ہر سال 28 جولائی کو دنیا بھر میں ’’ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کا عالمی یوم‘‘ منایا جاتا ہے۔ اِس موقعے پر حکومتیں، عالمی ادارۂ صحت، طبّی ماہرین اور سِول سوسائٹی اِس امر پر زور دیتے ہیں کہ ہیپاٹائٹس ایک قابلِ تشخیص، قابلِ علاج اور بڑی حد تک قابلِ تدارک بیماری ہے، بشرطیکہ بروقت اسکریننگ، مناسب علاج اور احتیاطی اقدامات اختیار کیے جائیں۔
رواں سال اِس عالمی یوم کا موضوع’’Hepatitis: Let's Break It Down‘‘ ہے، جس کا مقصد ہیپاٹائٹس سے متعلق غلط فہمیوں، سماجی رویّوں، تشخیص و علاج میں حائل رکاوٹوں اور صحت کی سہولتوں تک رسائی میں حائل مشکلات ختم کرنا ہے۔
یہ پیغام اِس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہیپاٹائٹس کے خلاف کام یابی صرف ادویہ سے نہیں، عوامی آگاہی، مضبوط نظامِ صحت، بروقت تشخیص اور اجتماعی عزم سے ممکن ہے۔ یہ دن نوبیل انعام یافتہ سائنس دان، ڈاکٹر باروخ سیموئیل بلومبرگ کی خدمات کی یاد میں بھی منایا جاتا ہے، جنہوں نے ہیپاٹائٹس-بی وائرس دریافت کیا اور اس کی ویکسین کی تیاری کی بنیاد رکھی۔ ان کی تحقیق نے دنیا بَھر میں کروڑوں افراد کو اِس مہلک بیماری سے تحفّظ فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، وائرل ہیپاٹائٹس آج بھی دنیا کے اہم ترین متعدّی امراض میں شامل ہے۔ لاکھوں افراد ہر سال جگر کے سرطان، سروسز(Cirrhosis) اور جگر کے فیلیئر جیسی پیچیدگیوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، حالاں کہ ہیپاٹائٹس-بی کے لیے مؤثر ویکسین اور ہیپاٹائٹس-بی/سی کے لیے تشخیص و علاج کی جدید سہولتیں دست یاب ہیں۔
اِسی لیے عالمی ادارۂ صحت نے2030 ء تک وائرل ہیپاٹائٹس کو عوامی صحت کے بڑے خطرے کے طور پر ختم کرنے کا ہدف مقرّر کیا ہے، جس کے تحت نئے انفیکشنز میں90 فی صد، سالانہ اموات میں65 فی صد کمی، متاثرہ افراد میں90 فی صد کی تشخیص،80 فی صد مریضوں کو علاج کی فراہمی اور ہیپاٹائٹس-بی کی ویکسی نیشن، خصوصاً نوزائیدہ بچّوں کی برتھ ڈوز، کی کوریج90 فی صد سے زائد تک پہنچانا شامل ہے۔ اِن اہداف کے حصول کے لیے حکومت، صحت کے اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
ہیپاٹائٹس کیا ہے؟ : ہیپاٹائٹس، جگر کی سوزش کو کہا جاتا ہے۔ جگر، انسانی جسم کا ایک نہایت اہم عضو ہے، جو خوراک کو توانائی میں تبدیل کرنے، زہریلے مادّوں کے اخراج، ادویہ کے میٹابولزم، خون جمانے والے عوامل کی تیاری، وٹامنز اور معدنیات کے ذخیرے سمیت متعدّد حیاتیاتی افعال انجام دیتا ہے۔ جگر میں مسلسل سوزش اُس کی کارکردگی متاثر کرتی ہے اور وقت کے ساتھ فائبروسز، سروسز، جگر کے فیلیئر اور جگر کے سرطان کا سبب بن سکتی ہے۔
ہیپاٹائٹس کی وجوہ میں وائرس، بعض ادویہ، الکحل، خودکار مدافعتی بیماریاں اور بعض زہریلے کیمیائی مادّے شامل ہیں، تاہم عوامی صحت کے اعتبار سے سب سے اہم مسئلہ وائرل ہیپاٹائٹس ہے، جو پانچ وائرسز اے، بی، سی، ڈی اور ای کی وجہ سے ہوتا ہے، جب کہ ہر وائرس کی منتقلی، شدّت، علاج اور روک تھام کے اصول ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
بنیادی اقسام اور منتقلی کے ذرائع: ہیپاٹائٹس-اے آلودہ پانی اور خوراک کے ذریعے پھیلتا ہے، عموماًAcute(حاد) بیماری پیدا کرتا ہے، Chronic(دائمی) نہیں بنتا اور اس سے بچاؤ کے لیے مؤثر ویکسین موجود ہے۔ ہیپاٹائٹس-بی متاثرہ خون، غیر محفوظ سرنجز، ماں سے بچّے میں پیدائش کے دوران اور غیر محفوظ جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ یہ حاد اور دائمی، دونوں اقسام کی بیماری پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے خلاف محفوظ اور مؤثر ویکسین دست یاب ہے، جب کہ دائمی مریضوں کے لیے اینٹی وائرل ادویہ وائرس کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
ہیپاٹائٹس-سی زیادہ تر آلودہ خون، غیر محفوظ سوئیوں، طبّی آلات اور ڈائی لیسز کے دوران منتقل ہوتا ہے۔ یہ دنیا میں دائمی جگر کی بیماری کی بڑی وجہ ہے۔ اگرچہ اس کی ویکسین دست یاب نہیں، لیکن جدید Direct Acting Antiviral (DAA) ادویہ کے ذریعے90 فی صد سے زائد مریض مکمل صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس-ڈی صرف اُنہی افراد میں ہوتا ہے، جو پہلے ہی سے ہیپاٹائٹس-بی کا شکار ہوں۔
اِس لیے ہیپاٹائٹس-بی کی ویکسین ہی اس سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے۔ ہیپاٹائٹس-ای بھی آلودہ پانی اور خوراک سے منتقل ہوتا ہے، عموماً حاد بیماری پیدا کرتا ہے، لیکن حاملہ خواتین میں شدید پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اِن تمام اقسام میں ہیپاٹائٹس-بی اور سی سب سے زیادہ تشویش ناک ہیں کہ یہ برسوں خاموش رہ کر جگر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔
اکثر مریضوں کو بیماری کا علم اُس وقت ہوتا ہے، جب جگر سروسز یا سرطان کی طرف بڑھ چُکا ہوتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، دنیا میں30 کروڑ سے زائد افراد دائمی ہیپاٹائٹس-بی یا سی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جب کہ ہر سال لاکھوں اموات جگر کی پیچیدگیوں کے باعث ہوتی ہیں۔
متاثرہ افراد کی بڑی تعداد اپنی بیماری سے لاعلم ہوتی ہے، جس سے وائرس کی منتقلی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ پاکستان بھی اُن ممالک میں شامل ہے، جہاں ہیپاٹائٹس-بی اور سی عوامی صحت کا ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ اگرچہ حکومت اور صوبائی صحت کے محکمے اسکریننگ، مفت علاج، ویکسی نیشن اور آگاہی کے متعدّد پروگرام چلا رہے ہیں، تاہم عالمی ادارۂ صحت کے2030 ء کے اہداف حاصل کرنے کے لیے اِن اقدامات میں مزید وسعت، مؤثر نگرانی اور پائے دار سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
ہیپاٹائٹس-بی/سی کی عمومی اور پوشیدہ علامات: ہیپاٹائٹس-بی اور سی کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ اکثر برسوں خاموش رہتی ہیں۔ بہت سے متاثرہ افراد خُود کو مکمل طور پر صحت مند محسوس کرتے ہیں، جب کہ وائرس مسلسل جگر کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔ اِسی وجہ سے انہیں’’خاموش قاتل‘‘ بھی کہا جاتا ہے کہ بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں یہ سروسز، جگر کے فیل اور سرطان کا سبب بن سکتی ہیں۔
علامات ظاہر ہونے پر مریض میں مسلسل تھکن، کم زوری، بھوک کی کمی، متلی، قے، ہلکا بخار، پیٹ کے دائیں اوپری حصّے میں درد یا بھاری پن، جوڑوں اور پٹّھوں میں درد، جِلد اور آنکھوں کا زرد ہونا (یرقان)، گہرے رنگ کا پیشاب، ہلکے رنگ کا پاخانہ اور جسم پر شدید خارش جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ تاہم دائمی ہیپاٹائٹس کے اکثر مریضوں میں برسوں تک کوئی واضح علامت موجود نہیں ہوتی، اِس لیے صرف علامات کا انتظار کرنا خطرناک ہے۔
