کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)بی ٹیوٹا متاثرین میر حسن اور عرفان اللہ نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں بیرون ملک بھیجنے میں لیت و لعل سے کام لیے جانے کا نوٹس لیا جائے اورانہیں انصاف فراہم کیا جائے یہ بات انہوں پیر کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ دو سال قبل وزیراعلیٰ بلوچستان نے نوجوانوں کیلئے یوتھ اسکل ڈیویلپمنٹ پروگرام کا اعلان تھا جس کے تحت 30 ہزار سے زائد نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھا کر بیرون ملک روزگار فراہم کیا جانا تھاجن میں 582 نوجوان سلیکٹ ہوئے یہ نوجوان لیبر کیٹگری میں منتخب کئے گئے ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود ایک بھی نوجوان کو بیرون ملک نہیں بھیجا گیا جبکہ ایک کنسلٹنٹ نے 6 ماہ کا تربیتی سیشن اور جرمن زبان کورس کرایا جس میں 200 نوجوان آئی ٹی ، ہیلتھ کیئر ، مہمان نوازی کے کیٹگریز میں منتخب ہوئے اس حوالے سے متاثرین نے بار بار کمپنی انتظامیہ اور بی ٹیوٹا حکام سے ملاقاتیں کیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