• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انیلا خلیل، لاہور

انسان کا بچپن سیکھنے کی بہترین عُمر ہوتا ہے۔ جو رویّے اور عادات انسان اپنی زندگی کے اس مرحلے میں سیکھتا ہے، وہ پھر مرتے دَم تک اس کی شخصیت کا حصّہ رہتی ہیں۔ لہٰذا، والدین کو اپنے بچّوں کو اچّھا مسلمان اور مفید شہری بنانے کے لیے بچپن ہی میں درج ذیل عادات ضرور سکھانی چاہئیں۔

1 ۔ اللہ پر یقینِ کامل: اللہ تعالیٰ پر یقینِ کامل اور مضبوط ایمان ایک مسلمان کی زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ ہوتا ہے۔ سو، والدین کو کم سِنی ہی میں اپنے بچّوں کو اس بات کی تعلیم دینی چاہیے کہ انسانی سہارے کم زور، عارضی ہوتے ہیں۔ بندے کا سب سے مضبوط، قریبی تعلق صرف اپنے ربّ کے ساتھ ہونا چاہیے۔ 

یاد رہے، حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمتہ اللہ علیہ ہمیشہ اپنے بچّوں کو یہ سکھاتے تھے کہ’’اللہ میرے ساتھ ہے، اللہ مُجھے دیکھ رہا ہے اور اللہ ہی میرا نگہبان ہے۔‘‘

2۔ قرآنِ پاک کی تعلیم: پاکستان کی مسلّح افواج کے سپہ سالار، فیلڈ مارشل سیّد عاصم مُنیر کو ان کے والد نے، جو خود بھی حافظِ قرآن تھے، مدرسے سے قرآن پاک حفظ کروایا اور فہمِ قرآن کی تعلیم دی۔ آج وہ پاک فوج کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں اور ہر آن قرآنِ پاک کی تعلیمات ہی اُن کی رہنمائی کرتی ہیں۔

اِسی طرح ایک خاتون نے اپنے شوہر کے حوالے سے بتایا کہ اُنہوں نے قرآنِ پاک کا لفظی، بامحاورہ ترجمہ اپنے گاؤں کی مسجد سے سیکھا تھا اور آج وہ بڑھاپے کی عُمر میں بھی روزانہ ترجمے کے ساتھ کلامِ مجید پڑھتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر بچّوں کو ابتدائی عُمر ہی میں ناظرہ قرآنِ پاک پڑھایا جائے، حافظِ قرآن بنایا جائے یا قرآنی و مسنون دُعائیں اور کچھ سورتیں یاد کروادی جائیں، تو وہ عُمر کے آخری حصّے تک اُنہیں یاد رہتی ہیں۔

3 ۔ نماز کی عادت: والدین اپنے بچّوں کو اوائل عُمری ہی سے نماز پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ اُنہیں نمازِ جمعہ اور عیدین کے علاوہ اکثر و بیش تر مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے اپنے ساتھ لے کر جائیں۔

4۔ باغ بانی: باغ بانی ایک بہترین مشغلہ ہے۔ اِس ضمن میں ایک مفکّر کا کہنا ہے، فطرت یعنی درخت، پودے، پرندے، مٹی اور بارش وغیرہ انسان کی نمو کا ذریعہ ہیں اور ان سے محبت کے باوصف انسان میں خیرخواہی، صبر، نرمی اور ربّ سے تعلق جیسے اوصاف پیدا ہوتے ہیں۔ لہٰذا، اپنے بچّوں کو فطرت اور اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کے لیے باغ بانی بھی ضرور سکھائیں۔

 5۔کُتب بینی: اپنے بچّوں کو کم سِنی ہی سے کتاب پڑھنے کی عادت بھی ڈالیں کہ یہ شعار اُنہیں کام یابی کی راہ پرگام زن رکھنے میں معاون ثابت ہوگا۔ دینی و دنیاوی معاملات کی سمجھ بوجھ کے ضمن میں، اُنھیں کارآمد کُتب پڑھنےپرمائل کریں اور اِس حوالے سے انتخاب میں اُن کی بھرپور مدد کریں۔

6 ۔نظم وضبط: والدین کو چاہیے کہ وہ بچّوں کو ابتدا ہی سےم نظّم زندگی گزارنا سکھائیں۔ اُنہیں سب سے پہلے اپنی کُتب، اسکول کا یونی فارم اور کھلونے وغیرہ خُود سمیٹنے اور مقررہ مقامات پر رکھنے کی تربیت وترغیب دیں۔ اِسی طرح ظاہری و باطنی صفائی خصوصاً ناخن کاٹنا، رفعِ حاجت کے بعد اچّھی طرح ہاتھ دھونا اور ہمیشہ صاف سُتھرا رہنا سکھائیں۔

7۔ اچّھے اخلاق: اپنے بچّوں کو ہمیشہ سچ بولنےکی عادت ڈالیں۔ نیز، جُھوٹ سے نفرت، بہادری، تحمّل، عفودودرگزر، دیانت داری، وقت کی پابندی، اچھا سوچنا، بولنا اور بڑوں کا ادب کرنا سکھائیں۔

واضح رہے، بعض والدین جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہوئے اپنے بچّوں کو ٹوہ لینے، دوسروں کے معاملات میں مداخلت، تاک جھانک، غیبت اورچغلی کرنے جیسی سکھا کر اُن میں منفی رویّے پروان چڑھاتے ہیں، جو سراسر غلط طرزِ عمل ہی نہیں، اُن کی شخصیت کی تعمیر کے لیے سُمِ قاتل کے مثل ہے۔ علاوہ ازیں، بچّوں کی دین و دُنیاوی کام یابی کے لیے ہم وقت دُعاگو بھی رہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید