کراچی( سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستان میں ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) تعلیم کے معیار، افادیت اور عالمی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے قومی اسٹریٹجک ٹاسک فورس برائے اصلاحاتِ ڈاکٹریٹ تعلیم قائم کر دی ہے۔ اس ضمن میں جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ٹاسک فورس ملک بھر میں پی ایچ ڈی نظام کے ڈھانچے، نگرانی، فنڈنگ، تحقیقی معیار اور نتائج کا جامع جائزہ لے گی اور اصلاحاتی سفارشات مرتب کرے گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق ٹاسک فورس کے کنوینر ڈاکٹر سہیل ایچ نقوی (ممبر کمیشن، HEC) ہوں گے، جبکہ ارکان میں ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع (چیئرمین، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن)، ڈاکٹر اقرار احمد خان (چیئرمین، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن)، پروفیسر کامران صدیقی (یونیورسٹی آف یارک، برطانیہ)، پروفیسر ڈاکٹر ایم اسلم بیگ (سیکریٹری، پاکستان اکیڈمی آف سائنسز)، پروفیسر ڈاکٹر نصیر جمال خٹک (وائس چانسلر، یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر، مظفرآباد)، پروفیسر ڈاکٹر یوسف خوشک (وائس چانسلر، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی، خیرپور)، ڈاکٹر علی حسنائن (ایسوسی ایٹ پروفیسر اکنامکس، لمز، لاہور)، پروفیسر ڈاکٹر شعیب احمد خان (چانسلر، سر سید کیس یونیورسٹی، اسلام آباد)، پروفیسر ڈاکٹر محمد علی ناصر (ایڈوائزر آر اینڈ ڈی، HEC)، ایک انڈسٹری نمائندہ، ڈاکٹر آسیہ بخاری (صدر، پاکستان نیٹ ورک آف کوالٹی ایشورنس اِن HEC)، انٹرنیشنل نیٹ ورک فار کوالٹی ایشورنس ایجنسیز (INQAAHE) کا نمائندہ، اور ایک پی ایچ ڈی طلبہ نمائندہ شامل ہوں گے۔ٹاسک فورس کے سیکریٹری ڈاکٹر عابداللہ انور (ڈپٹی ڈائریکٹر، کوالٹی ایشورنس، HEC) ہوں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ٹاسک فورس کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ پاکستان میں ڈاکٹریٹ تعلیم کے نظام میں موجود ساختی کمزوریوں کی نشاندہی کرے، پی ایچ ڈی ماڈلز اور قواعد کی افادیت کا جائزہ لے، معیار میں کمی کے بنیادی اسباب تلاش کرے اور قومی ضروریات کے مطابق پائیدار اور مختلف النوع ڈاکٹریٹ ماڈلز تجویز کرے۔ٹاسک فورس پی ایچ ڈی داخلوں، نگرانی کے نظام، مقالہ جاتی معیارات، اشاعت کے طریقۂ کار، فنڈنگ، مدتِ تکمیل، طلبہ کے معاشی حالات، تحقیقی ماحول، سپروائزرز کی اہلیت اور احتساب، اور گریجویٹس کی ملازمت سے مطابقت جیسے پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی معیار سے موازنہ، پالیسی سمیولیشن، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا اینالیسس کے ذریعے اصلاحات کے ممکنہ اثرات کا اندازہ بھی لگایا جائے گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق ٹاسک فورس چھ ماہ کے اندر اپنی حتمی اصلاحاتی رپورٹ، نفاذی روڈمیپ اور قابلِ پیمائش کارکردگی اشاریے (KPIs) جمع کرائے گی، جس میں قلیل، وسط اور طویل المدتی اصلاحات شامل ہوں گی۔ کوالٹی ایشورنس ڈویژن ٹاسک فورس کو انتظامی اور تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