31 دسمبر 2023ء میں، ہم لندن کے ویسٹ منسٹر بِرج کے عقب میں واقع، سینٹ تھامس اسپتال میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ یاد رہے، لندن نئے سال کے آغاز پر کی جانے والی آتش بازی کے ضمن میں دُنیا بَھر میں مشہور ہے اور سالِ نو کے آغاز پر وہاں فائر ورکس کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس موقعے پر ویسٹ منسٹر بِرج اور اس کے اطراف میلے کا سماں ہوتا ہے اور لوگ وہاں دُور دُور سے آتش بازی دیکھنے آتے ہیں۔
اُس روز رات دس بجے ہی سے آسمان جگمگانا شروع ہوگیا تھا اور پھر جوں ہی 12 بجے، فلک تا حدِ نگاہ رنگین آتشیں قمقموں سے سج گیا۔ لوگ خوشی سے رقص کرتے ہوئے ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارک باد پیش کررہے تھے۔ یہ ایک تہذیب یافتہ قوم کا نئے سال کا جَشن منانے کا انداز تھا۔ اس موقعے پر ہمیں پاکستان، بالخصوص کراچی میں جَشن منانے کے طور طریقے یاد آئے، تو جیسے ایک وحشت سی طاری ہوگئی۔
چوں کہ ہم دماغ اور حرام مغز کی جرّاحی کے شُعبے سے وابستہ ہیں، لہٰذا اکثر سالِ نو کے آغاز، یومِ آزادی، عیدین، شادی بیاہ اور سیاسی جلسوں، ریلیوں وغیرہ کے مواقع پر ہونے والی ہوائی فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کا علاج معالجہ کرناپڑتا ہےاور اکثر اُن کے لواحقین کو اُن کی موت یا عُمربَھر کی معذوری کی اندوہ ناک خبر بھی دینی پڑتی ہے۔
یہ تحریر لکھتے ہوئے اچانک آنکھوں کے سامنے گیارہ سالہ لائبہ ( فرضی نام) کا چہرہ گردش کرنے لگا ہے۔ وہ معصوم بچّی 2025ء کی آمد کا جَشن منانے کے لیے اپنی ماں کے منع کرنے کے باوجود محض پانچ منٹ کی اجازت لے کر چھت پر گئی تھی اور اِسی دوران اَن جانی سمت سے آنے والی ایک گولی اُس کے سَر میں اُترگئی۔ ہم نے چھے گھنٹے تک نہایت جاں فشانی سے اُس کےدماغ کا پیچیدہ آپریشن کیا، لیکن گولی دماغ کے حسّاس ترین حصّوں کو متاثر کرچُکی تھی۔
نتیجتاً،سخت کوشش کے باوجود بھی بچّی کو وینٹی لیٹر سے نہ ہٹایا جاسکا اور واقعےکے دو روز بعد وہ جہانِ فانی سے کُوچ کرگئی۔ اِسی طرح چند ماہ پہلے اندھی گولی کا نشانہ بننے والے ننّھے ریان کو اس کے والدین نے اپنے ہاتھوں سے سپردِ لحد کیا۔ تب کم سِن ریان کی ماں پر کیا گزری ہوگی… یہ سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اُس نے اپنے بچّے کے سہانے مستقبل کے حوالے سے اپنی آنکھوں میں نہ جانے کیا کیا خواب سجائے ہوں گے، جو کسی کی لاپروائی سے چند لمحوں میں پتّوں کی طرح بکھر گئے۔ ہمیں کراچی سے تعلق رکھنے والا ایک اور شخص یاد آرہا ہے۔ وہ اپنے صحن میں سو رہا تھا کہ اچانک ایک گولی اس کے حرام مغز کے آر پار ہوگئی۔ نتیجتاً، نچلے دھڑ نے کام کرنا ترک کر دیا۔ وہ شخص اپنے اہلِ خانہ کا واحد کفیل تھا۔ ذرا سوچیے، اس ہوش رُبا منہگائی کے دَور میں اس کے اہلِ خانہ کی کفالت کی ذمّے داری کون اُٹھائےگا؟ وہ تو جیتے جی ہی مَر گئے ہوں گے۔
اس بات سے قطعِ نظر کہ شہرِ کراچی میں اس قدر آتشیں ہتھیار کہاں سے آئے، ہم ایک معالج اور نیورو سرجن کی حیثیت سے قارئین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہوا میں چلائی جانے والی گولی فضا میں اپنا سفر مکمل کر کے ایک مخصوص زاویے سے نہایت سرعت سے زمین کی جانب واپس آتی ہے اور پھر اُس کی زد میں آنے والا شخص زندگی بَھر کے لیے معذوری یا موت کا شکار ہوسکتا ہے۔ مطلب، ہوائی فائرنگ بھی ایک سنگین جُرم ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ہر سال سیکڑوں افراد مختلف مواقع پر کی جانے والی ہوائی فائرنگ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اُن سیکڑوں لوگوں پر سیکڑوں خاندانوں کا انحصار ہوتا ہے اور کسی کی ایک غیر ذمّے دارانہ حرکت اُن کی جیتی جاگتی زندگی جہنّم بنا کے رکھ دیتی ہے۔
سو، ہماری تمام پاکستانی شہریوں سے دردمندانہ گزارش ہے کہ خدارا! سالِ نو سمیت دیگر خوشی کے مواقع پر اگر کوئی جشن منانا ہی ہے، تو مہذّب معاشروں کی طرح آتش بازی یا دیگر بےضرر ذرائع پر انحصار کیجیے۔ نیز، ایک اچھے شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے قوانین کی پابندی کریں، کیوں کہ یہ آپ کی سہولت بہم پہنچانے ہی کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اورخدارا! اسلحے کی نمائش و استعمال مکمل طور پر ترک کردیں۔ بنی نوع انسان پر کچھ تورحم کھائیں۔ (مضمون نگار، آغا خان یونی ورسٹی اسپتال میں بطورکنسلٹنٹ نیورو سرجن خدمات انجام دے رہے ہیں، جب کہ اِس سے قبل شوکت خانم میموریل اسپتال سے وابستہ رہے۔)