کراچی( اسٹاف رپورٹر) فیڈریشن آف آل پاکستان اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن( فپواسا) سندھ شاخ نے صوبے میں بی پی ایس ترقیوں میں تاخیر، ترقیاتی پالیسیوں میں عدم یکسانیت، سلیکشن بورڈز کے طویل التواء، اور لیکچررز و اسسٹنٹ پروفیسرز کی بھرتیوں میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جامعات کی خودمختاری کو برقرا رکھا جائے کیونکہ ان چیزوں سے تعلیمی معیار اور ادارہ جاتی کارکردگی پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ منگل کو جامعہ کراچی میں ہونے والے ، اجلاس کی صدارت فپواسا سندھ شاخ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر فہد نذیر کھوسو نے کی، جب کہ اجلاس کی کارروائی سیکرٹری ڈاکٹر شاہمراد چانڈیو نے چلائی۔ اجلاس میں سندھ کی بڑی سرکاری جامعات کے نمائندگان نے شرکت کی۔ شرکاء نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ منظور شدہ پروموشن پالیسی کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جائے تاکہ اہل اساتذہ کو جامعات کے قانونی فورمز کے ذریعے اندرونی طور پر ترقی دی جا سکے۔