• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مبشّرہ خالد

مشہور مقولہ ہے، ’’جان ہے، تو جہان ہے۔‘‘ اور یہ سوفی صد درست بھی ہے۔ ہم سب کو اپنی صحت کےضمن میں محتاط رہنا چاہیے کہ حقیقتاً صحت سے بڑی کوئی دولت نہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ پَھلوں، سبزیوں اور دُودھ سمیت دیگر اشیائے خورونوش کا استعمال کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے، مگر یہ درست طرزِ عمل نہیں ہے۔ 

مثال کے طور پر اگر سیب صُبح کے وقت کھایا جائے، تو یہ قبض سے بچاتا ہے، لیکن رات کو کھانے کی صُورت میں یہ دورانِ نیند پریشانی کا سبب بننے کے ساتھ نظامِ ہضم پر بھی بوجھ بن جاتا ہے۔ کیلا بھی ایک ایسا پَھل ہے، جو کھانا ہضم کرنے میں سُودمند ثابت ہوتا ہے، اِس لیے اِسے خالی پیٹ کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔

اِسی طرح انجیر کا صُبح کے وقت استعمال اس لحاظ سے مؤثر ہے کہ اِس سے نظامِ ہاضمہ کو تقویت ملتی ہے لیکن اگر یہ رات میں کھائی جائے، تو پیٹ میں مروڑ کا باعث بن سکتی ہے۔ یوں تو ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ اخروٹ دماغ کے لیے مفید ہے، مگر اِسے بھی اگر شام کے وقت کھایا جائے، تو یہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، رات کے وقت استعمال سے اِس کی افادیت زائل ہونے کاخدشہ ہوتا ہے۔

دودھ، ہمارے پیارے نبی حضرت محمّد ﷺ کا پسندیدہ مشروب تھا۔ ویسے تو دودھ کے بےشمار فوائد ہیں، لیکن یہ رات کے وقت پُرسکون نیند کا باعث بنتا ہے اور اِسے صُبح میں صرف اُس صُورت میں پینا چاہیے، جب جسمانی قوّت کا استعمال مقصود ہو، تاکہ یہ ہضم ہوسکے، وگرنہ عین ممکن ہے، آپ دوپہر کا کھانا ہی نہ کھا سکیں اور اِس کی وجہ دودھ کا ہضم نہ ہونا ہو۔ دہی بھی دودھ ہی کی ایک شکل ہے، مگر اس کا استعمال دن کے وقت بہترین ثابت ہوتا ہے۔

یہ کھانا ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے، لیکن اگر یہ رات میں کھایا جائے اور وہ بھی تب، جب کھانسی، نزلے کی شکایت ہو، تو یہ مزید بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ اِسی طرح عمومی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ پنیر کا استعمال موٹاپے کا سبب بنتا ہے، مگر حقیقتاً ایسا نہیں۔ اگر پنیرنہار منہ کھایا جائے، تو یہ موٹاپے سے بچاتا ہے۔

علاوہ ازیں، پنیر، سبزی خوروں کے لیے گوشت کے متبادل کا بھی کام کرتا ہے، لیکن یہی پنیر اگر رات کے وقت کھایا جائے، تو فربہی کا سبب بن سکتا ہے۔ دالوں کی بات کریں، تو اگر اِن کا استعمال رات کے وقت کیا جائے، تو اُن سے کئی طرح کے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں، مثلاً یہ جسم میں کولیسٹرول کی سطح معتدل رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں، تو اچّھی نیند لانے میں بھی مددگار ہیں، لیکن اگر دالوں کا استعمال دن میں کیا جائے، تو یہ بُھوک میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں، جس سے وزن بڑھنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

گوشت سے پروٹین حاصل کیا جاتا ہے اور یہ جسمانی قوّت میں اضافے کا بھی ذریعہ ہے۔ اگر اسے دن میں کھایا جائے، تو دن بھر کی سرگرمیوں کے باعث یہ ہضم ہو جاتا ہے، لیکن اگر اسے رات میں استعمال کیا جائے، تو یہ جسم پر بوجھ بننے کے ساتھ پُر سکون نیند سے بھی محروم کرسکتا ہے۔

یاد رہے، کھانے کی کوئی بھی قدرتی چیز مضرِ صحت نہیں، بشرطیکہ اُسے درست وقت پر استعمال کیا جائے۔

سنڈے میگزین سے مزید