اسلام آباد(کامرس رپورٹر)پاکستان اور اردن نے ترجیح تجارتی معاہدے کے حصول پر مشاورت شروع کرنے اور باہمی تعاون کو 16 ترجیح شعبوں تک وسعت دینے پر اتفاق کر لیا ، ان شعبوں میں تجارت، مالیات، صنعت، ماحولیاتی تبدیلی، بحری امور، صحت، ٹیکنالوجی اور تعلیم شامل ہیں۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ایک پروٹوکول پر دستخط کیے گئے، جس کا ہدف تاریخی، سیاسی اور سفارتی تعلقات کو ٹھوس معاشی اور ادارہ جاتی نتائج میں تبدیل کرنا ہے۔یہ اتفاقِ رائے پاکستان اردن مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) کے 10ویں اجلاس کے دوران ہوا، جو 4 تا 5 فروری کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور اردن کے وزیرِ صنعت، تجارت و رسد یارب القضاۃ نے کی۔ یہ اجلاس 1975 میں قائم جے ایم سی فریم ورک کے تحت تعاون کو عملی شکل دینے کی جانب ایک نئے عزم اور اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔پروٹوکول پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ تجارت نے کہا کہ جے ایم سی دونوں ممالک کے درمیان نتیجہ خیز تعاون کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، بالخصوص تجارت، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی شمولیت کے حوالے سے۔اہم پیش رفت کے طور پر، دونوں فریقین نے مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے اور تجارتی رکاوٹیں کم کرنے کے لیے ترجیحی تجارتی معاہدے پر مشاورت شروع کرنے پر اتفاق کیا، اس عمل کی قیادت تجارت و سرمایہ کاری سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کرے گا۔