• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کرسٹین امان پور......عالمی شہرت یافتہ نڈر، بے باک خاتون صحافی، ٹی وی میزبان

’’کچھ حالات ایسے ہوتے ہیں، جب غیرجانب دار رہنا درست نہیں ہوتا، کیوں کہ اگر آپ غیرجانب دار رہتے ہیں، تو شریکِ جرم بن جاتے ہیں۔ تاہم، غیرجانب داری کا مطلب یہ نہیں کہ سب کو برابر سمجھا جائے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر فریق کو سُنا جائے۔‘‘ یہ بصیرت افروز الفاظ عالمی شہرت یافتہ، ایرانی/برطانوی نژاد نڈر، بے باک امریکی خاتون صحافی کرسٹین امان پور کے ہیں۔ 

انہوں نے یہ الفاظ بوسنیا ہرزیگووینا میں چار سالہ خانہ جنگی کے دوران مسلم اکثریتی شہر سراجیوو کے طویل فوجی محاصرے کے دوران نسل پرست سرب فوجی کمانڈراور بوسنیا کے قسائی کے نام سے مشہور، جنرل راٹکو ملاڈیچ سے انٹرویو کے دوران ادا کیے، جسے بعدازاں بین الاقوامی فوج داری عدالت نے جنگی جرائم، سرب مسلمانوں کی نسل کشی اور انسانیت سوز جرائم کے جُرم میں عُمر قید کی سزا سنائی۔ 

واضح رہے کرسٹین امان پور کی 1,425روز تک سفّاک سرب افواج کی جانب سے سراجیو شہر کے سخت محاصرے اور ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کے مقتل سے حقائق پر مبنی جذباتی رپورٹنگ پر ٹی وی کےناظرین اور ناقدین نے اُن کی پیشہ ورانہ غیرجانب داری پر سوال اٹھایا اور الزام لگایا تھا کہ ان کی رپورٹس بوسنیائی مسلمانوں کے حق میں جانب دارانہ تھیں۔ 

اِسی پر امان پور نے ٹی وی پر اپنے ناقدین کو مذکورہ مدلّل جواب دیا۔ ایرانی نژاد خاتون صحافی کرسٹین امان پور اپنے پیشہ ورانہ اندازکی وجہ سے دنیا بھر کے ٹی وی ناظرین کے لیے ایک متاثر کن شخصیت کی حامل ہیں اور اپنے گہرے سنہری یا ہلکے بھورے بالوں والے باب ہیئرکٹ کے سبب شہرت رکھتی ہیں۔ اُن کاچہرہ عموماً سادہ، میک اپ زدہ دیگرخاتون ٹی وی اینکرز سے قدرے مختلف ہوتا ہے اور ٹی وی اسکرین پراُن کی ظاہری شخصیت، سنجیدہ انداز سے بہت باوقار تاثرابھرتا ہے۔

12جنوری 1958ءکو مغربی لندن کے نواحی علاقے ایلِنگ (Ealing) میں پیدا ہونے والی کرسٹین امان پور ایرانی نژاد محمد تقی امان پور اور برطانوی خاتون این پیٹریشیا ہل کی دختر ہیں۔ اُن کے والد مسلمان اور والدہ رومن کیتھولک مسلک سے تعلق رکھتی تھیں۔

امان پور معروف امریکی کثیرالقومی نیوز میڈیا کمپنی، کیبل نیوز نیٹ ورک (CNN) کی ایوراڈ یافتہ اینکر اور اسی نیوز چینل کے انٹرویوز پر مبنی پروگرام ’’امان پور‘‘ ہفتہ وار پروگرام ’’دی امان پورآور‘‘ اور پبلک براڈ کاسٹنگ سروس کے پروگرام ’’امان پور اینڈ کمپنی‘‘کے علاوہ اپنے سابق شوہر، جیمز روبن کے ساتھ سی این این گلوبل پر مقبول پروگرام ’’کرسٹین امان پور‘‘اور’’ دی ایکس فائلز ‘‘کی میزبانی بھی کرتی ہیں۔

کرسٹین امان پور کی پرورش تہران میں ہوئی، جہاں وہ گیارہ سال کی عُمر تک رہیں۔ اس کے بعدتعلیم کے لیے انہیں کانونٹ آف دی ہولی کراس برطانیہ بھیج دیا گیا۔ برطانیہ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعدامان پور ایران واپس چلی گئیں، جہاں اُن کے والد ایران ایئر میں ایک ایئر لائن ایگزیکٹیو کے طور پر کام کرتے تھے، لیکن 1979ء کے ایرانی انقلاب کے باعث انہیں اپنی ملازمت اور دولت دونوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ 

اسی سال کرسٹین امان پور کا خاندان ریاست ہائے متحدہ امریکا منتقل ہو گیا، جہاں انہوں نے یونی ورسٹی آف رہوڈ آئی لینڈ سے صحافت کی تعلیم حاصل کی۔ این بی سی سے منسلک ایک ٹی وی چینل WJAR میں بھی بطور الیکٹرانک گرافکس ڈیزائنر کام کیا۔ کرسٹین امان پور نے 1983ء میں یونی ورسٹی سے اعلیٰ امتیاز اور اعزاز کے ساتھ بیچلرز آف آرٹس (صحافت) کی ڈگری حاصل کی اور اسی سال اپنے صحافتی کیریئر کاآغازسی این این کی فارِن ڈیسک سے بطور ڈیسک اسسٹنٹ کیا۔

رپورٹنگ کے ابتدائی برسوں میں انہیں عسکری نامہ نگار کی حیثیت سے ایران، عراق جنگ کی کوریج کی ذمّے داری سونپی گئی۔ 1986ء میں یورپی کمیونزم کے زوال کے تاریخی موقعے پر رپورٹنگ کے لیے مشرقی یورپ بھیجا گیا۔1989ء میں فرینکفرٹ، مغربی جرمنی تعینات کیا گیا۔ 1990ء میں عراق کے کویت پر غاصبانہ قبضے کے بعد خلیجی جنگ سے متعلق موثر رپورٹنگ پر انہیں عالمی سطح پر شہرت ملی، جس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی خطرات میں ڈال کر بوسنیا ہرزیگوینا کی خانہ جنگی اور دنیا کے دیگر متنازع خطّوں سےبراہِ راست رپورٹنگ کی، خصوصاً بوسنیا ہرزیگوینا میں 5ا پریل 1992ءسے29فروری1996 ءکے دوران نسل پرست سرب فوج کی جانب سے مسلم اکثریتی شہر، سراجیوو کے طویل محاصرے سے متعلق کرسٹین امان پور کی حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو بے حد سراہا گیا۔

جب کہ بعض حلقوں نے ان کی جذباتی رپورٹنگ پران کی پیشہ ورانہ غیرجانب داری پہ سوال بھی اٹھایا، جس کا امان پور نے مدلّل جواب دیا۔ اسی دورا ن دی نیویارک ٹائمز سے منسلک صحافی، اسٹیفن کنزر نے بھی ان پر کڑی تنقید کی۔ کنزر نے کہا کہ ’’جب سراجیوو کے مارکالے مارکیٹ میں دہشت گردانہ حملہ ہوا، تو کرسٹین امان پور اُس وقت بلغراد میں تھیں اور انھوں نے وہیں سی آن ایئر کہہ دیا کہ ’’غالباً یہ حملہ سربوں نے کیا ہے۔‘‘حالاں کہ انھیں اس خبر سےمتعلق کوئی خاص معلومات نہیں تھیں، ان کی یہ رپورٹنگ انتہائی غیر ذمّے دارانہ ہے۔‘‘ 

اس پرکرسٹین امان پور نےوضاحت کی کہ’’ مجھ پر الزام لگایا گیا کہ مَیں بوسنیائی مسلمانوں کے حق میں ہوں، لیکن ہمارا کام ہر فریق کو سنناہے اور جہاں نسل کُشی ہو رہی ہو، وہاں آپ غیرجانب دارکیسے رہ سکتے ہیں۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ جو چھوٹا بچّہ سراجیوو کے محاصرے میں سر میں گولی لگنے سےہلاک ہو گیا، اس پر جس شخص نے گولی چلائی، شاید اپنی بیوی سے جھگڑے کی وجہ سے پریشان تھا۔ نہیں، وہاں کوئی برابری نہیں ہوتی، اور ہمیں سچ بولنا ہی پڑتا ہے۔‘‘

خلیجی اور بوسنیائی جنگ کے دوران انتہائی پُرخطر علاقوں سے غیر معمولی نیوز رپورٹنگ پر کرسٹین امان پور نے دنیا بھر میں ایک بےخوف، نڈربے باک صحافی کے طور پر شہرت حاصل کی۔ بعدازاں، سی این این کے یومیہ انٹرویو پروگرام ’’امان پور‘‘ کی مقبول اینکر کے طور پر اور 1992ءسے 2010ء تک سی این این کی چیف انٹرنیشنل کاریسپانڈنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتی رہیں۔

ان کے کریڈٹ پر اہم جنگ زدہ، پُرخطر متنازع خطّوں عراق، افغانستان، فلسطین، ایران، اسرائیل، پاکستان، صومالیہ، روانڈا، بلقان کے علاوہ سمندری طوفان قطرینہ کے دوران بے حد موثر رپورٹنگ شامل ہے۔ نیز، صحافتی کیریئر کے دوران مشرقِ وسطیٰ، یورپ، افریقا اور دیگر خطّوں کے کئی عالمی رہنماؤں کے ساتھ خصوصی انٹرویوز بھی کیے، جن میں ایرانی صدور محمد خاتمی اور محمود احمدی نژاد، افغانستان، سوڈان اور شام کے صدور وغیرہ شامل ہیں۔ 

وہ نائن الیون کے بعد پہلی خاتون صحافی تھیں، جنہوں نے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، فرانسیسی صدر ژاک شیراک، پاکستانی صدر پرویز مشرف ، امریکی خاتونِ اوّل ہلیری کلنٹن، وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو، ایرانی صدرحسن روحانی، فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون، جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل، سابق امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری، دلائی لاما، زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے، لیبیا کے صدرمعمر قذافی، ان کے بیٹوں سیف الاسلام قذافی اور الساعدی قذافی، یونان کے بادشاہ کانسٹنٹائن دوم اور شہزادہ رضا پہلوی کے علاوہ ہالی وڈ کے اداکاروں انجلینا جولی، ٹام ہینکس اورمیریل اسٹریپ وغیرہ کے انٹرویوز کیے۔

1996ءسے 2005ء تک حالاتِ حاضرہ کے پروگرام ’’60Minutes‘‘ کے خالق ،ڈان ہیوئٹ نے انھیں بطور خصوصی معاون تعینات کیا، اس دوران حالاتِ حاضرہ کے موضوع پر تفصیلی بین الاقوامی رپورٹس تیارکرنے پر انہیں 1993ء اور 1998ء میں’’Peabody Award ‘‘سے نوازا گیا۔

کرسٹین امان پور اپنی بے باکانہ رپورٹنگ، بین الاقوامی تنازعات پر سچ کے بیانیے اور حقیقت پسندی کے مظاہرے کےسبب اکثر دنیا کی بڑی طاقتوں اور نام وَر شخصیات کی جانب سے سخت تنقید اور دباؤ کا شکار رہتی ہیں۔7جنوری 2015ء کوانھوں نے سی این این کی ایک’’ بریکنگ نیوز‘‘میں فرانسیسی طنز و مزاح پر مبنی جریدے چارلی ایبڈو (Charlie Hebdo) کےصحافیوں کے قتل میں ملوث اسلامی انتہا پسندوں کو’’ایکٹیوسٹس‘‘ (تبدیلی لانے والے سرگرم کارکنان) کہہ کر مخاطب کیا اور کہا کہ ’’آج اِن ایکٹیوسٹس نے اپنے اہداف تلاش کر لیے اور اُن کے اہداف صحافی تھے۔‘‘

اِسی طرح 12نومبر 2020ء کو اپنے ایک نشریاتی پروگرام میں امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ کا نازیوں سےموازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ نازیوں کی جانب سے ہماری انسانی تہذیب پر ایک انتباہی حملہ تھا، جس نے ایک پوری شناخت کے خلاف نسل کشی کو جنم دیا اور سلگتی ہوئی کتابوں کے اس مینار میں حقائق، علم، تاریخ اور سچائی پر حملہ کیا۔

چار سال تک ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان ہی اقدار پر جدید دَور کے حملے کے بعد، امریکی صدر جوبائیڈن کی سیاسی ٹیم نے ان اقدار ،بشمول سچائی کی واپسی کا وعدہ کیا تھا۔‘‘کرسٹین کے اس جرأت مندانہ بیان پر اسرائیلی حکومت اور متعدد انتہا پسند یہودی تنظیموں نے سخت ردِعمل ظاہر کیا اور امان پور سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا۔ جب کہ اسرائیل کے وزیر برائے تارکین امور، عمر یانکی لیوچ نے امان پور سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ ’’ہولوکاسٹ کے المیے کی توہین‘‘ پرفوری طورپر عوامی سطح پہ معافی مانگیں۔

کرسٹین امان پور صحافتی پیشہ ورانہ اصول پرستی کی پُرزور حمایتی ہیں۔ انھوں نے فروری 2024ء میں سی این این کے متعدد صحافیوں کے ساتھ اپنے نیوز چینل کے اعلیٰ عہدے داروں سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کُشی سے متعلق جانب دارانہ رپورٹنگ پر نہ صرف سخت احتجاج کیا بلکہ اس معاملے پر بھرپور تشویش بھی ظاہر کی۔

جب کہ انھیں اکثر و بیش تر حقائق پر مبنی اظہارِ رائے کی بھاری قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ اپریل 2023ء میں کرسٹین امان پور نے ایک غلط بیانی پر نشریات کے دوران معافی بھی مانگی، جس میں انہوں نے اپنی ایک خبر میں ایک ہی خاندان کی تین لڑکیوں لوسی، مائیا اور رینا ڈی کے قتل کو غلطی سےفائرنگ کے تبادلے کے طور پر بیان کیا تھا، جب کہ وہ ایک فائرنگ کے حملے کا واقعہ تھا، جب ان کا خاندان مغربی کنارے میں گاڑی میں سفر کر رہا تھا، لیکن معروف یہودی ربی ڈی لی نے امان پور کی معافی کو مسترد کردیا اور سی این این کے مستقبل کے رویّے پر شکوک و شبہات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ وہ اس نیوز چینل کے خلاف 1.3ارب ڈالر کے مقدمے پر غور کر رہے ہیں۔

دوسری طرف اسرائیلی قونصل خانے اور وزارتِ خارجہ نے بھی اعلان کیا کہ وہ سی این این نیٹ ورک کو باضابطہ شکایات بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بعدازاں، کرسٹین نے متاثرہ خاندان کے والد سے نہ صرف ذاتی طور پر معذرت کی بلکہ اپنے ٹی وی شو میں بھی عوامی طور پر معافی مانگی۔

اسی طرح 13اکتوبر2025ء کو انہیں ایک بار پھر اپنے نیوزٹی وی شو کے دوران ناظرین سے اُس وقت معافی مانگنا پڑی، جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی بھرپور سفارتی کوششوں اور مصر، قطر اور ترکی کی ثالثی کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور دونوں جانب کے قیدیوں اور مغویوں کی رہائی کا معاہدہ طے پایا۔

دراصل کرسٹین امان پور نے اپنے ٹی وی پروگرام میں یہ حقیقت بیان کی تھی کہ حماس کی قید سے رہا کیے گئے اسرائیلی مغویوں کے ساتھ “غزہ کے باشندوں سے بہتر سلوک‘‘ کیا گیا۔ ان کے اس حقیقت پسندانہ بیان پر اسرائیل کے حامیوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا، جس پرکرسٹین کو مجبوراً اپنا بیان واپس لینا پڑا۔

سنڈے میگزین سے مزید