کراچی(جنگ نیوز) جناح یونیورسٹی برائے خواتین (JUW) میں چھٹی بین الاقوامی کانفرنس برائے حیاتیاتی تحقیق و اطلاقی علوم (IBRAS-2026) سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال اخلاقی حدو د میں کیاجائے۔ پروفیسر ڈاکٹر نرمین زکریا باوانی کی قیاد ت میں ہونے والی اس تین روزہ اس عالمی سائنسی کانفرنس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے محققین، اساتذہ اور صنعتی ماہرین نے شرکت کی اور حیاتیاتی و اطلاقی علوم میں ابھرتے ہوئے رجحانات اور جدید تحقیق پر تبادلۂ خیال کیا۔ کانفرنس میں نو تکنیکی سیشنز شامل تھے جن میں بایوکیمسٹری، بایوٹیکنالوجی، کیمسٹری، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، فوڈ سائنس، مائیکروبیالوجی، ریاضی اور حیوانیات شامل ہیں۔ سائنسی پروگرام میں 90 سے زائد قومی و بین الاقوامی زبانی مقالے اور 100 سے زائد پوسٹر پریزنٹیشنز پیش کی گئیں، جبکہ سویڈن، ترکی، امریکہ، آذربائیجان، چین، برطانیہ، سعودی عرب، اٹلی اور پاکستان سے ماہرین نے شرکت کی۔افتتاحی اجلاس کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر طارق رفیع، چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن تھے، کلیدی لیکچر ڈاکٹر حیدر اے خواجہ، سینئر ریسرچ سائنٹسٹ، واڈزورتھ سینٹر نیویارک نے “اسموگ آلودگی: اسباب، اثرات اور تدارک” کے عنوان سے دیا۔ اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر عبدالباسط، ڈائریکٹر انڈس ڈایابیٹیز اینڈ اینڈوکرائنولوجی سینٹر تھے، جنہوں نے تحقیق کو اشاعت سے آگے بڑھا کر پیٹنٹنگ اور کمرشلائزیشن کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے چانسلر وجیہ الدین احمد اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نعیم فاروقی کی خواتین کی تعلیم کے لیے خدمات کو سراہا۔