کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) جمعیت علماء اسلام کے رہنماء و معروف قانون دان سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہاہےکہ سترہ مہینے بعد سردار اختر جان مینگل کا قومی اسمبلی سے استعفیٰ منظور کرکے انہیں پارلیمانی سیاست سے دور کرنا مناسب عمل نہیں ہے اس رویے کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ایک شخص کو پارلیمانی سیاست سے دور کرنے کی بجائے ان کے تحفظات کا ازالہ کرنا چاہیئے ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کے استعفے کی منظوری کی وجہ شاید عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ان کی تقریر تھی اس کے پیچھے جو ماسٹر مائنڈ ہوتے ہیں شاید وہ اس بات سے ناواقف ہیں کہ اختر مینگل کا استعفیٰ پانی کا پہلا قطرہ ہو اور اس کے بعد بارش ہوجائے ایک شخص کو پارلیمانی سیاست سے نکالنا میرے خیال میں یہ مناسب عمل نہیں ہے کسی سیاسی بندے نے تقریر کی ہے آپ ان سے اختلاف کرسکتے ہیں ان سے اتفاق کرسکتے ہیں اختلاف اور اتفاق کی بجائے ان کے تحفظات کا ازالہ کرنا چاہیئے اگر تحفظات کا ازالہ نہیں کریں گے تو لوگ آپ سے دور ہوتے جائیں گے لوگ وفاق سے دور ہوجائیں گے اس رویے کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