• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیماری ہمیشہ سے انسان کی زندگی کا حصّہ رہی ہے۔ زمانے بدلتے رہے، تہذیبیں ترقّی کرتی رہیں، علاج کے طریقے جدید سے جدید تر ہوتے گئے، مگر ایک حقیقت کبھی تبدیل نہیں ہوئی کہ علاج سے زیادہ مؤثر اور کم خرچ راستہ، بیماری سے پہلے بچاؤ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اکیسویں صدی میں عالمی ادارۂ صحت (WHO)، طبّی جامعات اور پبلک ہیلتھ کے ماہرین اپنی توجّہ علاج سے زیادہ ’’Preventive Medicine‘‘ یا’’طبِ وقائی‘‘ پر مرکوز کر رہے ہیں۔ یہ طب کی وہ شاخ ہے، جس کا مقصد بیماری پیدا ہونے سے پہلے اس کی روک تھام، صحت برقرار رکھنا، بیماریوں کے خطرات کم کرنا اور صحت بخش طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہے۔

اس میں ویکسی نیشن، حفظانِ صحت، متوازن غذا، جسمانی سرگرمی، باقاعدہ طبّی معائنہ، بیماریوں کی جلد تشخیص، صاف پانی، ماحولیاتی تحفّظ اور عوامی صحت کی آگاہی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ویسے اگر دیکھا جائے، تو اسلام نے صدیوں پہلے ہی اِس فلسفے کو انسانی زندگی کا بنیادی اصول قرار دے دیا تھا۔

اسلام انسان کو صرف عبادات ہی نہیں سِکھاتا، مکمل طرزِ زندگی عطا کرتا ہے، جس میں جسمانی، ذہنی، روحانی اور معاشرتی صحت کو یک ساں اہمیت حاصل ہے۔ قرآنِ کریم انسان کی جان، صحت اور تن درستی کے تحفّظ کو بنیادی انسانی ذمّے داری قرار دیتا ہے۔ وہ ایسے اصول عطا کرتا ہے، جن پر عمل کرکے انسان خُود کو بے شمار بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے اور یہی اصول آج’’ طبِ وقائی‘‘ کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔

قرآنِ کریم انسان کو بار بار اِس امر کی طرف متوجّہ کرتا ہے کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہے، جس کی حفاظت انسان کی ذمّے داری ہے۔ وہ خبردار کرتا ہے کہ انسان ایسے اعمال و عادات سے بچے، جو اُسے ہلاکت یا نقصان کی طرف لے جائیں۔ مفسّرین لکھتے ہیں کہ اِس ہدایت کا دائرہ صرف جنگ یا مالی معاملات تک محدود نہیں، بلکہ ہر وہ طرزِ زندگی بھی اس میں شامل ہے، جو انسان کی جان اور صحت کے لیے نقصان دہ ہو۔

آج کے دَور کی یہ تمباکو نوشی، منشیات، غیر متوازن غذا کا استعمال، جسمانی سُستی، آلودہ ماحول اور دیگر غیر صحت مند عادات اِسی قرآنی تنبیہہ کے برخلاف مظاہر ہیں۔ اِسی طرح قرآنِ کریم غذا سے متعلق ایک نہایت متوازن اصول پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو کھانے پینے کی نعمتوں سے فائدہ اُٹھانے کی اجازت دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی اسراف اور حد سے تجاوز سے منع فرماتا ہے۔

یہ محض اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ صحت کا ایک ایسا سنہری اصول ہے، جسے جدید غذائی سائنس بھی تسلیم کرتی ہے۔ آج موٹاپا، ذیابطیس، فیٹی لیور، بلند فشارِ خون اور امراضِ قلب کی ایک بڑی وجہ ضرورت سے زیادہ کھانا اور غیر متوازن غذا ہے۔ یوں قرآن کا اعتدال کا پیغام، جدید غذائی تحقیق سے مکمل ہم آہنگ دِکھائی دیتا ہے۔ قرآنِ پاک پاکیزگی کو بھی ایک مستقل انسانی وصف کے طور پر پیش کرتا ہے۔

مختلف مقامات پر واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے، جب کہ وضو، غسل اور ظاہری طہارت کے احکام بھی اِسی مقصد کا حصّہ ہیں۔ جدید طب بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ ہاتھوں کی صفائی، صاف پانی، ذاتی حفظانِ صحت اور صاف ماحول متعدّی بیماریوں کا پھیلاؤ روکنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

لباس کی پاکیزگی پر قرآنِ پاک کا زور بھی صرف ظاہری خُوب صُورتی کے لیے نہیں، بلکہ انسانی صحت اور معاشرتی پاکیزگی کے لیے ہے۔ صاف لباس، صاف بستر، صاف رہائش اور صاف ماحول جراثیم کا پھیلاؤ محدود کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے بنیادی اصولوں میں صفائی اور جراثیم سے پاک ماحول کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

قرآنِ کریم میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو۔مفسّرین اِس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اِس فساد میں صرف اخلاقی یا سماجی نہیں، ماحول کی آلودگی، پانی کی خرابی، گندگی، وسائل کا زیاں اور انسانی زندگی کے لیے نقصان دہ رویّے بھی شامل ہیں۔

موجودہ دَور میں فضائی آلودگی، آلودہ پانی، صنعتی فضلہ، پلاسٹک کی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریاں اِس قرآنی ہدایت کی اہمیت کو مزید واضح کرتی ہیں۔ اسلام کا تصورِ صحت جسم کے ساتھ، ذہنی و روحانی توازن کو بھی ضروری قرار دیتا ہے۔ قرآن پاک بار بار اطمینانِ قلب، صبر، شُکر، اُمید اور اللہ پر توکل کی تعلیم دیتا ہے۔

جدید نفسیات اور طب بھی اِس امر پر متفّق ہیں کہ مسلسل ذہنی دباؤ، اضطراب اور بے چینی نہ صرف ذہنی بیماریوں، بلکہ دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، ذیابطیس اور کم زور قوّتِ مدافعت کا سبب بن سکتے ہیں۔ اِس اعتبار سے قرآن کا روحانی نظام بھی طبِ وقائی کا ایک اہم ستون نظر آتا ہے۔ غور کیا جائے، تو قرآنِ کریم بیماریوں کی تفصیلات بیان کرنے کی بجائے اُن اسباب کے خاتمے کی تعلیم دیتا ہے، جو بیماریوں کو جنم دیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس کی تعلیمات صفائی، اعتدال، ذمّے داری، پاکیزگی، متوازن غذا، ماحول کے تحفّظ اور ذہنی سکون جیسے بنیادی اصولوں کے گرد گھومتی ہیں۔ آج اِنہی اصولوں کو جدید پبلک ہیلتھ، کمیونٹی میڈیسن اور طبِ وقائی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اسلام کا یہ جامع تصوّر اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ صحت صرف ڈاکٹر، دوا یا اسپتال ہی کی نہیں، ہر فرد کی اپنی ذمّے داری بھی ہے۔

طبِ نبویؐ اور بیماریوں سے بچاؤ کا سائنسی فلسفہ

قرآنِ کریم نے صحت کے بنیادی اصول اور انسانی جان کے تحفّظ کا جامع تصوّر پیش کیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ کی سنّتِ مبارکہ اِن اصولوں کی عملی تشریح بن کر سامنے آتی ہے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات صرف علاج معالجے تک محدود نہیں تھیں، بلکہ ان کا ایک بڑا حصّہ بیماریوں سے پہلے بچاؤ، صحت بخش عادات کے فروغ، معاشرے کو وباؤں اور متعدّی امراض سے محفوظ رکھنے پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا، جسے’’ Preventive Medicine، Public Health ‘‘اور’’ Community Medicine ‘‘کے نام سے جانتی ہے، اس کے بنیادی اصول سیرتِ نبوی ﷺ میں نمایاں طور پر دِکھائی دیتے ہیں۔

طبِ نبویؐ کا ایک اہم امتیاز یہ ہے کہ اس میں فرد کی صحت کو معاشرے کی صحت سے الگ نہیں دیکھا گیا۔ اگر ایک شخص کی لاپروائی دوسروں کی بیماری کا سبب بن سکتی ہے، تو اسلام اسے صرف ذاتی معاملہ نہیں سمجھتا، بلکہ اجتماعی ذمّے داری قرار دیتا ہے۔ یہی تصوّر جدید پبلک ہیلتھ کا بنیادی ستون ہے، جہاں ایک فرد کا رویّہ پوری آبادی کی صحت پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

وباؤں کے دوران قرنطینہ

جب دنیا کووِڈ-19کی وَبا سے دوچار ہوئی، تو قرنطینہ، آئسولیشن، سفری پابندیوں اور سماجی فاصلے جیسے اقدامات ہر مُلک کی پالیسی کا حصّہ بن گئے۔ بہت سے طبّی ماہرین نے اِس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ اسلام نے صدیوں پہلے وباؤں سے متعلق نہایت متوازن اور سائنسی اصول پیش کیے تھے۔رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق، اگر کسی علاقے میں طاعون پھیل جائے، تو وہاں موجود لوگ اُس علاقے سے باہر نہ جائیں اور باہر کے لوگ وہاں داخل نہ ہوں۔

اِس ہدایت کا مقصد صرف انفرادی حفاظت نہیں، بلکہ بیماری کے پھیلاؤ کی زنجیر توڑنا تھا۔ آج وبائی امراض کے ماہرین اِسی اصول کو Containment اور Quarantine کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ یہ تعلیم اِس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ اسلام میں آزادی کے ساتھ ذمّے داری بھی لازم ہے۔ اگر کسی شخص کی نقل و حرکت دوسروں کی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، تو احتیاط اختیار کرنا دینی اور انسانی، دونوں اعتبار سے ضروری ہے۔

صفائی عبادت بھی، حفاظت بھی

رسول اللہ ﷺ کی روزمرّہ زندگی کا ایک نمایاں وصف غیر معمولی صفائی تھا۔ وضو، غسل، مسواک، ناخن تراشنا، جسم کی صفائی، کپڑوں کی پاکیزگی اور ماحول کی صفائی کو آپ ﷺ نے بے حد اہمیت دی۔ اس کا مقصد صرف عبادات کی تیاری نہیں، بلکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا تھا، جہاں بیماریوں کے امکانات کم سے کم ہوں۔

جدید طبّی سائنس بتاتی ہے کہ ہاتھ دھونا دنیا بَھر میں متعدّی بیماریوں کی روک تھام کا سب سے سَستا اور مؤثر ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کا آغاز بھی ہاتھوں کی صفائی سے کیا جاتا ہے۔

اِس اعتبار سے دیکھا جائے، تو روزانہ کئی مرتبہ وضو کرنے والا مسلمان غیر شعوری طور پر حفظانِ صحت کے ایک مضبوط نظام پر عمل کر رہا ہوتا ہے۔ مسواک سے متعلق بھی جدید ڈینٹل ریسرچ ثابت کر چکی کہ دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی صرف منہ تک محدود فائدہ نہیں دیتی، بلکہ دل، ذیابطیس اور دیگر بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ منہ کی صفائی باقاعدگی سے کی جائے۔

نبوی تعلیمات اور جدید غذائی سائنس

انسانی صحت کا خوراک سے اہم تعلق ہے۔ آج دنیا میں لاکھوں افراد بھوک سے نہیں، بلکہ ضرورت سے زیادہ، غیر متوازن اور ناقص غذا کے باعث بیمار ہو رہے ہیں۔ موٹاپا، ذیابطیس، بلند فشارِ خون، دل کے امراض اور بعض اقسام کے سرطان کا تعلق طرزِ زندگی سے جوڑا جا رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے غذا سے متعلق نہایت جامع اصول بیان فرمایا کہ انسان اپنے معدے کا ایک حصّہ کھانے، ایک حصّہ پانی اور ایک حصّہ سانس کے لیے چھوڑ دے۔

