• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سوئی ناردرن کے ملازمین پائپ چوری میں ملوث، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں انکشاف

فائل فوٹو۔
فائل فوٹو۔

پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ 

اس موقع پر سوئی ناردرن کے اپنے ہی ملازمین کا گیس پائپ کی چوری میں ملوث ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، مانگا منڈی میں گیس پائپ کی چوری سے41 کروڑ روپے سے زائد نقصان ہوا۔ 

آڈٹ حکام کے مطابق اسٹور سے41 کروڑ روپے سے زائد کے پائپ چوری کیے گئے، ایف آئی اے نے اس چوری پر مجموعی طور پر 41  انکوائریاں کی ہیں۔ 

آڈٹ حکام کی بریفنگ  کے مطابق ٹرکوں کے حساب سے ایس این جی پی ایل اسٹور سے مال نکالا گیا ہے۔ 

رکن کمیٹی شازیہ مری نے کہا یہ ادارے کی اپنی چوری ہے، یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ پہلے کہتے تھے لوگ چوری کرتے ہیں، اب ادارے کے ملازم ہی چوری کر رہے ہیں۔

ایس این جی پی ایل حکام نے کہا ہے کہ سیکیورٹی کیمرے براہ راست ہیڈ آفس میں رپورٹ کرتے ہیں۔ منیجنگ ڈائریکٹر سوئی ناردرن نے کہا کہ 41 کروڑ روپے میں سے 16 ملین روپے کی ریکوری کرلی گئی ہے۔

ایف آئی اے حکام نے کہا کہ 18 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، سب کی ضمانت ہوگئی۔ 

سوئی ناردرن حکام نے کہا کہ ادارے نے 41 لوگوں کو چوری کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ عدالت نے ان سب لوگوں کو ضمانت کیسے دے دی؟ حکام نے بتایا کہ ایس این جی پی ایل کے بورڈ نے اس کیس کیلئے خصوصی کمیٹی بنائی ہے۔

ایف آئی اے حکام نے کہا کہ ایف آئی اے نے 4  کروڑ 40  لاکھ روپے کی ریکوری کی ہے، ایف آئی اے نے سوئی ناردرن سے فارنزک آڈٹ کی درخواست کی ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف آئی اے سے پائپ چوری کی تحقیقات پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔

قومی خبریں سے مزید