جن افراد کو ماضی میں خون لگ چُکا ہو، بار بار انجیکشن یا ڈرپس لگتی رہی ہوں، ہیموڈائی لیسز کروا رہے ہوں، صحت کے شعبے سے وابستہ ہوں یا کسی ہیپاٹائٹس کے مریض کے قریبی رابطے میں ہوں، اُنہیں علامات نہ ہونے کے باوجود اپنی اسکریننگ ضرور کروانی چاہیے۔
اسکریننگ، پی سی آر اور جگر کی جانچ: ہیپاٹائٹس-بی کی ابتدائی تشخیص کے لیے HBsAg ،جب کہ ہیپاٹائٹس-سی کے لیے Anti-HCV ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اگر اسکریننگ مثبت آئے، تو اگلا اور فیصلہ کُن مرحلہ پی سی آر ٹیسٹ ہوتا ہے، جو خون میں وائرس کی موجودگی اور مقدار کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ علاج کے آغاز اور اس کی کام یابی جانچنے کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
جگر کی کیفیت جانچنے کے لیے لیور فنکشن ٹیسٹ(LFT) کیا جاتا ہے، جب کہ الٹراساؤنڈ سے جگر کی ساخت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ جدید دَور میں FibroScan کے ذریعے جگر میں فائبروسز اور سختی کا درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جس سے کئی مریضوں میں بایوآپسی کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔
جدید اینٹی وائرل ادویہ اور علاج میں پیش رفت: گزشتہ ایک دہائی میں وائرل ہیپاٹائٹس کے علاج میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ماضی میں ہیپاٹائٹس-سی کا علاج انٹرفیرون انجیکشنز سے کیا جاتا تھا، جن کے مضر اثرات زیادہ تھے، لیکن اب جدید Direct Acting Antiviral (DAA) ادویہ دست یاب ہیں۔ یہ ادویہ عموماً 8 سے 12ہفتوں میں علاج مکمل کرتی ہیں اور95فی صد سے زائد مریضوں میں وائرس کا مکمل خاتمہ ممکن بناتی ہیں، بشرطیکہ علاج، معالج کی ہدایات کے مطابق مکمل کیا جائے۔
ہیپاٹائٹس-بی کے لیے ابھی ایسا علاج موجود نہیں، جو وائرس کو مکمل طور پر ختم کر دے، تاہم مؤثر اینٹی وائرل ادویہ وائرس کی افزائش کو روکتی، جگر کو مزید نقصان سے بچاتی اور مریض کو طویل و صحت مند زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہیں۔ چوں کہ یہ علاج طویل المدّتی یا بعض اوقات تاحیات جاری رہتا ہے، اِس لیے مریض کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا بند نہیں کرنی چاہیے۔
ہیپاٹائٹس-بی کی ویکسین اور دیگر احتیاطی اصول: ہیپاٹائٹس-بی اُن چند متعدی بیماریوں میں شامل ہے، جن سے محفوظ اور مؤثر ویکسین کے ذریعے بچاؤ ممکن ہے۔ عالمی رہنما اصولوں کے مطابق نوزائیدہ بچّے کو پیدائش کے پہلے 24گھنٹوں میں ہیپاٹائٹس-بی کی برتھ ڈوز دینا انتہائی ضروری ہے، جب کہ بعد کی خوراکیں قومی حفاظتی ٹیکا جات پروگرام کے مطابق مکمل کی جاتی ہیں۔
جن بالغ افراد کو بچپن میں ویکسین نہیں لگی، اُنہیں بھی ویکسی نیشن مکمل کروانی چاہیے، خصوصاً ڈاکٹرز، نرسز، لیبارٹری عملہ اور دیگر ہائی رسک افراد۔ اس کے برعکس، ہیپاٹائٹس-سی کے لیے ابھی تک کوئی مؤثر ویکسین دست یاب نہیں، اِس لیے اس سے بچاؤ کا انحصار احتیاطی تدابیر پر ہے۔
مؤثر حفاظتی اقدامات میں ہر انجیکشن کے لیے نئی ڈسپوزایبل سرنج کا استعمال، صرف مستند بلڈ بینک سے اسکرین شدہ خون کی منتقلی، جرّاحی اور دندان سازی کے آلات کی معیاری جراثیم کشی، ریزر، بلیڈ، نیل کٹر اور ٹوتھ برش جیسی ذاتی اشیاء کا مشترکہ استعمال نہ کرنا، حجام اور بیوٹی سیلون میں صاف اور جراثیم سے پاک آلات کا استعمال یقینی بنانا اور حاملہ خواتین کی ہیپاٹائٹس-بی اور سی کے لیے بروقت اسکریننگ شامل ہیں۔
