کراچی( سید محمد عسکری) برطانیہ میں پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے جاری انٹرنیشنل ٹریننگ فیلوشپ (آئی ٹی ایف) پروگرام پر برطانوی میڈیا اور طبی حلقوں میں اٹھنے والے سنگین سوالات کے بعد لندن میں پاکستان ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے وفاقی وزیر صحت مصطفی کمالکو ایک مراسلہ ارسال کرتے ہوئے اس معاملے کو پاکستان کے لیے تشویشناک اور ساکھ کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا ہے۔ ہائی کمیشن کے مطابق برطانوی اخبار ڈیلی میل اور برٹش میڈیکل جرنل (BMJ) میں شائع ہونے والی رپورٹس میں College of Physicians and Surgeons of Pakistan (CPSP) اور University Hospitals Birmingham NHS Foundation Trust (UHB) کے درمیان جاری آئی ٹی ایف پروگرام میں متعدد مالی، انتظامی اور قانونی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔مراسلے کے مطابق 2017 سے اب تک CPSP کے ذریعے 700 سے زائد پاکستانی ڈاکٹروں کو دو سالہ تربیتی مدت کے لیے برطانیہ بھیجا گیا۔ تاہم 2023 میں UHB کی اندرونی تحقیقات کے بعد 2024 میں اس کے چیف میڈیکل آفیسر نے بین الاقوامی آڈٹ فرم KPMG سے پروگرام کا باضابطہ آڈٹ کروایا، جس میں 17 سنگین نوعیت کے خدشات سامنے آئے۔ آڈٹ میں انکشاف ہوا کہ آئی ٹی ایف ڈاکٹروں کو دی جانے والی ماہانہ ادائیگیاں براہِ راست اسپتال کے بجائے برطانیہ میں قائم ایک نجی کمپنی اسکالر اینڈ ٹریننگ سروسز لمیٹڈ کے ذریعے کی جاتی رہیں، جسے 2017 میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک سابق سرکاری افسر نے قائم کیا۔ 2017 سے 2025 کے دوران اس کمپنی کو مجموعی طور پر 40.5 ملین پاؤنڈز کی ادائیگی کی گئی، تاہم اس بات کی کوئی واضح تفصیل دستیاب نہیں کہ اس رقم میں سے ڈاکٹروں کو اصل تنخواہ کے طور پر کتنا دیا گیا۔مراسلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ آئی ٹی ایف پروگرام کے تحت کام کرنے والے ڈاکٹروں نے برطانیہ میں حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس ادا نہیں کیا، جب کہ متعدد ڈاکٹروں کے ضروری پری ایمپلائمنٹ چیکس، بشمول مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ، بھی مکمل نہیں کی گئی۔ ہائی کمیشن کے مطابق پروگرام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ڈاکٹر برطانیہ میں مہارت حاصل کرنے کے بعد پاکستان واپس آ کر ملکی نظامِ صحت میں خدمات انجام دیں، تاہم اکثریت نے واپسی اختیار نہیں کی، جو پروگرام کی روح کے منافی ہے۔ اس کے علاوہ UHB کے عملے کی جانب سے پاکستان کے متعدد غیر ظاہر شدہ بھرتی دوروں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ ہائی کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ چونکہ CPSP ایک سرکاری ادارہ ہے، اس لیے ان رپورٹس کے نتیجے میں برطانیہ میں پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور مستقبل میں پاکستانی ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لیے روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔مراسلے میں سفارش کی گئی ہے کہ CPSP فوری طور پر پورے پروگرام کا داخلی آڈٹ کرائے، ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، مالی ادائیگیوں میں ثالث کمپنی کے کردار کی وضاحت کی جائے، برطانوی میڈیا اور BMJ کے ساتھ باضابطہ مؤقف پیش کیا جائے اور ایسے تمام بین الاقوامی پروگرامز کا جامع آڈٹ کیا جائے۔ ہائی کمیشن نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں CPSP کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور اس معاملے پر فوری کارروائی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا ہے۔