• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کچھ سانحات ایسے ہوتے ہیں جن پر لفظ ’’افسوس‘‘محض رسمی دکھائی دیتا ہے۔ لاہور کے بھاٹی گیٹ کے قریب داتا دربار کے سائے میں ایک ماں اور اسکی دس ماہ کی بچی کا کھلے مین ہول میں گر کر جان سے جانا محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے ریاستی نظم و نسق، حکمرانی کے دعووں، طاقت کے رویّوں اور اخلاقی معیارکوبے نقاب کر دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں صرف ایک سڑک نہیں کھلی تھی، پورا نظام کھل کر سامنے آ گیا تھا۔سعدیہ اور اسکی معصوم بیٹی ردا فاطمہ شام کے وقت اس سڑک سے گزر رہی تھیں جہاں کھدائی جاری تھی، مین ہول کھلا تھا، روشنی ناکافی تھی اور کسی قسم کی حفاظتی رکاوٹ بھی موجود نہیں تھی۔ چند لمحوں میں ایک گھر اجڑ گیا۔

اصل المیہ مگرلاشوں کے ملنے سے پہلے شروع ہو چکا تھا، جب حکام کی جانب سے انکار کی آوازیں آنے لگیں۔کہا گیا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔کہا گیا کہ یہ غیر ذمہ دارانہ صحافت ہےاور یہ سب کچھ اس وقت کہا جا رہا تھا جب ایک ماں اور بچی سیوریج کے تیز بہاؤ میں بہہ رہی تھیں۔ یہاں سے وہ مرحلہ شروع ہوا جہاں سانحہ صرف انتظامی غفلت نہ رہا بلکہ ایک روایتی ریاستی رویّہ بن گیا۔ بعد ازاں وزیرِ اطلاعات کا موقف سامنے آیا کہ وہ ذاتی طور پر دکھی اور شرمندہ ہیں، انتظامیہ نے غلطی چھپانے کیلئے غلط حقائق فراہم کیے، انہی معلومات کی بنیاد پر انہوں نے بات کی، وہ استعفیٰ دینے کیلئے بھی تیار تھیں مگر وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ یہ انکی غلطی نہیں، اور یہ کہ پنجاب میں انسانی جان کے ضیاع کی کوئی معافی نہیں۔یہ بیان ذمہ دارانہ ہے اور اس میں ایک حد تک بڑائی کا عنصر بھی ہے کہ استعفیٰ دینے کی بات کی گئی، ندامت کا اظہار کیا گیا اور یہ تسلیم کیا گیا کہ غلط معلومات دی گئیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وزارتِ اطلاعات کا منصب صرف معلومات کی ترسیل کا ہے یا اس کی تصدیق کی ذمہ داری بھی اسی منصب کا حصہ ہے؟ اگر ایک وزیر یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جائے کہ مجھے جو بتایا گیا وہ میں نے آگے پہنچا دیا، تو پھر ریاستی بیانیے اور سچ کے درمیان فرق کون کرے گا؟یہ بات ماننی پڑے گی کہ غلطی چھپانے کا اعتراف ایک قدم ہے، مگر یہ آخری قدم نہیں۔ معافی اس وقت معنی رکھتی ہے جب اس کے ساتھ نظام کی اصلاح بھی ہو۔ استعفیٰ کی پیشکش اخلاقی طور پر قابلِ احترام ہو سکتی ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک فرد کی اخلاقی نیت پورے نظام کی خرابی کا کفارہ بن سکتی ہے؟ جواب واضح ہے: نہیں۔وزیرِ اعلیٰ کا سخت برہم ہونا، افسران کو معطل کرنا اور ایک کروڑ روپے کا اعلان کرنا فوری ردعمل ہو سکتا ہے، مگر یہ علاج نہیں۔ انسانی جان کا مداوا غصے سے نہیں ہوتا، نہ ہی چیک سے۔ اگر ریاست واقعی یہ مانتی ہے کہ انسانی جان کے ضیاع کی کوئی معافی نہیں، تو پھر معافی صرف بیان سے نہیں بلکہ عمل سے مانگی جاتی ہے۔

افسران کو معطل کر دیا گیا، ٹھیکیدار کو گرفتار کرنے کا کہا گیا۔ مگر کیا یہی مکمل سچ ہے؟ کیا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس نظام کو ایسا بنایا کہ ایک ماں اور بچی اندھیرے میں کھلے مین ہول میں گرجائیں؟ اگر ذمہ داری فکس کرنی ہے تو یہ صرف فیلڈ تک محدود نہیں ہوتی۔ اس کا دائرہ ضلعی انتظامیہ، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، چیف سیکرٹری اور بالآخر سیاسی قیادت تک جاتا ہے، کیونکہ یہی وہ سطح ہے جہاں نگرانی کے نظام بنتے یا ٹوٹتے ہیں۔دنیا کی مہذب ریاستوں میں ایسے سانحات کے بعد آزاد جوڈیشل انکوائری ہوتی ہے، پہلے حقائق اکٹھے کیے جاتے ہیں، پھر سزا دی جاتی ہے۔ وہاں کسی افسر کی عزت ایک پریس کانفرنس میں پامال نہیں کی جاتی، نہ ہی سزا پہلے اور تحقیق بعد میں ہوتی ہے۔ یہاں مگر جذباتی فیصلے، فوری قربانیاں اور بعد میں خاموشی ہمارا مستقل طریقہ بن چکا ہے۔ اس تمام بحث میں ایک پہلو ایسا ہے جو اس سانحے کو محض ناکامی سے بڑھا کر ظلم بنا دیتا ہے، اور وہ ہے پولیس کا رویّہ۔سعدیہ کا شوہر جب پولیس اسٹیشن درخواست دینے گیا، وہ انصاف مانگنے نہیں بلکہ اپنی بیوی اور بچی کی گمشدگی رپورٹ کرنے گیا تھا۔ مگر اسے ہمدردی نہیں ملی، تحفظ نہیں ملا، بلکہ الٹا اسے زد و کوب کیا گیا۔ اس پر الزام لگایا گیا کہ وہ اپنی بیوی کو مارتا تھا۔ اسے ڈرایا گیا کہ درخواست واپس لے لو۔

ہمارا پولیس نظام آج بھی نوآبادیاتی ذہنیت کا اسیر ہے، جہاں شہری مشکوک ہوتا ہے اور ریاستی بیانیہ مقدس۔ درخواست واپس کروانے کا دباؤ، الزام تراشی، تشدد یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ مسئلہ ’’حل‘‘ ہو جائے، یعنی فائل بند ہو جائے۔یہاں دنیا کی مثالیں دینا ضروری ہے، کیونکہ وہاں معافی ایک عمل ہوتی ہے، محض بیان نہیں۔ وہاں شفافیت، احتساب اور شہری کے احترام کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں مگر طاقت کو بچانے کیلئے سچ قربان کر دیا جاتا ہے۔سعدیہ اور ردا فاطمہ اب واپس نہیں آ سکتیں۔ ایک کروڑ روپے ان کی سانسیں نہیں لوٹا سکتے۔ معافی ان کے دن واپس نہیں لا سکتی۔ مگر اگر اس سانحے کے بعد بھی ہم نے یہ نہ سیکھا کہ سچ کو دبانا، طاقت کا غلط استعمال اور پولیس کا وحشیانہ رویہ بند کرنا ہوگا، تو پھر یہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا، یہ ایک وارننگ تھی۔یہ معافی کافی نہیں، یہ غصہ کافی نہیں، یہ مالی امداد کافی نہیں۔ کافی صرف ایک چیز ہے: اوپر سے نیچے تک بے لاگ احتساب، شفاف جوڈیشل انکوائری، اور شہری کو شہری سمجھنے والا نظام۔ اگر یہ نہیں ہوا تو کھلے مین ہول صرف سڑکوں پر نہیں رہیں گے، وہ ہمارے نظام میں ہمیشہ کھلے رہیں گے۔

تازہ ترین