دماغی امراض کی تشخیص، علاج اور نگہداشت تک رسائی آج بھی دنیا کے بیشتر حصوں میں غیر مساوی اور غیر مربوط ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں ہر دس لاکھ افراد کے لیے ایک نیورولوجسٹ ہے، جبکہ محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں مریضوں کو علامات ظاہر ہونے سے لے کر کسی ماہرِ دماغی امراض سے باقاعدہ تشخیص حاصل کرنے تک اوسطاً پانچ سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔
دماغی صحت تک مساوی رسائی آج ایک عالمی مسئلہ ہے۔ پاکستان سمیت کم آمدنی والے ممالک میں صورتِ حال مزید تشویشناک ہے، جہاں فی کس آبادی کے لحاظ سے نیورولوجسٹ کی تعداد امیر ممالک کے مقابلے میں 227 گنا کم ہے، تاہم صرف کم آمدنی والے ممالک ہی نہیں، ترقی یافتہ ممالک بھی مہنگا علاج، بنیادی طبی سہولیات اور ماہرین کی کمی، نیز صحت کے نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
سائنسی شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنے اور ایسے خطراتی عوامل پر قابو پانے سے، جن میں تبدیلی ممکن ہو، دماغی صحت کو نمایاں طور پر بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مؤثر احتیاطی تدابیر، عوامی شعور، مقامی سطح پر مضبوط صحت کی پالیسیاں اور وسائل کی دستیابی دنیا کے ہر خطے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔
دماغی صحت صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ معاشرتی اور اقتصادی ترقی کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔ صحت مند دماغ بہتر تعلیم، تخلیقی صلاحیتوں، اختراع، پیشہ ورانہ کارکردگی اور مضبوط سماجی تعلقات کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اس کے برعکس، دماغی صحت کو نظر انداز کرنے کے نتائج نہ صرف متاثرہ فرد بلکہ پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں، جس سے افراد کی سماجی شمولیت محدود ہوتی ہے اور صحت و سماجی خدمات پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ یہ مسائل تشخیص اور علاج میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں، جس کے نتیجے میں مریض بروقت علاج نہیں کر پاتے۔
دماغی صحت میں سرمایہ کاری درحقیقت انسانوں میں سرمایہ کاری ہے۔ یہ افراد کو اپنی مکمل صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرتی ہے اور ایسے صحت مند، مضبوط اور پائیدار معاشروں کی تشکیل میں مدد دیتی ہے جو مستقبل کے چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔ اس وقت دنیا کی 42 فیصد سے زائد آبادی، یعنی تقریباً 3.4 ارب افراد، کسی نہ کسی دماغی عارضے کا شکار ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یہ امراض آج دنیا بھر میں معذوری اور خراب صحت کی سب سے بڑی وجہ بن چکے ہیں۔دنیا بھر میں دماغی امراض تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ (11 ملین) افراد کی جان لے لیتے ہیں۔
کئی خطوں میں مرگی کے ہر پانچ مریضوں میں سے چار افراد کسی بھی قسم کا علاج حاصل نہیں کر پاتے، حالانکہ مؤثر بنیادی ادویات سالانہ پانچ امریکی ڈالر سے بھی کم لاگت میں دستیاب ہیں۔
ان بیماریوں کی وجہ سے عالمی معیشت پر سالانہ تقریباً 5 کھرب امریکی ڈالر کا بوجھ پڑ رہا ہے۔ اگر احتیاطی اقدامات اور بروقت علاج تک رسائی کو وسعت نہ دی گئی تو یہ اخراجات مستقبل میں قومی صحت کے نظاموں کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ تحقیقی شواہد کے مطابق 90 فیصد تک فالج ایسے خطراتی عوامل سے منسلک ہیں جن پر قابو پایا جا سکتا ہے، مثلاً:
• بلند فشارِ خون
• خون میں چکنائی کی زیادتی اور دیگر خطراتی عوامل سادہ طبی نگہداشت اور بروقت احتیاطی اقدامات کے ذریعے لاکھوں افراد کو دماغی فالج و مستقل معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔
ڈیمینشیا
اس وقت دنیا کے صرف 32 فیصد ممالک کے پاس دماغی صحت سے متعلق قومی پالیسی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے’’ Intersectoral Global Action Plan on Epilepsy and Other Neurological Disorders ‘‘کے تحت 2031 کے اہداف حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر ملک دماغی صحت کو اپنی قومی ترجیحات میں شامل کرے اور ’’سب کے لیے مساوی رسائی‘‘ کو عملی شکل دینے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
ورلڈ فیڈریشن آف نیورولوجی نے اپنی چھ علاقائی تنظیموں کے اشتراک سے درج ذیل ترجیحات کا تعین کیا ہے:
دماغی صحت کو قومی اور عالمی ترجیحات میں شامل کرنا دماغی صحت کو عوامی مباحثے اور صحت عامہ کی پالیسیوں کا مؤثر حصہ بنایا جائے، تاکہ دماغی بیماریوں سے وابستہ غلط فہمیوں اور سماجی بدنامی (Stigma) کا خاتمہ ہو اور عوام میں درست آگاہی پیدا کی جا سکے۔
مقامی سطح پر طبی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا
صحت کی معیاری سہولیات اس وقت مؤثر ثابت ہوتی ہیں جب وہ صحیح وقت پر، صحیح مقام پر اور صحیح افراد تک پہنچیں۔ زندگی کے ہر مرحلے میں دماغی صحت کا تحفظ بیماری ظاہر ہونے کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے شروع ہونا چاہیے۔
اس مقصد کے لیے سائنسی شواہد پر مبنی اقدامات، جیسے نوجوانی اور بڑھاپے میں صحت مند طرزِ زندگی، جسمانی سرگرمی ، مناسب نیند، صاف اور صحت بخش ماحول کو فروغ دینا ضروری ہے، تاکہ زندگی کے ہر مرحلے میں دماغی صحت محفوظ رہ سکے۔ اعصابی طبی خدمات میں موجود خلا کو ختم کرنا ،ہر فرد کو بروقت، مسلسل اور قابلِ برداشت لاگت پر اعصابی طبی سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
اس میں ضروری ادویات، تشخیصی سہولیات، بحالی کی خدمات اور معاون طبی آلات تک مساوی رسائی کو یقینی بنانا شامل ہے۔ آگاہی کو مؤثر پالیسی میں تبدیل کرنا دماغی صحت کے فروغ کے لیے مضبوط قیادت، مؤثر احتساب اور پائیدار حکومتی پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ دماغی صحت کو یونیورسل ہیلتھ کوریج، قومی صحت کی منصوبہ بندی اور جامع تحقیقی پروگراموں کا مستقل حصہ بنایا جا سکے۔