جدید تحقیق تائید کرتی ہے کہ حد سے زیادہ کھانا جسم کے تقریباً ہر نظام پر منفی اثرات مرتّب کرتا ہے۔ اِسی طرح آپ ﷺ نے کھانے میں سادگی، حلال و پاکیزہ غذا، فضول خرچی سے اجتناب اور شُکر گزاری کی تعلیم دی۔ آج غذائی ماہرین بھی قدرتی اور متوازن غذا کو صنعتی، زیادہ چکنائی، نمک اور شَکر والی خوراک پر ترجیح دینے کی سفارش کرتے ہیں۔

نیند، آرام اور جسمانی توازن

جدید طب کے مطابق مناسب نیند، انسانی صحت کی بنیادی ضرورت ہے۔ نیند کی کمی قوّتِ مدافعت کو کم زور، ذہنی کارکردگی کو متاثر اور دل کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

سیرتِ نبوی ﷺ سے معلوم ہوتا ہے کہ رات کو جلد سونا، صبح جلد بے دار ہونا اور دن میں مختصر قیلولہ، معمولاتِ زندگی کا حصّہ تھا۔ یہ طرزِ زندگی انسانی جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔

جسمانی سرگرمی اور فعال زندگی

اسلام نے کاہلی کو پسند نہیں کیا۔ نبی کریم ﷺ نے پیدل چلنے، جسمانی مشقّت، تیر اندازی، گھڑ سواری اور تیراکی جیسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ مقصد یہ تھا کہ انسان جسمانی طور پر فعال رہے۔ آج غیر متعدّی بیماریوں کے بڑھتے بوجھ کے پیشِ نظر طبّی ماہرین بھی باقاعدہ ورزش اور جسمانی سرگرمی کو صحت مند زندگی کا لازمی جزو قرار دیتے ہیں۔

دفتر، گاڑی اور اسکرین تک محدود طرزِ زندگی نے نئی نسل میں موٹاپے اور میٹابولک بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے، جن سے بچاؤ کے لیے فعال زندگی ناگزیر ہے۔

علاج بھی، احتیاط بھی

اسلام بیماری سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے، لیکن اگر بیماری لاحق ہو جائے، تو علاج سے بھی منع نہیں کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے علاج اختیار کرنے کی ترغیب دی اور واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کے ساتھ اس کا علاج بھی پیدا فرمایا ہے، البتہ انسان کا علم محدود ہو سکتا ہے۔ یہ تعلیم اِس غلط تصوّر کی نفی کرتی ہے کہ صرف دُعا یا صرف دوا کافی ہے۔

اسلامی نقطۂ نظر میں احتیاط، دُعا، علاج، تحقیق اور طبّی مہارت سب ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ طبِ نبویؐ کا یہی متوازن انداز اسے ہر دَور کے لیے قابلِ عمل بناتا ہے۔ یہ نہ تو جدید سائنسی تحقیق سے متصادم ہے اور نہ ہی انسان کو اسباب اختیار کرنے سے روکتا ہے، بلکہ انسان کو صحت کی حفاظت، بیماری سے بچاؤ اور ضرورت پڑنے پر علاج کے تمام جائز ذرائع اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

پاکستان کے لیے طبِ وقائی کی ناگزیر اہمیت

اکیسویں صدی میں طب کی حیرت انگیز ترقّی نے علاج کے بے شمار جدید ذرائع فراہم کیے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹک سرجری، جینیاتی تشخیص، جدید ویکسینز اور نت نئی ادویہ نے کئی بیماریوں کے علاج میں نمایاں کام یابیاں حاصل کی ہیں، لیکن اِس تمام تر ترقّی کے باوجود عالمی سطح پر صحت کا سب سے بڑا چیلنج اب بھی بیماریوں کی روک تھام ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت، اقوامِ متحدہ اور دنیا کے ممتاز طبّی تحقیقی ادارے مسلسل اِس امر پر زور دے رہے ہیں کہ نظامِ صحت کا مرکز علاج سے زیادہ طبِ وقائی ہونا چاہیے۔ عالمی ادارۂ صحت کی تازہ رپورٹس کے مطابق، دنیا میں ہونے والی تقریباً 75فی صد اموات غیر متعدّی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

ان بیماریوں میں دل کے امراض، فالج، سرطان، ذیابطیس اور سانس کی دائمی بیماریاں نمایاں ہیں۔ صرف 2021ء کے دَوران تقریباً4 کروڑ 30 لاکھ افراد ان بیماریوں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب کہ ان میں سے ایک کروڑ80 لاکھ افراد کی عُمریں70 برس سے بھی کم تھیں۔ تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ ان قبل از وقت اموات کی اکثریت کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں واقع ہوئی، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

ان اعداد و شمار کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان بیماریوں کی ایک بڑی تعداد کو صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرکے روکا جا سکتا ہے۔ تمباکو نوشی سے اجتناب، متوازن غذا، جسمانی سرگرمی، مناسب نیند، ذہنی دباؤ میں کمی، صاف ماحول اور بروقت طبّی معائنے جیسے اقدامات لاکھوں زندگیاں بچا سکتے ہیں۔ یہی وہ اصول ہیں، جنہیں اسلام نے صدیوں پہلے معمولِ زندگی بنانے کی تعلیم دی۔

موٹاپا: خاموش عالمی وَبا

کبھی بھوک کو دنیا کا سب سے بڑا غذائی مسئلہ سمجھا جاتا تھا، مگر آج موٹاپا بھی ایک عالمی وَبا کی شکل اختیار کر چُکا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2022ء میں دنیا کے43 فی صد بالغ افراد زائد وزن کا شکار تھے، جب کہ16فی صد بالغ افراد موٹاپے میں مبتلا تھے۔ یہ صرف ظاہری شکل کا مسئلہ نہیں بلکہ امراضِ قلب، ذیابطیس، جوڑوں کی بیماریوں، بعض اقسام کے سرطان، گُردوں کے امراض اور ذہنی مسائل کے خطرات میں نمایاں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

یہ صُورتِ حال رسول اللہ ﷺ کی اُس تعلیم کی اہمیت کو مزید واضح کرتی ہے، جس میں کھانے میں اعتدال اور ضرورت سے زیادہ نہ کھانے کی تلقین کی گئی۔ جدید غذائی سائنس بھی اب کیلوریز کے توازن، مناسب غذا اور اعتدال کو صحت مند زندگی کی بنیاد قرار دیتی ہے۔

متعدّی بیماریاں ابھی ختم نہیں ہوئیں

اگرچہ غیر متعدی بیماریوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے، لیکن متعدّی بیماریاں بھی اب تک دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ کووِڈ-19 نے ثابت کر دیا کہ ایک نئی بیماری چند ہفتوں میں پوری دنیا کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ملیریا، تپِ دق(ٹی بی)، ڈینگی، ہیپاٹائٹس اور دیگر متعدّی امراض اب بھی لاکھوں افراد کی زندگیاں متاثر کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان بیماریوں کی روک تھام کے لیے صاف پانی، مناسب نکاسیٔ آب، حفظانِ صحت، ویکسی نیشن، بروقت تشخیص اور عوامی آگاہی بنیادی ستون ہیں۔ یہ تمام عناصر طبِ وقائی کا حصّہ ہیں اور اسلامی تعلیمات میں بھی صفائی، احتیاط اور اجتماعی ذمّے داری پر زور دیا گیا ہے۔

پاکستان کو دُہرے چیلنج کا سامنا

پاکستان اِس وقت صحت کے ضمن میں دو بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک طرف ڈینگی، ملیریا، تپِ دق، ہیپاٹائٹس اور دیگر متعدّی بیماریاں موجود ہیں، جب کہ دوسری طرف ذیابطیس، بلند فشارِ خون، دل کے امراض، موٹاپا اور گُردوں کی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

شہروں میں تیزی سے بڑھتی آلودگی، فاسٹ فوڈز کا بڑھتا استعمال، جسمانی سرگرمیوں میں کمی، ذہنی دباؤ، تمباکو نوشی، میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال اور بے ترتیب طرزِ زندگی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دوسری جانب، دیہات میں صاف پانی، بنیادی صحت کی سہولتوں اور صحت سے متعلق آگاہی کی کمی بھی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتی ہے۔

طبِ وقائی صرف ڈاکٹر کی ذمّے داری نہیں

جدید پبلک ہیلتھ اِس امر پر زور دیتی ہے کہ صحت صرف اسپتال یا ڈاکٹر کی ذمّے داری نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی ذمّے داری ہے۔ حکومت کی مؤثر پالیسیز، تعلیمی اداروں میں صحت کی تعلیم، میڈیا کے ذریعے آگاہی، محفوظ خوراک، صاف پانی، ماحولیاتی تحفّظ اور ہر فرد کا ذمّے دارانہ طرزِ عمل مل کر ہی بیماریوں کی روک تھام ممکن بناتے ہیں۔

اسلام بھی یہی تصوّر پیش کرتا ہے کہ انسان صرف اپنی ذات ہی نہیں، دوسروں کی جان، صحت اور سلامتی کا بھی ذمّے دار ہے۔ اگر کسی شخص کی لاپروائی دوسروں کے لیے نقصان کا باعث بنتی ہے، تو وہ اخلاقی اور دینی اعتبار سے جواب دہ ہے۔

صحت یا بیماری پر خرچ؟

ماہرینِ معاشیات متفّق ہیں کہ علاج معالجے پر خرچ ہونے والی رقم کا ایک حصّہ اگر بیماریوں کی روک تھام پر صَرف کیا جائے، تو اس کے نتائج کہیں زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔ ایک صحت مند فرد زیادہ بہتر انداز میں تعلیم حاصل کرتا ہے، زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے، قومی معیشت میں زیادہ حصّہ ڈالتا ہے اور نظامِ صحت پر کم بوجھ بنتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ترقّی یافتہ ممالک اب بیماری کے علاج کے ساتھ صحت مند طرزِ زندگی، ویکسی نیشن، اسکریننگ پروگرامز، غذائی اصلاحات، تمباکو نوشی کے خلاف مہمّات اور عوامی آگاہی پر بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

اِن تمام حقائق کا تقابلی جائزہ لیا جائے، تو واضح ہوتا ہے کہ طبِ وقائی محض ایک طبّی اصطلاح نہیں، بلکہ ایک ایسا جامع فلسفہ ہے، جو فرد، خاندان، معاشرے اور ریاست، سب کو اپنی ذمّے داریوں کا احساس دِلاتا ہے۔ اسلام نے جس صحت مند طرزِ زندگی کی دعوت دی تھی، آج جدید طبّی سائنس اُسی سمت دنیا کی رہنمائی کر رہی ہے۔

صحت مند معاشرے کی تعمیر اور مستقبل کا لائحۂ عمل

جب تک صحت کو صرف اسپتال، ڈاکٹر یا دوا تک محدود رکھا جائے گا، بیماریوں کا بوجھ کم نہیں ہو سکے گا۔ لیکن اگر صحت کو ایک سماجی ثقافت بنا دیا جائے، تو علاج کی ضرورت بھی کم ہو گی اور معاشرہ زیادہ توانا، خوش حال اور پیداواری صلاحیت کا حامل بنے گا۔

اسلام اِسی اجتماعی شعور کی بنیاد رکھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی، جہاں صفائی ستھرائی، نظم و ضبط، پاکیزگی، اعتدال، دوسروں کے حقوق کا احترام اور اجتماعی ذمّے داری روزمرّہ زندگی کا حصّہ تھے۔ یہی وہ عناصر ہیں، جنہیں آج جدید پبلک ہیلتھ ،کام یاب نظامِ صحت کی بنیاد قرار دیتی ہے۔

حکومت اور ریاست کا کردار

اسلامی تعلیمات میں ریاست کو عوام کی جان و مال کے تحفّظ کا ذمّے دار قرار دیا گیا ہے۔ موجودہ دَور میں اس ذمّے داری میں صحت کا تحفّظ بھی شامل ہے۔ اِس مقصد کے لیے حکومتوں کو بنیادی مراکزِ صحت مضبوط، حفاظتی ٹیکا جات کی فراہمی، صاف پانی اور نکاسیٔ آب کے مؤثر نظام، ماں اور بچّے کی صحت، متوازن غذائیت، ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور بیماریوں کی بروقت نگرانی کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔

پاکستان جیسے ترقّی پذیر مُلک میں صحت پر سرمایہ کاری کو خرچ نہیں، قومی ترقّی میں سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے کہ صحت مند آبادی ہی مضبوط معیشت، بہتر تعلیمی نتائج اور زیادہ پیداواری صلاحیت کی ضمانت ہوتی ہے۔

معالجین اور طبّی ماہرین کی ذمّے داری

روایتی طور پر ڈاکٹر کا کردار بیماری کے علاج معالجے تک محدود سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن جدید طب اِس تصوّر کو بدل رہی ہے۔ آج ایک اچھا معالج وہ ہے، جو صرف دوا تجویز نہ کرے، بلکہ مریض کو صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، ورزش، ذہنی سکون، تمباکو نوشی سے اجتناب، ویکسی نیشن اور باقاعدہ طبّی معائنے کی بھی ترغیب دے۔ طبِ وقائی کو میڈیکل تعلیم، نرسنگ، پبلک ہیلتھ اور کمیونٹی ہیلتھ پروگرامز کا بنیادی حصّہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

علماء اور دینی اداروں کا کردار

پاکستان جیسے مذہبی معاشرے میں علماء کرام صحت کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر جمعے کے خطبات، دینی اجتماعات اور مدارس میں صفائی، اعتدال، صحت مند عادات، حفاظتی ٹیکا جات، ماحولیاتی تحفّظ اور وباؤں کے دَوران احتیاط جیسے موضوعات کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بیان کیا جائے، تو اس کے دُور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ جب عوام یہ محسوس کریں گے کہ صحت کی حفاظت صرف طبّی مشورہ نہیں، بلکہ دینی ذمّے داری بھی ہے، تو احتیاطی تدابیر پر عمل کا رجحان مزید مضبوط ہوگا۔

میڈیا اور تعلیمی اداروں کی ذمّے داری

میڈیا عوامی رائے تشکیل دینے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔اگر اخبارات، ٹیلی ویژن، ریڈیو، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر صحت سے متعلق مستند معلومات، ماہرین کی آراء اور عوامی آگاہی کی مسلسل مہمّات چلائی جائیں، تو بیماریوں کی روک تھام میں نمایاں کام یابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اِسی طرح اسکولز، کالجز اور جامعات میں صحت کی تعلیم کو نصاب کا باقاعدہ حصّہ بنایا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل کم عُمری ہی سے صحت مند عادات اپنا لے۔

ہر گھر کو طبِ وقائی کا مرکز بنانا ہوگا

صحت مند معاشرہ اسپتالوں سے نہیں، بلکہ گھروں سے شروع ہوتا ہے۔ اگر ہر خاندان چند بنیادی اصول اپنا لے، تو بیماریوں کی ایک بڑی تعداد سے بچا جا سکتا ہے۔ اِن اصولوں میں ہاتھ دھونے کی عادت، صاف پانی کا استعمال، متوازن غذا، روزانہ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند، تمباکو نوشی سے مکمل اجتناب، حفاظتی ٹیکا جات، بچّوں کی مناسب غذائیت، ذہنی سکون اور باقاعدہ طبّی معائنہ شامل ہیں۔

