدرتی حفاظتی نظام کا کردار ادا کرتے ہیں۔

مضبوط دل کے لیے مضبوط پٹّھے

امراضِ قلب دنیا بَھر میں موت کی بڑی وجوہ میں شامل ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ امراض صحت کا بڑا مسئلہ بن چُکے ہیں۔ کم عُمری میں دل کے مسائل سامنے آنے کی ایک بڑی وجہ غیر متحرّک زندگی، خراب غذائی عادات اور جسمانی کم زوری ہے۔ ویٹ ٹریننگ اور ریزیسٹینس ورزش دل کے لیے کئی حوالوں سے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔

یہ جسم کی مجموعی فٹنس برقرار رکھنے، خون کی روانی بہتر بنانے اور بلڈ پریشر کے توازن میں مدد دیتی ہے،جب کہ جسم کو زیادہ مؤثر انداز میں توانائی استعمال کرنے کے قابل بھی بناتی ہے۔ مضبوط پٹّھے دل پر غیر ضروری بوجھ کم کرتے ہیں، کیوں کہ جسم روزمرّہ امور زیادہ آسانی سے انجام دینے لگتا ہے۔ دل کی حفاظت صرف ادویہ، ٹیسٹس اور علاج تک محدود نہیں، روزمرّہ عادات بھی اِس ضمن میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

پٹّھوں کی طاقت، ذیابطیس کے خلاف مضبوط ڈھال

دنیا بَھر میں ذیابطیس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان بھی اس بحران سے متاثر ہے۔ شوگر صرف ایک بیماری نہیں، پورا جسمانی نظام متاثر کرنے والی ایک کیفیت ہے، جس کا تعلق اکثر انسولین ریزیسٹینس سے ہوتا ہے۔ اِس حالت میں جسم کے خلیے انسولین کا اثر صحیح طرح قبول نہیں کرتے اور خون میں موجود شَکر کا استعمال متاثر ہونے لگتا ہے۔

یہاں پٹّھے ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں کہ جسم میں گلوکوز استعمال کرنے والے سب سے بڑے حصّوں میں پٹّھے شامل ہیں۔ جب پٹّھے فعال اور مضبوط ہوتے ہیں، تو وہ خون میں موجود شَکر کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اِسی لیے ورزش، خاص طور پر ریزیسٹینس ٹریننگ، شوگر کے مریضوں اور اُن افراد کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، جنہیں مستقبل میں ذیابطیس کا خطرہ ہو۔

مضبوط پٹّھے جسم کو انسولین کے لیے زیادہ حسّاس بناتے ہیں، جس سے شوگر کا توازن بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ذیابطیس کے مسئلے کو صرف دوا کے ذریعے نہیں دیکھا جا سکتا۔ طرزِ زندگی، غذا اور جسمانی سرگرمی بھی اہم ہیں کہ ایک فعال جسم بیماریوں کے خلاف زیادہ مضبوط دفاع رکھتا ہے۔

بڑھتی عُمر اور پٹّھوں کی کم زوری

عُمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں کئی قدرتی تبدیلیاں آتی ہیں، جن میں ایک اہم تبدیلی پٹّھوں کا بتدریج کم ہونا ہے۔ اِس عمل کو طبّی زبان میں’’سارکوپینیا‘‘ کہا جاتا ہے۔ اگر عُمر کے ساتھ پٹّھے فعال نہ رکھے جائیں، تو جسمانی طاقت کم ہونے لگتی ہے، توازن متاثر ہوتا ہے اور روزمرّہ کے کام مشکل محسوس ہونے لگتے ہیں۔ بڑھاپے میں اکثر مسئلہ صرف عُمر نہیں ہوتی، بلکہ کم زور جسم ہوتا ہے۔

کسی کم زور شخص کے لیے نیچے گرنا، ہڈی ٹوٹنا یا معمولی بیماری سے صحت یاب ہونا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے، لیکن جدید سائنس کے مطابق، عُمر بڑھنے کے باوجود پٹّھے مضبوط کیے جا سکتے ہیں۔ پچاس، ساٹھ بلکہ اِس بھی زیادہ عُمر میں مناسب طریقے سے شروع کی گئی ریزیسٹینس ٹریننگ جسمانی طاقت، توازن اور خود اعتمادی میں بہتری لا سکتی ہے۔ مقصد نوجوانی واپس لانا نہیں، بلکہ عُمر کے ہر مرحلے کو فعال اور خود مختار بنانا ہے۔

ہڈیاں، جوڑ اور جسم کا سہارا

مضبوط پٹّھے صرف طاقت ہی نہیں دیتے، پورے جسم کے ڈھانچے کو سہارا بھی دیتے ہیں۔ ہڈیاں اور پٹّھے ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ جب جسم پر مناسب دباؤ پڑتا ہے، جیسے وزن اُٹھانے والی ورزش میں ہوتا ہے، تو ہڈیاں، مضبوط ہونے کا عمل شروع کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریزیسٹینس ٹریننگ ہڈیوں کی کم زوری کا خطرہ کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔

عُمر کے ساتھ ہڈیوں کی کم زوری، جوڑوں کے مسائل اور گرنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔ ایسے میں مضبوط ٹانگوں، کمر اور جسم کے مرکزی حصّے کے پٹّھے، انسان کے لیے ایک قدرتی حفاظتی نظام بن جاتے ہیں۔ کمر کے درد اور جوڑوں کے کئی مسائل میں بھی اکثر کم زور پٹّھے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب جسم کو مناسب طاقت ملتی ہے، تو جوڑوں پر دباؤ کم ہوتا ہے اور حرکت آسان ہو جاتی ہے۔

دماغ اور پٹّھے

ایک عام تصوّر یہ ہے کہ ورزش صرف جسم میں تبدیلیاں لاتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جسم اور دماغ ایک دوسرے سے مکم مربوط ہیں۔ ریزیسٹینس ٹریننگ اور جسمانی سرگرمی دماغ میں ایسے عوامل پیدا کرتی ہے، جو یادداشت، توجّہ اور ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

ورزش کے دوران خارج ہونے والے کیمیکل موڈ بہتر، ذہنی دباؤ کم اور دماغی کارکردگی کو سہارا دینے میں مدد دیتے ہیں۔ دنیا میں ذہنی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں اور تحقیق بتا رہی ہے کہ جسمانی سرگرمی اِن مسائل سے نمٹنے کا ایک اہم حصّہ بن سکتی ہے، کیوں کہ مضبوط جسم اکثر مضبوط ذہن کی بنیاد بنتا ہے۔

خواتین اور ویٹ ٹریننگ

بہت سی خواتین وزن اُٹھانے والی ورزش سے ہچکچاتی ہیں۔ ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ ویٹ ٹریننگ سے جسم غیر فطری طور پر بڑا یا مردانہ ہو جائے گا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ خواتین کے جسم میں وہ ہارمونل ماحول نہیں ہوتا، جو عام ورزش سے بہت زیادہ مسلز بنانے کا باعث بنے۔ عام ریزیسٹینس ٹریننگ جسم کو مضبوط، متوازن اور صحت مند بناتی ہے۔

خواتین کے لیے، خاص طور پر عُمر بڑھنے کے بعد، ہڈیوں کی مضبوطی بہت اہم ہو جاتی ہے۔ ویٹ ٹریننگ جسمانی طاقت بڑھانے، توازن بہتر اور روزمرّہ زندگی میں اعتماد پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ صحت مند جسم کا مطلب صرف وزن کم ہونا نہیں، بلکہ طاقت، توانائی اور بہتر زندگی گزارنے کی صلاحیت بھی ہے۔

50 سال کی عُمر کے بعد

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر اُنہوں نے جوانی میں ورزش شروع نہیں کی، تو اب فائدہ نہیں ہوگا، لیکن سائنس اس سوچ کو رَد کرتی ہے۔50 سال کی عُمر کے بعد بھی جسم میں بہتری کی صلاحیت موجود رہتی ہے۔

فرق صرف یہ ہے کہ ورزش کا آغاز سمجھ داری، مناسب رفتار اور درست طریقے سے کرنا ضروری ہے۔ اِس عُمر میں مقصد زیادہ وزن اُٹھانا نہیں بلکہ پٹّھوں کو متحرّک رکھنا، توازن بہتر کرنا اور جسم مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔

مستقل مزاجی ضروری ہے

صحت مند پٹّھوں کے لیے منہگے جِم کی ضرورت نہیں۔ جسم کو مضبوط بنانے کا سفر گھر سے بھی شروع ہو سکتا ہے۔ کرسی سے اُٹھنے بیٹھنے کی ورزش، اسکواٹس، پش اپس، پلانک، پانی کی بوتل یا بیگ کو وزن کے طور پر استعمال کرنا اور باقاعدہ اسٹریچنگ جیسی سادہ سرگرمیاں بھی فائدہ دے سکتی ہیں کہ اصل کام یابی کسی خاص مشین یا منہگے سامان میں نہیں، مستقل مزاجی میں ہے۔ہفتے میں چند دن صرف کچھ وقت اپنے جسم کے لیے نکالنا مستقبل میں بڑی بیماریوں کے خطرات کم کرنے کی ایک اہم کوشش ہو سکتی ہے۔

غذا مضبوط جسم کی بنیاد

پٹّھے صرف ورزش سے نہیں بنتے۔ جسم کو بنانے کے لیے مناسب غذا بھی ضروری ہے۔ پروٹین، پٹّھوں کی تعمیر اور مرمّت کا بنیادی جزو ہے۔ متوازن غذا میں انڈے، دالیں، چکن، مچھلی، دودھ، دہی، چنے، لوبیا اور دیگر پروٹین سے بھرپور غذائیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔بہت کم کھانا یا بھوکا رہنا صحت کا راستہ نہیں۔

مضبوط جسم کے لیے مناسب توانائی، اچھی غذا، بہتر نیند اور باقاعدہ ورزش ضروری ہے۔ جسم ایک ایسا نظام ہے، جسے بہتر رکھنے کے لیے ہر حصّے کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

