افغان طالبان کے تعزیری ضابطہ کو افغان عوام اور عالمی برادری نے سخت مسترد کر دیا ہے۔
اس قانون کو انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کو دبانے، سماجی کنٹرول قائم کرنے اور تشدد و امتیاز کو سرکاری جواز فراہم کرنے کا ہتھکنڈا قرار دیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں افغانستان کے انسانی حقوق کے نمائندے رچرڈ بینیٹ نے نئے قانون کے سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔
سابق افغان قومی سلامتی سربراہ رحمت اللّٰہ نبیل نے اسے مذہب کے سیاسی استعمال اور سخت گیر نظریے کی عکاسی قرار دیا۔
آسٹریا میں افغان سفیر منیزہ بختری نے کہا کہ طالبان کا تعزیری ضابطہ انصاف نہیں بلکہ آمرانہ سماجی کنٹرول کا ذریعہ ہے۔
قانونی ماہرین اور افغانستان ویمنز جسٹس موومنٹ نے بھی اس قانون کو انسانی وقار، قانونی مساوات اور بنیادی حقوق کی نفی قرار دیا۔
افغان شہری سوشل میڈیا پر طالبان کے ظالمانہ قانون کو بے نقاب کر رہے ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ضابطہ خوف، جبر اور اطاعت کے ذریعے معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے کو کمزور کرے گا۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللّٰہ اخوندزادہ نے طالبان عدالتوں کے نئے فوجداری طریقہ کار کے ضابطوں کی منظوری دی تھی اور اسے افغان عدالتی اداروں میں نافذ کرنے کے لیے جاری کیا تھا۔