اِسی طرح خود علاج (Self-medication)، غیر مستند نسخوں، سوشل میڈیا پر پھیلنے والی طبّی افواہوں اور غیر تربیت یافتہ افراد سے علاج کروانے سے بھی گریز ضروری ہے۔ اسلام تحقیق، علم اور اہلِ علم سے رجوع کرنے کی تعلیم دیتا ہے، اِس لیے صحت کے معاملات میں بھی مستند طبّی ماہرین کی رہنمائی اختیار کرنا ہی درست رویّہ ہے۔

مستقبل کے چیلنجز

آنے والے برسوں میں موسمیاتی تبدیلی، فضائی آلودگی، پانی کی قلّت، نئی وبائیں، جراثیم میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت، بڑھتی عُمر کی آبادی اور غیر متعدّی بیماریوں میں اضافہ دنیا کے لیے بڑے چیلنجز ہوں گے۔ اِن تمام مسائل کا مقابلہ صرف جدید ادویہ سے ممکن نہیں ہوگا بلکہ ایک مضبوط احتیاطی نظام، صحت مند طرزِ زندگی، سائنسی تحقیق اور عوامی تعاون کی ضرورت ہوگی۔

یہی وہ مقام ہے، جہاں اسلامی تعلیمات اور جدید طب ایک دوسرے کی معاونت کرتی دِکھائی دیتی ہیں۔ اسلام انسان کو احتیاط، ذمّے داری، پاکیزگی، اعتدال اور اجتماعی بھلائی کی دعوت دیتا ہے، جب کہ جدید سائنس انہی اصولوں کی افادیت کو تحقیق کے ذریعے ثابت کر رہی ہے۔

حاصلِ کلام

اگر طبِ وقائی کے تصوّر کو ایک جملے میں بیان کیا جائے، تو کہا جا سکتا ہے کہ اسلام بیماری کے علاج سے پہلے صحت کے تحفّظ کی تعلیم دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم انسان کو اعتدال، پاکیزگی، ذمّے داری اور جان کے تحفّظ کا حکم دیتا ہے، جب کہ رسول اللہ ﷺ کی سنّتِ مبارکہ اِن اصولوں کو عملی زندگی میں نافذ کرکے دِکھاتی ہے۔ آج عالمی ادارۂ صحت، جدید طبّی جامعات اور پبلک ہیلتھ کے ماہرین جس طرزِ زندگی کی سفارش کر رہے ہیں، اس کے بنیادی خدّوخال ہمیں اسلامی تعلیمات میں صدیوں پہلے مل جاتے ہیں۔

فرق صرف یہ ہے کہ جدید سائنس نے اب ان تعلیمات کی طبّی افادیت کو تحقیق کے ذریعے ثابت کرنا شروع کیا ہے۔ پاکستان جیسے مُلک میں، جہاں ایک طرف متعدی امراض اور دوسری طرف ذیابطیس، امراضِ قلب، موٹاپا، سرطان اور گُردوں کی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، وہاں طبِ وقائی کو قومی صحت کی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنانا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ صحت مند قومیں صرف بہترین اسپتالوں سے نہیں، بلکہ بہترین عادات سے بنتی ہیں۔ جب صفائی عبادت، اعتدال، زندگی کا شعار اور احتیاط، ثقافت بن جائے، نیز، صحت کو اجتماعی امانت سمجھا جائے، تو پھر ہی ایک مضبوط، خوش حال اور بیماریوں سے محفوظ معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔

’’طبِ وقائی‘‘ دراصل اسلام کا وہ زندہ پیغام ہے، جو انسان کو صرف زیادہ عرصہ زندہ رہنے کی نہیں، صحت مند، باوقار، متوازن اور مفید زندگی گزارنے کی دعوت دیتا ہے اور یہی پیغام آج کی دنیا کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے۔

(مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اورچیف میڈیکل آفیسر، محکمۂ صحت، سندھ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید