اٹلی میں آج نکالی جانے والی ریلی 26 جنوری پر مرکوز ہے جس تاریخ کو بھارت اپنے 1950ء میں نافذ ہونے والے آئین کا جشن منایا جاتا ہے۔
1950ء میں بھارت میں نافذ ہونے والے آئین کے آرٹیکل 25-B میں سکھوں کو بطور’ہندو‘ لیبل کیا جاتا ہے جس کے تحت سکھوں کو اپنی شادیاں اور دیگر قانونی کارروائیاں ہندو قوانین کے مطابق رجسٹر کروانی پڑتی ہیں جوکہ ان کی مذہبی شناخت اور خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔
بھارت کے آئین کا آرٹیکل 25-B سکھوں کے اپنی روایات اور قوانین کے ساتھ ایک الگ کمیونٹی کے طور پر تسلیم کیے جانے کے حق کو مجروح کرتا ہے۔
سکھوں کا کہنا ہے کہ ہم ہندو نہیں ہیں کیونکہ ہم ایک مختلف مذہب، ثقافت اور رسم و رواج کی پیروی کرتے ہیں، پنجابی بولتے ہیں اور پنجاب میں رہنے والی ایک تاریخی قوم ہیں جو اس وقت بھارت کے قبضے میں ہے۔
سکھوں کا مزید کہنا تھا کہ ہم گلوبل خالصتان ریفرنڈم کے ذریعے پنجاب کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں۔
سکھوں کا کہنا تھا کہ ہم یورپی یونین کے رہنماؤں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدوں کو قبول نہ کریں کیونکہ یہ معاہدے ’آمرانہ پالیسیز‘ اور ’ریاستی دہشت گردی‘ کی برآمد میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں جو انسانی حقوق اور سلامتی کو مجروح کرتے ہیں۔
خالصتان کے حامی سکھوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارتی آئین اور بھارتی پرچم کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ وہ سکھوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