• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہارِ یک جہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف، ہر سال 5فروری کو’’یومِ کشمیر‘‘ منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا آغاز 1990ء میں جماعتِ اسلامی کے سابق امیر، قاضی حسین احمد اور دیگر دینی و سیاسی جماعتوں کے مطالبے پر کیا گیا، جسے اُس وقت کی وزیر ِاعظم، محترمہ بے نظیر بھٹو کی منظوری کے بعد سرکاری طور پر کشمیریوں سے تجدیدِ عہد کے اظہار، عالمی برادری کی اس اہم مسئلے کے حل کی جانب توجّہ مبذول کروانے اور مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد عالمی سطح پر اُجاگر کرنے کے لیے باقاعدہ مختص کردیا گیا۔

جس کے بعد سے ہر سال یہ دن، نہ صرف پاکستانی عوام، بلکہ دنیا بھر میں بسنے والی کشمیری برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر اور کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف اظہارِ یک جہتی کے طور پر مناتی ہیں۔ اگرچہ اس سے قبل بھی پاکستان، کشمیر میں بسنے والے حرّیت پسندوں، اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں سے بھرپور یک جہتی کا اظہار کرتا رہا، تاہم، اس ضمن میں کوئی خاص دن مقرر نہ تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر اور ریاستی دہشت گردی کا مکروہ سلسلہ درحقیقت 1947ء ہی سے شروع ہوچکا تھا، جب تقسیمِ ہند کے بعد بھارت نے کشمیر کے معاملے میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اورمسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باوجود اس پر زبردستی اپنا تسلّط برقرار رکھا۔ 

یہ تنازع دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا باعث بنا، تو پاکستان نے اقوامِ متحدہ سے رجوع کیا اور اقوامِ متحدہ نے اس مسئلے پر غور کرتے ہوئے 1948ءاور 1949ءمیں متعدد قراردادیں منظور کیں، جن میں واضح طور پر کہا گیا کہ کشمیر کے عوام کو استصوابِ رائے کے ذریعے اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔

بھارت اور پاکستان نے ابتدائی طور پر ان قراردادوں کو قبول کیا، لیکن بعد میں بھارت نے عمل درآمد سے انکار کر دیا۔ بعدازاں، اقوامِ متحدہ نے اس مقصد کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا اور نگراں فورس بھیجی، لیکن عملی طور پر یہ مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ ڈوگرا راج میں ہونے والے مظالم کے تسلسل کو بھارت نے ریاستی سرپرستی میں آگے بڑھانے کی شروعات کی اور پھر اس کے لیے باقاعدہ طور پر ایک جال بچھایا اور اس مقصد کے تحت1978ء میں پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) نافذ کردیا۔

اس قانون کے تحت کسی بھی کشمیری کو بغیر مقدمہ چلائے مہینوں، برسوں قید رکھا جا سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ہزاروں کشمیری نوجوان آج بھی بھارتی جیلوں میں سخت اذیّتیں برداشت کر رہے ہیں۔ اسی ظلم کی کڑی کو مزید مضبوط کرنے کے لیے 1990ء میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) نافذ کیا گیا، جس نے بھارتی فوج کو گویا کُھلی چھوٹ دے دی۔ 

اس کالے قانون کے تحت ایک جونیئر کمیشنڈ افسر کو بھی محض شک کی بنیاد پر کسی کشمیری کو گرفتار کرنے کا حق حاصل ہے، وہ چاہے کسی کو گولی مار دے یا اس کا گھر تباہ کر دے، مگر اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوسکتی۔ 

ان ہی قوانین کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد سرچ آپریشنز معمول بن گئے، جن کے دوران بے گناہ نوجوانوں کو تشدّد کا نشانہ بناکر لاپتا یا جعلی مقابلوں میں شہید کر دیا جاتا۔ بے شمار اجتماعی اور بے نام قبریں اسی بھارتی ریاستی ظلم و جبر اور دہشت گردی کی گواہ ہیں، جب کہ آج بھی وہاں ہزاروں لاپتا افراد کی مائیں انصاف کی منتظر ہیں۔

ان تمام ظالمانہ قوانین کے باوجود بھی جب کشمیری عوام کے حوصلے نہ ٹوٹ سکے، تو بھارت نے 2019 ء میں ایک اور سنگین حملہ کیا۔ نریندر مودی کی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی اور تاریخی خصوصی حیثیت کو یک طرفہ طور پر ختم کر کے وادی کو عملاً دنیا کی سب سے بڑی کُھلی جیل میں تبدیل کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد کم از کم آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی فوجی، نیم فوجی دستے اور پولیس اہل کار مقبوضہ کشمیر میں تعینات کردیے گئے۔ طویل کرفیو، مواصلاتی بندش، انٹرنیٹ کی معطّلی اور گھروں پر چھاپے روزمرّہ کا معمول بن گئے۔

بھارتی قابض حکّام کی جانب سے کشمیری رہنماؤں، کارکنوں اور نوجوانوں کو برسوں جیلوں میں قید رکھنا دراصل کشمیری عوام کی سیاسی سوچ، اجتماعی شعور اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کچلنے کی ایک منظّم کوشش ہے۔ مقبوضہ جمّوں و کشمیر سے گرفتار کیے گئے ہزاروں کشمیریوں کو دانستہ طور پر وادی سے سیکڑوں میل دُور جیلوں میں بھی منتقل کیا گیا ہے، جہاں انہیں شدید ذہنی و جسمانی اذیّت، قیدِ تنہائی اور غیر انسانی سلوک کا سامنا ہے۔

متعدد نمایاں کشمیری رہنما برسوں سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، جن میں مسرّت عالم بٹ، یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، ایاز اکبر، نعیم احمد خان، الطاف احمد بٹ سمیت دیگر حرّیت قائدین شامل ہیں۔ کئی رہنماؤں کے لیے بھارتی عدالتوں کی جانب سے واضح فیصلے دیے گئے کہ انہیں وادئ کشمیر سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا، مگر بھارتی حکومت نے اپنی ہی عدلیہ کے فیصلوں کو پامال کرتے ہوئے انہیں دُور دراز جیلوں میں قید رکھا۔ یہ طرزِ عمل اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ بھارت میں کشمیریوں کے لیے قانون، انصاف اور انسانی حقوق محض ایک دکھاوا ہیں۔

بھارتی جیلوں میں کشمیری قیدیوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ متعدد رپورٹس کے مطابق، قیدیوں کو دانستہ طور پر نفسیاتی دباؤ، تشدّد اور تنہائی میں رکھا جاتا ہے تاکہ ان کے حوصلے پست کیے جا سکیں۔ کشمیری قیدیوں کے اہلِ خانہ ہنوز اپنے پیاروں کی سلامتی کے حوالے سے شدید اضطراب کا شکار ہیں۔

اس کے ساتھ بھارتی میڈیا اور خفیہ اداروں کی جانب سے گُم راہ کُن رپورٹس کے ذریعے کشمیری قیدیوں کو بدنام کرنے کی منظّم مہم بھی جاری ہے۔ دراصل، کشمیریوں کی طویل نظر بندی کا اصل مقصد انہیں دہائیوں سے جاری حقِ خودارادیت کی جدوجہد سے دست بردار کروانا ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ظلم و جبر نے کشمیری عوام کو کبھی جُھکایا نہیں۔ خواتین پر ہونے والے مظالم اس المیے کا سب سے دردناک پہلو ہیں۔ 

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق بھارتی فوجیوں نےکم سِن بچّیوں سے لے کر ضعیف خواتین تک کو جنسی تشدد اور اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا۔ مقبوضہ وادی میں جو بھی انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے، اس کا پاسپورٹ ضبط کر لیا جاتا ہے، اُسے جیل یا گھر میں نظر بند کر دیا جاتا ہے۔ کئی حرّیت پسند قائدین جیلوں یا نظربندی کے دوران ہی شہید ہوچکے ہیں۔ 

یہی وہ تلخ اور دردناک پس منظر ہے، جس نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو خوف، جبر اور مسلسل صعوبتوں کی علامت، بلکہ عملی طور پر دنیا کی سب سے بڑی کُھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایسے میں عالمی برادری سے یہ سوال ناگزیر ہو چکا ہے کہ آخر کب تک کشمیری عوام کو قید اور لاپتا کیا جاتا رہے گا؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوامِ متحدہ، سلامتی کائونسل، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے مقبوضہ کشمیر میں جاری بدترین مظالم کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1948ءاور 1949ءکی قراردادیں اس حقیقت کی غمّازہیں کہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازع ہے، جس کا حل کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دیے بغیر ممکن نہیں۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق کشمیری عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آزاد اور غیر جانب دارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے اپنی سیاسی تقدیر کا فیصلہ خود کریں۔

اس مقصد کے لیے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفّظ کو یقینی بنانا، سیاسی قیدیوں کی رہائی، فوجی محاصرہ ختم کرنا اور ایک شفّاف عالمی نگرانی کے نظام کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے۔ یہ امر بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیری قیادت کو قید میں رکھنا، نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کرنا، خواتین کی بے حرمتی اور اختلافِ رائے کو طاقت کے زور پر دبانے کی پالیسی نہ صرف بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی کُھلی خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ طرزِ عمل خطّے میں امن کے بجائے مزید بے چینی، مزاحمت اور عدم استحکام کو جنم دینے کا باعث بن رہا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جبر سے نہ تو کسی قوم کی آواز دبائی جا سکتی ہے اور نہ ہی حقائق کو ہمیشہ کے لیے مسخ کیا جا سکتا ہے۔

5فروری۔ یومِ یک جہتی ٔ کشمیر دراصل اسی احتجاج اور اجتماعی جدوجہد کا اظہار ہے کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادی، قربانیوں اور ان کے جائز حق کو دنیا کے ہر فورم پر اُجاگر کیا جائے۔ کشمیر، اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے لیے دراصل ایک امتحان ہے، اور اس امتحان میں خاموشی اختیار کرنا، ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید