سابق افغان وزیر خزانہ انوار الحق احدی کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم میں سرمایہ کاری کے لیے حالات انتہائی خطرناک ہوچکے ہیں۔
افغانستان انٹرنیشنل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پر سرمایہ کاری کے لیے ضروری فریم ورک تک موجود نہیں، قانونی فریم ورک کا فقدان ہے۔
انوار الحق احدی کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں پر طالبان حمایت یافتہ افراد کی اجارہ داری ہے، افغانستان میں سرمایہ کاروں کے لیے سیکیورٹی اور تربیت یافتہ افراد موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی پابندیاں، معاشی پالیسیوں کی عدم موجودگی سرمایہ کاری کو محدود کر چکی ہے۔
افغانستان کو 2026 میں ایک بڑ ے معاشی بحران کا سامنا ہو گا
دوسری جانب اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کی وجہ سے بیروزگاری کی شرح 75 فیصد تک پہنچ گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی علاقائی امن واستحکام کو شدید خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔ افغانستان کو 2026 میں ایک بڑ ے معاشی بحران کا سامنا ہو گا۔