کراچی( ثاقب صغیر )ٹریفک پولیس کے ای چالان نظام کی غلطیاں شہریوں کو بھگتنا پڑ رہی ہیں۔ گذشتہ برس اکتوبر میں شہر میں ای چالان سسٹم نافذ کیا گیا تھا تاہم تین ماہ سے زائد کا عرصہ گذرنے کے باوجود نظام کی خرابیوں کو دور نہیں کیا جا سکا ہے ۔شہریوں کو غلط چالان بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے۔شہر میں لگے جدید کیمرے لگنے کے دعوئوں کے باوجود شہریوں کے غلط چالان کیے جا رہے ہیں۔متعدد شہریوں کی جانب سے شکایت موصول ہوئی ہے کہ سیٹ بیلٹ پہننے کے باوجود ان کا سیٹ بیلٹ نہ پہننے کا چالان کیا گیا جبکہ ٹریفک پولیس کی جانب سے بھیجی گئے چالان میں موجود تصویر میں سیٹ بیلٹ پہنا ہوا نظر آ رہا ہے۔اسی طرح شہریوں کی گاڑیوں کی نمبر پلیٹس دوسرے لوگ اپنی گاڑیوں پر لگا کر چلا رہے ہیں جس کے چالان بھی شہریوں کے پتے پر موصول ہو رہے ہیں۔گذشتہ دنوں بھی ایک شہری کو 50 ہزار روپے مالیت کے 5 چالان بھیجے گئے جبکہ شہری کا کہنا ہے کہ اس کی گاڑی اس وقت چالان کرنے کے مقامات پر موجود ہی نہیں تھی اور جو تصویر ٹریفک پولیس کی جانب سے بھیجی گئی ہے اس میں نہ تو وہ شہری موجود ہے اور نہ ہی اس چالان میں نظر آنے والی گاڑی اس کی ہے بلکہ کوئی اور شخص اس کی گاڑی کی نمبر پلیٹ اپنی گاڑی میں لگا کر کھلے عام شہر کی شاہراہوں پر چلا رہا ہے۔ٹریفک پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ نظام شہریوں میں ٹریفک قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے اور مؤثر نگرانی کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے اور عوامی تعاون سے یہ نظام مزید بہتر بنایا جا رہا ہے تاہم دوسری جانب اس نظام کی غلطیوں کا خمیازہ شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