عام غلط فہمیاں

پٹّھے مضبوط بنانے والی ورزش سے متعلق معاشرے میں کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، جن کی وجہ سے بہت سے لوگ اِس فائدہ مند سرگرمی سے دُور رہتے ہیں۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ ویٹ ٹریننگ صرف نوجوانوں یا کھلاڑیوں کے لیے ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جسم مضبوط رکھنے کی ضرورت ہر عُمر کے انسان کو ہوتی ہے۔

بچپن، جوانی، درمیانی عُمر اور بڑھاپے، ہر مرحلے میں پٹّھوں کی صحت، زندگی کے معیار پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایک غلط فہمی یہ ہے کہ وزن اُٹھانے سے خواتین کا جسم غیر فطری، بے ڈول ہو جائے گا، جب کہ حقیقت میں عام ورزش خواتین کو مضبوط، متوازن اور صحت مند بناتی ہے۔

اِسی طرح بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ 40 یا 50 سال کی عُمر کے بعد ورزش شروع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، حالاں کہ تحقیق بتاتی ہے کہ بڑی عُمر میں بھی جسم میں تبدیلی اور بہتری کی صلاحیت موجود رہتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ورزش کو مقابلہ نہیں، صحت کی عادت سمجھنا چاہیے۔

ورزش شروع کرنے کا درست طریقہ

پٹّھے مضبوط بنانے کے لیے سب سے اہم چیز تسلسل ہے۔ شروع میں بہت زیادہ وزن اُٹھانے یا جسم پر ضرورت سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ جسم کو آہستہ آہستہ عادی بنایا جائے۔ ورزش کا مقصد چوٹ لگانا نہیں، جسم مضبوط بنانا ہے۔

درست طریقے، مناسب تیکنیک اور صبر کے ساتھ کی گئی ورزش ہی بہترین نتائج دیتی ہے۔ وارم اَپ، مناسب حرکت، جسم کی کیفیت سمجھنا اور آرام کا وقت ضروری ہے۔ پٹّھے ورزش کے دوران نہیں، ورزش کے بعد آرام کے وقت مضبوط ہوتے ہیں۔ اِسی لیے جسم کو وقت دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے، جتنا ورزش کرنا۔

بیماری سے پہلے صحت کی حفاظت

جدید دنیا کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ صحت کو اُس وقت اہمیت دیتے ہیں، جب بیماری آ چُکی ہوتی ہے۔ اسپتال، ادویہ اور علاج ضروری ہیں، لیکن بیماریوں سے پہلے جسم مضبوط بنانا ایک زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔ ایک مضبوط جسم بیماری کے اثرات کا بہتر مقابلہ کر سکتا ہے۔ مضبوط پٹّھے، بہتر توازن، اچھی جسمانی صلاحیت اور فعال زندگی انسان کو بڑھتی عُمر میں بھی زیادہ خود مختار رکھ سکتی ہے۔ صحت صرف بیماری نہ ہونے کا نام نہیں، توانائی، طاقت اور بہتر زندگی گزارنے کی صلاحیت کا نام ہے۔

پاکستان جیسے مُلک میں جہاں دل کی بیماریاں، ذیابطیس اور طرزِ زندگی سے مشروط بیماریاں بڑھ رہی ہیں، جسمانی سرگرمی کو روزمرّہ زندگی کا حصّہ بنانا بہت ضروری ہے۔ ہم علاج پر خرچ کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، لیکن اپنی صحت کے لیے وقت نکالنے میں ہچکچاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ روزانہ کی چھوٹی چھوٹی عادات مستقبل کی صحت کا فیصلہ کرتی ہیں۔

صرف چند منٹ کی ورزش، بہتر غذا اور فعال زندگی کئی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ یاد رکھیں، صحت کا سفر کسی ایک دن کا فیصلہ نہیں، روزانہ کی چھوٹی کوششوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ سائنس کا پیغام واضح ہے کہ پٹّھے صرف جسم کی خُوب صُورتی یا طاقت کا نشان نہیں، بلکہ زندگی کی حفاظت کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ مضبوط جسم انسان کو بہتر حرکت، توازن، میٹابولزم اور بیماریوں کے خلاف زیادہ طاقت فراہم کرتا ہے۔

ہم اپنی گاڑی، موبائل اور دوسری چیزوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں تاکہ وہ زیادہ عرصہ چلیں، لیکن سب سے قیمتی چیز، یعنی اپنا جسم نظر انداز کر دیتے ہیں۔ہفتے کے168 گھنٹوں میں سے کچھ وقت اپنے جسم کے لیے نکالنا کوئی بڑی قربانی نہیں۔ یہ وقت دراصل اپنی زندگی کے معیار، اپنے خاندان اور مستقبل کے لیے ایک سرمایہ کاری ہے۔

دوا بیماری کے بعد مدد کرتی ہے، لیکن مضبوط پٹّھے بیماری سے پہلے جسم کو تیار کرتے ہیں۔ اپنے پٹّھے مضبوط بنائیں کہ یہی وہ خاموش محافظ ہیں، جو آپ کو ایک لمبی، فعال اور بہتر زندگی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

(مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، محکمۂ صحت، سندھ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید