کراچی (نیوز ڈیسک) طالبان کا کہنا ہے کہ وہ امریکی قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن کون سے؟ افغانستان کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ وہ دو امریکی قیدیوں کو ’جلد از جلد‘ رہا کرنا چاہتے ہیں، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک تیسرا امریکی قیدی بھی اس میں شامل ہونا چاہیے۔ مہینوں سے امریکی اور افغان حکام خفیہ طور پر امریکی زیرحراست افراد کی رہائی کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ یہ صدر ٹرمپ کی ایک اہم ترجیح ہے اور طالبان کے ساتھ کسی بھی مزید سفارتی رابطے کے لیے ایک ناقابل سمجھوتہ شرط ہے۔ تاہم، مذاکرات میں شامل تین افراد کے مطابق، گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان سے کم از کم پانچ امریکی قیدیوں کی رہائی کے باوجود، باقی زیر حراست افراد کے مستقبل پر بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔ اگرچہ کئی امریکی قیدی بدستور حراست میں ہیں، افغان حکام کا کہنا ہے کہ گوانتانامو بے میں موجود آخری افغان قیدی کی رہائی کا فیصلہ امریکا کے اختیار میں ہے اور اسے کسی بھی آئندہ معاہدے کا حصہ ہونا چاہیے۔