• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طویل بیک ڈور ڈپلومیسی، بھارت امریکا تجارتی معاہدے کی اندرونی کہانی

کراچی (رفیق مانگٹ) بھارت اور امریکا کے درمیان شدید تناؤ، سخت بیانات اور بھاری محصولات کے بعد آخرکار ایک ایسا تجارتی معاہدہ طے پا گیا۔ بلومبرگ کے مطابق یہ معاہدہ اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے مہینوں کی خاموش سفارت کاری، پردے کے پیچھے پیغامات اور اسٹریٹجک صبر کارفرما تھا۔ مودی کی ستمبر میں، چین میں روسی صدر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے فوراً بعد، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو واشنگٹن بھیجا گیا تاکہ امریکا کے ساتھ بگڑتے تعلقات کو سنبھالا جا سکے۔ اجیت دوول نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات میں واضح پیغام دیا کہ بھارت امریکا کے ساتھ تلخی ختم کر کے دوبارہ تجارتی معاہدے پر بات چیت چاہتا ہے۔ یہ بھی کہا کہ بھارت ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کے دباؤ میں نہیں آئے گا اور اگر ضرورت پڑی تو ٹرمپ کی مدتِ صدارت ختم ہونے کا انتظار بھی کر سکتا ہے، دوول نے روبیو پر زور دیا کہ امریکا بھارت پر کھلی تنقید کم کرے تاکہ دوطرفہ تعلقات دوبارہ پٹری پر آ سکیں۔ اس وقت بھارت صدر ٹرمپ کے سخت بیانات اور اگست میں عائد کیے گئے 50 فیصد محصولات پر شدید ناراض تھا۔ ٹرمپ نے بھارت کو مردہ معیشت قرار دیا اور کہا بھارت روسی تیل خرید کر یوکرین جنگ کی مالی معاونت کر رہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید