دستِ خالق نے بنی نوع انسان کو خلق کیا تو ’’احسنِ تقویم‘‘ یعنی بہترین ساخت اور اشرف المخلوقات کی سند بھی عطا کی۔ یہ مُہر محض بیرونی خدوخال اور ظاہری حال و جمال کے لییے نہیں بلکہ بشری صلاحیتوں کو بامِ کمال تک پہنچانے کی بھی ہے۔
ہمارے اِس نئے سلسلے ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس اُن بڑے اور مثالی انسانوں کے دل چسپ و دل آویز شخصی خاکے لکھیں گے، جنہوں نے خدا کی عطا کردہ اس مُہر کو صد فی صد درست ثابت کیا اور اپنے اپنے میدان میں تاحدِ امکاں عُروج پا کر دستِ خالق کی مُہر کی تصدیق کی۔ یہ نادرِ روزگار شخصیات ادب، اداکاری، سیاست، صحافت، کھیل، بیوروکریسی، بزنس، تعلیم اور صحت وغیرہ کے شُعبوں کے درخشندہ ترین ستارے ہوں گے۔
رحمان فارس ایک سینئر بیوروکریٹ (اسلام آباد میں تعینات ہیں)، انتہائی مقبول، ہردل عزیز شاعر اور کالم نگار ہیں۔ اُن کے تین شعری مجموعے شائع ہو کر بے پناہ مقبولیت حاصل کر چُکے۔ نیز، سوشل میڈیا پر نوجوان نسل کے مقبول ترین شعراء میں شمار ہوتے ہیں۔
اور ہاں… ہمیں، ہمارے اس نئے سلسلے سے متعلق بھی اپنی آراء سے آگاہ کرنا ہرگز مت بھولیے گا۔ (ایڈیٹر، سنڈے میگزین)
صاحبو! ابتدا ہی میں مجھے اس بات کا برملا اعتراف کرنے دیجے کہ میرے لیے افتخار عارف صاحب کا خاکہ لکھنا ایک کارِ دُشوار ہے۔ یہ کوشش ایسی ہی ہے، جیسے کوئی کوہِ ہمالیہ کی تصویر اُس چُنے مُنے فاؤنٹین پین سے بنانا چاہے، جس کی نِب میں نہ روشنائی ہو، نہ رائے۔
اس کوشش میں مجھ ایسا مبتدی، نَومشقی کا شکار طالبِ ادب یا تو خالی خولی آدھی ادھوری کوئی شبیہ بنا پائے گا یا آٹھ سات آڑی ترچھی لکیروں سےتراشا کوئی مٹیالا ساعکس۔ لیکن مجھے کامل یقین ہے کہ اصل اتنا بڑا ہو تو عکس تھوڑا بہت بن کر بھی عظیم ہی ہوگا۔ ظاہر ہے طلوعِ آفتاب کی تصویر چاہے کوئی نَومشق کھینچے، سورج کی عظمت توبہرحال آشکاررہےگی۔ سو، افتخارِ ادب کے سامنے عجزِ اظہار کے ساتھ ہی خاکہ آغاز کرنا بنتا ہے، البتہ کہیں کہیں نثر کی پھسلواں ڈھلوان سے بعضے بعض باادب چُٹکلے در آئیں تودر آئیں۔
کیوں کہ موصوف اپنی تمام تر سنجیدہ مزاجی کے باوجود ایک ایسی باغ و بہار، بھری پُری اور بھرپور شخصیت ہیں کہ جن کی موجودگی میں محفل رنگ و خوشبو کی آماج گاہ بنی رہتی ہے۔ راگنی سمپورن ہو تو چاہے اُس سے نغمہ بنائیے یا نوحہ، مدُھرتا بہرحال رچی بسی رہے گی۔ سو، مَیں علم و ہنر کے اس تاج محل میں بصد ادب داخل ہوں گا، وہ بھی جوتے اُتار کے، بسم اللہ پڑھ کے۔
بلاشبہ، دستِ قدرت نے افتخارعارف کا سی وی خُوب سینت سنوار کر بنایا ہے۔ مُلاحظہ کیجے، لکھنؤ نے اُنہیں لازوال لہجہ ولغت دی، کراچی نے اُنہیں بذریعہ ٹیلی ویژن قومی شہرت، لندن نے اُنہیں اُردو مرکز کی مرکزیت، اسلام آباد نے گریڈ بائیس کی قدرومنزلت اور اُردو زبان و ادب نے اُنہیں بقا تا قیامت دے دی۔
اُن کے کچھ منہ پھٹ ناقدین یہ پُھسپھسا اعتراض کرتے ہیں کہ افتخار ہر عہدِ حکومت میں اس لیے چمکتے دمکتے رہے کہ صاحبانِ اختیار سے اُن کی دوستی تھی، حالاں کہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ صاحبانِ اختیار اس لیے چمکتے دمکتے رہے کہ افتخار عارف جیسا رشکِ آفتاب اُن کے عہد میں موجود اور اُن کی غلطیوں کو سُدھار نے پر قادر تھا۔
سچ تو یہ ہے، جس زمانے میں سچ کسی کونے کُھدرے میں بیٹھا چائے کی چُسکیاں لیتا، کسی بھی گفت و شُنید سے قطعی بےنیاز تھا، افتخار کا قلم تب بھی سرِعام حق بات مصرعوں میں ڈھال رہا تھا۔ حرفِ حق کے ضمن میں، کربلائی استعاروں سےاُردوغزل کوجتنا ثروت مند افتخار عارف نے کیا، شاید ہی کوئی کر پایا ہو۔ اس پر یقیناً انیس و دبیر بھی داد دیتے۔
موصوف ایسی شخصیت کے حامل ہیں، جسے اردو میں ’’مَن موہنی‘‘کہتے ہیں۔ نرم خدوخال پر ضوفشاں معصوم مسکراہٹ، دھیان میں ڈوبی، غزل کا امکان تلاشتی متحرک آنکھیں، بزرگی بھرے دودھیا سفید بال، محبت و شفقت سے لب ریز رویہ، محبتی مدُھر میٹھی آواز۔ ’’میاں! کیسے ہو؟‘‘ کہتے ہیں، تولگتا ہے، کسی گیت کا مُکھڑا گنگنا رہے ہیں۔
اُن کا کھرج ایسا دھیما ہے کہ مجھے لگتا ہے، اُن کی ساری گفتگو ہی بھیرویں یا کھماج میں ہوتی ہے۔ آپ اُنہیں عزیز ہیں تو آپ کا ہاتھ یُوں مان سے اپنے ہاتھ میں تھام کر بیٹھیں گے، گویا ملکیت کا اعلان ہو۔ آپ اُنہیں نسبتاً کم عزیز ہیں، تو بھی مسکراہٹ کی خیرات بٹتی رہے گی اور آپ اُنہیں بالکل عزیز نہیں(جو کہ کوئی ایک آدھ ہی ہوگا۔ سرِدست ایک نام تو ہمارے دھیان میں آرہا ہے) تو خاموش ہی رہیں گے۔
بات افتخارعارف کے لکھنوی لہجے اور شین قاف کی دلبرانہ ادائی سے آگے بڑھائی جائے تو بےحد مناسب ہوگا، کیوں کہ وقیع سے وقیق کتابِ فلسفہ بھی تو پہلے ہی لفظ کے تلفّظ سے شروع ہوتی ہے۔ گمانِ غالب ہے، ارسطو اگر کہیں لکھنؤ میں افتخار صاحب کا محلے دار ہوتا تو یقیناً ان کے علم وہنر سے متاثر ہوکر اُنہیں بالعموم زبانِ اردو اور بالخصوص حروفِ علت کی پاس داری پر مامور کرتا۔ افتخار کی لکھنوی اردو گھونگھٹ اوڑھے، پازیب پہنے، سولہ سنگھار کیے نہایت سہج سہج نمودار ہوتی ہے۔
حروف، افتخار کو کورنش بجا لائے بغیر اُن کے جملوں میں داخل نہیں ہوتے۔ آپ اگر خوش قسمتی سےمحفلِ افتخار میں موجود ہوں تو آپ کو خاموشی بھی بلحاظِ گرائمر سو فی صد درست سُننے کو ملے گی۔ موصوف آپ کو ’’جناب‘‘ کہہ کر مخاطب کریں تو سمجھیے، شاعری آپ پر مہربان ہے۔ ایک بار لاہور میں ہم اُن سے ملے، تو اپنے دلبرانہ انداز میں چہک کر بولے۔ ’’کیسے ہو، میاں! دُلہن کیسی ہیں ؟‘‘ ہم پہلے تو گھبرا گئے کہ شاید یہ سمجھ رہے ہیں، ہم نے ازسرِ نَو شادی کرلی۔
پھر یاد آیا کہ لکھنؤ میں بہورانی چاہے نانی،دادی ہی کیوں نہ بن جائیں، بزرگوں کی لغت میں دُلہن ہی رہتی ہیں۔ ناچیز کو یاد پڑتا ہے، ایک بار اسلام آباد کے ایک مشاعرے میں افتخار صاحب اپنی تازہ غزل پڑھ رہے تھے۔ غزل کی قرات اُنہوں نے یوں کی کہ چند ثانیوں کے لیے اسلام آباد بھول گیا کہ وہ اسلام آباد ہے۔ ٹریفک کے اشارے محبوب کے غمزہ و عشوہ و ادا بن گئے۔
سنگ وخشت کی عمارات’’یادش بخیر‘‘ کا الاپ کرکے سُہانے ماضی میں ڈوب گئیں۔ وہیں کہیں ایک بیوروکریٹ کے دل میں یک لخت تمنا جاگی کہ وہ فون پر دفتری خط وکتابت ترک کرکے قلم سے محبوب کو خط لکھے۔ دُورکہیں مارگلہ کی پہاڑیاں اپنے اپنے کوہ کن کوصدائیں دینے لگیں۔
یہ ہے سخنِ افتخار کی قدرت۔ وہ محضِ مائلِ سماعت ہی نہیں کرتے،اشیاء کی ہیئت اور اذہان کی ساخت بدلنے پربھی قادر ہیں۔ وہ اپنے سامعین کو اس زمان و مکان میں بھی بھیج سکتے ہیں، جو سامعین نے کبھی دیکھا ہی نہ ہو اور حد یہ ہے، اس زمان و مکان کی یاد میں آنسو بہانے پر آمادہ بھی کرسکتے ہیں۔
افتخارعارف کا ناسٹیلجیا رقّت انگیز بھی ہے اور اُمید افزا بھی۔ بالکل اُس لائبریرین کی طرح جوکھوئی ہوئی کتابوں کی یاد میں مغموم تو رہتا ہے، لیکن کبھی اُنہیں تلاشنے کی کوشش ترک نہیں کرتا۔ اُس کےنزدیک کتابیں کھوئی نہیں بس کسی غلط الماری میں دھر دی گئی ہیں اور کسی بھی روز ضرور بالضرور مِل جائیں گی۔
اشک و اُمید کے درمیان روشن اِسی نادیدہ کیفیت کے زیرِاثر افتخار عارف کی ہر غزل کی پڑھنت میں اُس عہدِ فراموش کی یاد ضرور شامل ہوتی ہے، جب شاعری دِلوں کی حُکم ران تھی، ٹیلی ویژن باریک بین تھا اور لوگ نفرت کی بجائے محبّت کیا کرتے تھے۔
ٹیلی ویژن سے مجھے’’کسوٹی‘‘ یاد آگیا۔ اور اُس کایاد آنا لازم تھا۔ ارے بھئی، کیوں نہ یاد آتا بھلا؟ اگر ذہانت کسی پھول کا نام رکھ دیا جائے، تو کسوٹی شو ایک بےکراں باغ تھا۔ قریش پور، عبیداللہ بیگ اور افتخار عارف نامی تین ہستیاں ایسے سوالات کیا کرتیں، جن سے ذہنی تربیت پہلے مِلا کرتی، جوابات بعد میں۔
ان تینوں کو محض دیکھ ہی لینا تہذیب کی پیاری پوشاک پہننے کے مترادف تھا۔ افتخار عارف اس تیکھی تکون اور محبّتی مثلث میں نسبتاً خاموش مگر تیز ترین دماغ کا کردار ادا کرتے تھے۔ وہ بہت دھیمے سے مُسکراتے، اپنی عینک کا زاویہ درست کرتے اور پھر ایک ایسا سوال پوچھتے کہ صدیوں کی علمی تاریخ اُس ایک جُملے میں سمٹ آتی۔
ٹیلی ویژن اسکرین، اسٹوڈیوز اور مشاعروں سے ذرا دُور افتخار عارف صاحب کا بیوروکریسی سے تعلق حاسدین کے لیے جلن و کڑھن کا باعث رہا ہے۔ حسد و رقابت کی آگ کون ٹھنڈی کر سکا ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ کسی بھی ریاست کے لیےافتخار صاحب جیسے حق گو ضمیر کی آواز ثابت ہوتے ہیں۔ افتخار کی شخصیت میں ایک الگ ہی کششِ ثقل ہے۔ مختلف اداروں کی سربراہی ان کے اردگرد اس لیے گھومتی رہی کہ وہ جہاں گئے، سنجیدگی ومتانت، ذہانت و فطانت اورحق گوئی و دیانت کی لغت ساتھ لے کرگئے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اُنہوں نے حکومتوں کی تربیت بھی سہج انداز میں کی۔ یہ بھی سچ ہے، اپنے تمام تر سرکاری عہدہ و جاہ و منصب کے باوجود وہ ہمیشہ قابلِ رسائی رہے۔ کبھی کوئی نوجوان شاعر اپنا مسوّدہ لےکر کانپتے ہاتھوں سے اُن تک پہنچا تو بےپناہ عزت و توقیر لےکر پلٹا۔ یہ الگ بات کہ اِن کی شخصیت میں موجود کسرِ نفسی، عاجزی کو لوگوں نےغلط مطلب دیا لیکن اس سے محض ہمارےقومی رویے کی خبر ہوتی ہےکہ ہم تہذیب وشائستگی کو شخصی کم زوری سمجھتے ہیں۔
ہم بطورِ قوم جہالت کا تواعتبار کر لیتے ہیں، لیکن کسی شان دارشخصیت کی دمک بآسانی سہار نہیں پاتے۔ سو، ایک ایسا ادیب و دانش وَر، جو مسلسل ارفع ادب کا خالق بھی ہے اور مسلسل منکسر المزاج بھی، ہمارے معاشرے کے لیے ایک ایسے انوکھے دیومالائی کردار کی صُورت سامنے آتا ہے، جس پر ناکام چاند ماری اوسط ذہنیت و قابلیت والوں کا مشغلہ بن جاتا ہے۔
افتخارعارف کی فیض صاحب سے قربت اور نیازمندی کا بہت تذکرہ ہوتا ہے، لیکن یہاں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ افتخار صاحب نے کبھی مانگے تانگے کی روشنی سے خُود کو اُجاگر کرنےکی کوشش نہیں کی۔ ہاں، اتنا ضرور ہے، افتخار، فیض کے نام کو بہت تقدّس سے ساتھ لے کر چلتے ہیں، کیوںکہ وہ بخوبی باخبر ہیں کہ عظیم رفتگاں، آئندگاں کے لیے ذمّےداری ہوتے ہیں، تمغے نہیں۔ وہ جب بھی فیض صاحب سے اپنے دیرینہ، قریبی تعلق کا ذکر کرتے ہیں تو اس کا مطلوب ومقصود نمود ونمائش نہیں،تاریخ کی اُس گفتگو کو جاری و ساری رکھنا ہوتا ہے، جس کا ایک جُملہ فیض صاحب اور اگلا جُملہ افتخار صاحب خُود ہیں۔ لندن نے بھی افتخار صاحب پر اَن مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔
پاکستانی کلچر کی ترویج و اشاعت کےحوالے سےاُن کی سرکردگی میں اُردو مرکز لندن ہر لحاظ سے ایک فعال سفارت خانہ ہی تو تھا۔ انگلستان کے دارالخلافہ کی مسلسل بوندا باندی میں چھتری کی چھترچھاؤں تلے چلتے ہوئے افتخار صاحب نے کیسی کیسی شاہ کار نظمیں، غزلیں کہی ہوں گی کہ جن کی گونج آج بھی اُردو ادب کے ایوانوں میں بلند ہے۔ بی سی سی آئی ایک بینک کم اور کوالٹی کا استعارہ زیادہ تھا۔
وہیں بینکاری اورسخن نگاری کے مابین کہیں افتخار صاحب نے وہ چشمہ تلاش لیا کہ جس کانام’’اردو مرکز، لندن‘‘ تھا، پھر اس میں اپنی شخصیت کی چاشنی گھول دی۔ صاحبو! کون ساغزالِ ادب ایسا تھا، جو اس مہکار بھرے پانی کی سمت لپکتا جھپکتا نہیں آیا۔ مشتاق احمد یوسفی، فیض صاحب، زہرا آپا، احمد فراز، ساقی فاروقی۔
غزالانِ غزل کے پروں کے پرے یہاں اکٹھے ہوتے، افتخارصاحب کی میزبانی میں محافل جمتیں، اِدھر فیض صاحب اپنے مخصوص اندازمیں انگلیوں کے درمیان ادھ سُلگا ادھ بُجھا سگریٹ دبائے، ہاتھ ماتھے پر اٹکائے بازارِ غزل میں پابجولاں چل رہے ہیں، اُدھر مشتاق احمد یوسفی کسی چراغ تلے آبِ گم کی تلاش کی زرگزشت سُنا رہے ہیں، ذرا دائیں طرف دیکھیے تو احمد فراز مشروبِ مغرب سے شاد کام ’’جاناں جاناں‘‘ پکارے چلے جارہے ہیں۔
کیا تاریخی محافل تھیں، ناچیز نے گزشتہ ملاقات میں بھی افتخار صاحب سے گزارش کی کہ اُن ملاقاتوں کا احوال قلم بند کیجے، تاکہ ہم جیسے مُشتاقانِ ادب اور عاشقانِ فیض و فراز و یوسفی کی پیاس بجھانے کے کام آوے۔ اُمید ہے،جلد ہی اس خواب کی تعبیرکی کوئی صُورت نکلے گی۔
افتخارعارف مشاعروں کی صدارت کرتے ہوئے تمام شعراء کی یوں قدر افزائی کرتے ہیں کہ ہر شاعرکوخُود پر نائب صدر کا گمان ہوتا ہے۔ اچھے شعر پر کُھل کر داد دیتے ہیں، کم اچھے پرمُسکرا دیتے ہیں۔ چند بےتکلف اور پُرخلوص احباب کی موجودگی میں اُن کی طبیعت کا کنول خوب کِھل کِھل اُٹھتا ہے۔ ان احباب میں سرِ فہرست آبروئے غزل، عباس تابش اور صاحبِ اسلوب شاعر شکیل جاذب شامل ہیں۔ زہرا نگاہ کو ’’بجَّو‘‘ یعنی باجی کہتے ہیں۔
وہ اُنہیں اپنی تازہ غزل سُنانے کے لیے فون کرتی ہیں، تو بےحد خوش ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں اُن کی رہائش ہم جیسےطالبِ علموں کےلیےکسی تربیت گاہ سے کم نہیں۔ ادبی نوادرات، مصوری کے فن پاروں، نایاب کتب، قدیم مخطوطات اوررنگ و خوشبو سےسجا یہ گھروہ تاج محل ہے، جس کے شاہی سنگھاسن پرافتخار عارف جلوہ افروز ہیں۔ کوئی نوجوان، اعلیٰ و ارفع شاعری کی مثال مانگے تو اُسے افتخار صاحب کی کتابیں پڑھوانی چاہئیں۔
یقین کیجے، اُسے متعدد اشعار پہلے ہی ازبر ہوں گے کہ افتخار عارف کی شاعری میں کاغذ سے سماعت اورسماعت سے یادداشت تک کا سفر کرنے کی بدرجۂ اتم صلاحیت موجود ہے۔ مُرشد نےایک بار دورانِ گفتگو میرے اُس لفظ کا تلفّظ بھی درست کردیا، جو ابھی ناچیز نے ہونٹوں سے ادا بھی نہیں کیا تھا۔ پس ثابت ہوا، موصوف زبان و ادب کے سامع و پارکھ ہی نہیں، پیشین گو بھی ہیں۔ یہ پیشین گوئی اس مستعدومشّاق، چاق چوبند اور چابک دست ریلوے گارڈ کی سی ہے، جو ریل کی پٹری پراُس ٹرین کا بھی منتظر رہتا ہے، جس کی آمدفی الحال ٹائم ٹیبل میں درج ہی نہیں۔
صاحبو! افتخار کی عظمت ایوارڈز میں نہیں کہ وہ کثیر ہیں، عُہدوں میں نہیں کہ وہ متعدد تھے، غزلوں میں بھی نہیں کہ وہ تو امر ہوچُکیں۔ اُن کی عظمت اُس عالی نظریے کے اظہار میں ہے کہ انسان غرور و تکبّر کے بغیر بھی عظیم اور خُشک مزاجی کے بنا بھی کلاسیک ہوسکتا ہے۔ افتخارعارف وہ شاعر ہیں، جنہوں نے یادِ ماضی کومضمونِ تازہ، عاجزی کوحُسنِ کمال اوراختیار کو وجۂ عجز بنایا۔
اُردو شعر وادب کو اس بات پرمان تھا، ہے اور سدا رہے گا کہ لکھنؤ سے روانہ ہونے والے ایک شاعر نے لندن سے لاہور، تہران سے کراچی اور انقرہ تا اسلام آباد شاعری کی وہ شمع روشن کی، جس کی لَو آنکھوں، دِلوں، ذہنوں اور یادداشتوں میں تاابدآباد، جھلملاتی رہے گی۔