پاکستان کا قومی منظرنامہ: پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے، جہاں وائرل ہیپاٹائٹس، خصوصاً ہیپاٹائٹس-بی اور سی عوامی صحت کے لیے چیلنج ہیں۔ گو کہ اسکریننگ، تشخیص، ویکسی نیشن اور جدید علاج کی فراہمی میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم بڑھتی آبادی، محدود وسائل، سہولتوں تک غیر مساوی رسائی اور انفیکشن کنٹرول پر ناکافی عمل درآمد اب بھی بڑی رکاوٹیں ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے حفاظتی ٹیکا جات کے قومی پروگرام کے ذریعے ہیپاٹائٹس-بی ویکسین کی فراہمی، سرکاری اسپتالوں میں مفت اسکریننگ، پی سی آر ٹیسٹ اور ادویہ، محفوظ انتقالِ خون کے نظام، بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹیز کے قیام اور انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول پروگرامز جیسے اہم اقدامات کیے ہیں۔ صوبائی ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرامز نے بھی ہزاروں مریضوں کو مفت تشخیص اور علاج فراہم کیا ہے۔
اس کے باوجود، دیہات میں اتائیت، غیر محفوظ سرنجز کا استعمال، غیر معیاری بلڈ بینکس، طبّی فضلے کا غیر محفوظ انتظام، جراثیم کشی کے ناقص طریقے، تشخیصی سہولتوں کی کمی اور ماہر امراضِ جگر تک محدود رسائی، وائرس کے پھیلاؤ کی اہم وجوہ ہیں۔ مؤثر قومی حکمتِ عملی کے لیے محفوظ انجیکشن پالیسی، طبّی فضلے کا سائنسی انتظام، حاملہ خواتین کی یونی ورسل اسکریننگ، ہائی رسک گروپس کی اسکریننگ اور ویکسی نیشن کوریج میں مزید اضافہ ناگزیر ہے۔
قومی عزم اور 2030 ء کا عالمی ہدف: عالمی ادارۂ صحت نے2030 ء تک وائرل ہیپاٹائٹس کو عوامی صحت کے خطرے کے طور پر ختم کرنے کا ہدف مقرّر کیا ہے اور پاکستان بھی اِس عالمی عزم کا حصّہ ہے۔ اِسی مقصد کے لیے پاکستان نے قومی ہیپاٹائٹس ایلیمینیشن پروگرام دوبارہ فعال کیا ہے۔اگرچہ2020 ء میں تقریباً 326 ملین امریکی ڈالرز کے منصوبے کا آغاز کووِڈ-19 کے باعث متاثر ہوا، تاہم2024 ء میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اِس پروگرام کو نئی حکمتِ عملی کے ساتھ دوبارہ شروع کیا۔
اِس پروگرام کے تحت12 سال یا اس سے زائد عُمر کی آبادی کی مرحلہ وار اسکریننگ، مثبت مریضوں کی فوری پی سی آر تشخیص اور مفت علاج کو بنیادی ترجیح دی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں اہل آبادی کے50فی صد افراد کی اسکریننگ، جب کہ دوسرے مرحلے میں2026 ء سے2030 ء کے دوران باقی آبادی تک تشخیص اور علاج کی سہولتیں پہنچانے کا ہدف مقرّر کیا گیا ہے۔ اِس قومی پروگرام کی مجموعی لاگت تقریباً68.25 ارب روپے ہے، جس میں وفاق اور صوبے مشترکہ مالی ذمّے داری ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان میں وائرس کا حقیقی بوجھ: قومی اور بین الاقوامی تخمینوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً9.8 ملین (98 لاکھ سے زائد) افراد دائمی ہیپاٹائٹس-سی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جو دنیا میں ہیپاٹائٹس-سی کا دوسرا بڑا بوجھ شمار ہوتا ہے۔ مُلک میں ہیپاٹائٹس-سی کی شرح تقریباً4.1 فی صد، جب کہ ہیپاٹائٹس بی کی شرح1.1 فی صد ہے۔ ہیپاٹائٹس-بی کی نسبتاً کم شرح حفاظتی ٹیکا جات پروگرام کی کام یابی کی عکّاس ہے، جب کہ ہیپاٹائٹس-سی اب بھی پاکستان کے لیے سب سے بڑا عوامی صحت کا چیلنج ہے، کیوں کہ اس کی کوئی ویکسین موجود نہیں۔
صوبائی سطح پر ہیپاٹائٹس-سی کی شرح پنجاب میں4.8 فی صد، سندھ اور خیبر پختون خوا میں3.8 فی صد، جب کہ بلوچستان میں3.1 فی صد رپورٹ کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ پورے مُلک میں موجود ہے اور ہر صوبے کو اپنی مقامی ضروریات کے مطابق حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی۔ ہائی رسک گروپس میں بیماری کا بوجھ کہیں زیادہ ہے۔
انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والے افراد میں اینٹی ہیپاٹائٹس-سی کی شرح تقریباً 62فی صد رپورٹ ہوئی، جو محفوظ سرنج پروگرامز، بحالی مراکز اور خصوصی اسکریننگ کی فوری ضرورت کو واضح کرتی ہے۔
پاکستان میں ہر سال تقریباً110,000 ہیپاٹائٹس-سی، جب کہ15,000 ہیپاٹائٹس-بی کے نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔ وائرس کے پھیلاؤ میں غیر محفوظ انتقالِ خون (15 فی صد)، اسپتالوں میں انفیکشن (14فی صد)، غیر معیاری دندان سازی (13فی صد)، غیر محفوظ انجیکشنز (12فی صد) اور جرّاحی کے دوران ناکافی حفاظتی اقدامات (9فی صد) اہم عوامل ہیں، جب کہ باقی37 فی صد کیسز دیگر سماجی اور ماحولیاتی عوامل سے منسلک ہیں۔
ہیپاٹائٹس کی پیچیدگیوں کے باعث پاکستان میں ہر سال تقریباً31,000 اموات ہوتی ہیں، جن میں تقریباً 10,260 اموات ہیپاٹائٹس-بی اور20,565اموات ہیپاٹائٹس-سی سے وابستہ ہیں۔ یہ اعداد و شمار بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور روک تھام میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت واضح کرتے ہیں۔
پاکستان کے لیے سائنسی و عملی ماڈل: 2030 ء کے ہدف کے حصول کے لیے عالمی ادارۂ صحت’’ Cascade of Care ‘‘ماڈل کی سفارش کرتا ہے، جس کے چار بنیادی ستون ہیں: یونی ورسل اسکریننگ، بروقت پی سی آر تشخیص، فوری علاج اور علاج کے بعد فالو اَپ۔ اِس مقصد کے لیے مُلک بھر میں بڑے پیمانے پر اسکریننگ کیمپس، ریپڈ ڈائیگناسٹک ٹیسٹ، ضلعی سطح پر پی سی آر سہولت، جین ایکسپرٹ مشینز کا مؤثر استعمال، جیلوں، تھیلیسیمیا اور ہیموفیلیا مراکز، ہائی رسک اضلاع اور دیگر حسّاس آبادیوں میں Micro-elimination پروگرامز شروع کرنا ضروری ہیں۔
اِسی طرح تمام سرکاری و نجی اسپتالوں، ڈینٹل کلینکس، لیبارٹریز، بیوٹی سیلونز اور حجاموں کے لیے انفیکشن کنٹرول کے معیارات پر سخت عمل درآمد، آٹوکلیو کے استعمال، ڈسپوزایبل آلات اور مؤثر نگرانی یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے۔ پاکستان کے پاس مقامی سطح پر تیار ہونے والی مؤثر اینٹی وائرل ادویہ، فعال لیبارٹری نیٹ ورک اور قومی پروگرام کی صُورت مضبوط بنیاد موجود ہے۔
اگر اِن وسائل کو مؤثر قیادت، مسلسل فنڈنگ، مضبوط نگرانی اور عوامی شمولیت کے ساتھ بروئے کار لایا جائے، تو پاکستان 2030ءتک وائرل ہیپاٹائٹس کے خاتمے کی عالمی جدوجہد میں نمایاں کام یابی حاصل کر سکتا ہے۔ ہیپاٹائٹس کے خلاف جنگ صرف حکومت یا طبّی ماہرین کی نہیں، بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمّے داری ہے۔ بروقت اسکریننگ، محفوظ طرزِ زندگی، مکمل ویکسی نیشن، انفیکشن کنٹرول اور عوامی آگاہی ہی ایک صحت مند، محفوظ اور ہیپاٹائٹس سے پاک پاکستان کی بنیاد ہیں۔
(مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، محکمۂ صحت، سندھ ہیں)