پاکستان میں اردو نغمات، فلمی گیتوں کے ساتھ لوک گائیکی میں بھی کئی پسماندہ علاقوں، دور دراز قصبوں اور دیہات میں رہنے والے مردوخواتین گلوکاروں نے خوب نام کمایا، جو دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بنے۔ ان ہی میں ایک نام فوک گلوکارہ ریشماں کا ہے۔ ریشماں کا اصل نام پٹھانی بیگم ہے۔
انہوں نے کلاسیکی موسیقی کی کوئی تربیت حاصل نہیں کی تھی، کم عمری میں صوفیانہ کلام گانا شروع کر دیا تھا۔ مئی 1947ءمیں بھارت کی ریاست راجھستان کے گاؤں لوہا تحصیل رتن گڑھ ضلع چرو میں پیدا ہوئیں۔
ایک ایسے خانہ بدوش خاندان سے تعلق تھا، جس نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا تھا۔ والدین انتہائی غربت کے عالم میں تقسیم ہند کے فوری بعد پاکستان آ گئے اور یہاں گلی گلی گڑوی کے ساتھ گا کر اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے لگے۔ ریشماں بھی اپنی آواز گڑوی کے ساتھ ملانے لگی۔ وہ گڑوی کی آواز کی ’’لے‘‘ ملاتے ہوئے مدھر سُروں میں کھو جاتی تھی۔
اس کی آواز میں صحرائی اور دیہی ماحول کی عکاسی نمایاں نظر آتی تھی۔ صوفیا ئے کرام اور بزردگان دین سے عقیدت اس کی آواز اور خون میں رچی بسی ہوئی تھی۔ صحرا میں گانے والیاں اور بھی بہت سی لڑکیاں تھیں لیکن ریشماں جیسی آواز کسی کی نہ تھی۔
نگری نگری گھوم کر گڑوی بجانے والی ریشماں کو عوام سے متعارف ، معروف براڈ کاسٹر سلیم گیلانی نے کرایا، جو ریڈیو پاکستان کراچی میں موسیقی کے پروگرام پروڈیوسر بھی تھے، بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل ہو گئے تھے۔ سلیم گیلانی نے خانہ بدوش ریشماں کی آواز کراچی کی ایک گلی میں اتفاقاً سنی تھی،وہ اُسی وقت ریشماں کو ریڈیو اسٹیشن لے گئے، اُس کا آڈیشن لیا، اُس وقت وہ بارہ سال کی تھی۔
ریشماں تو آڈیشن دے کر چلی گئی لیکن جب اس کی ریکارڈنگ موسیقی کے اصل پارکھوں تک پہنچی تو ہر طرف سے واہ واہ ہونے لگی۔ اُس کا اتاپتاسلیم گیلانی کو بھی نہیں معلوم تھا، اب اس گم شدہ ہیرے کی تلاش شروع ہوئی، خانہ بدوشوں کے ہر ڈیرے پر اسے تلاش کیا گیا لیکن اس گوہرِ نایاب کا کہیں پتہ نہ چلا، تقریبا ڈیڑھ برس بعد سیہون شریف کے میلے میں سلیم گیلانی کو وہ بچی گڑوی بجاتی ہوئی نظر آگئی، لیکن اس بار انھوں نے اس پر نظریں رکھیں، پروگرام کے اختتام کے بعد اسے دوسرے دن ریڈیو پاکستان کراچی مدعو کیا، اس کی آواز میں نغمے ریکارڈ کئے، ساتھ لائیو پروگرام کئے، جلد ہی اُس کے ریکارڈ شدہ گانے بھی گلی گلی سنُے جانے لگے، دیکھتے ہی دیکھتے ریشماں پاکستان کی مقبول ترین لوک گلوکارہ بن گئی، آواز میں صحرا کی وسعت، جنگل کا درد اوردریا کی روانی نے اس کے بھاگ جگا دئیے۔
ریشماں نےایک انٹرویو میں کہاتھا کہ، ’’صحراؤں کی خاک چھاننے والی مجھ غریب لڑکی کو جب ریڈیواسٹیشن لایا گیا اور اس کے سامنے ایک لمبا سا ڈنڈا رکھ کر کہا گیا کہ، گانا شروع کرو، بس اِدھر اُدھر مت دیکھنا، مجھے تو ان چیزوں کا کچھ پتا نہیں تھا، میں ادھر اُدھر دیکھے بنا گاتی گئی،جب ریڈیو پاکستان کراچی سے میری گائی ہوئی دھمال نشر ہوئی تو اُس نے میری زندگی ہی بدل کر رکھ دی‘‘۔
ریڈیو اس دور میں ذرائع ابلاغ کا موثر ترین ذریعہ ہوا کرتا تھا ،ہر نئے سنگر کی خواہش ہوتی تھی کہ اس کی آواز ہوا کے دوش پر پھیل جائے۔صحرا کی یہ آواز اپنی پہلی ہی دھمال سےگونج گئ ، اسے صحرائے بلبل کے طور پر پکارا جانے لگا۔
ریشماں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ نگر نگر گڑوی بجا کر ساری دنیا میں مشہور ہو جاؤں گی، وقت کے ساتھ اس کی طبیعت میں رکھ رکھاؤ، بولنے کے آداب بھی آگئے، مگر گردن میں سریا نہیں آیا، طبیعت میں سادگی برقرار رہی۔ ریڈیو سے گائے ہوئے ریشماں کے گائے ہوئےنغمات جب پاکستانی سرحدوں سے پار ہندوستان کی فضاؤں میں گونجے توسرکاری سطح پر وہاں بھی جانے کا موقع ملا۔
دورہ ہندوستان کے موقع پر اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے ریشماں کو اپنی کلائی پر بندھی ہوئی قیمتی گھڑی تحفہ میں دیتے ہوئے بھارت میں رہنے اور تمام تر آسائشیں دینے کا وعدہ کیا، مگر ریشماں نے شکریے کے ساتھ ان کی پیشکش کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ ’’مجھے ریشماں پاکستان نے بنایا، دنیا بھر میں میری پہچان پاکستان سے ہی ہے، میں ہندوستان آتی جاتی رہوں گی مگر ہندوستانی شہریت حاصل نہیں کر سکتی۔ میرے لئے پاکستانی ہونا بڑے اعزاز کی بات ہے‘‘۔
ریشماں جب بھی بھارت پرفارم کرنے جاتی تو وہاں کے نامور فنکاراُسےسننے آتے۔ ریشماں نے بھارت کے علاوہ امریکہ، لندن، کینیڈا اور مڈل ایسٹ کی تمام ریاستوں میں گایا اور ہر ملک میں بے پناہ عزت ملی، جس طرح گائیکی میں اپنی پہچان بنائی وہ ایک منفرد بات تھی۔
موسیقی کی باقاعدہ تعلیم و تربیت نہ ہونے کے باوجود وہ جب کسی محفل میں پرفارم کرتی تو سننے والے اس کی آواز میں کھو جاتے۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن کا قیام عمل میں آیا تو ٹی وی کے لیے کئی لوک گیت گائے۔ ریشماں نے ہر اُس ملک کا دورہ کیا جہاں برِصغیر کے لوگ آباد تھے۔
اردو، سندھی، سرائیکی، پنجابی، پشتو اور راجستھانی زبان کے علاوہ فارسی، ترکی اور عربی زبان میں بھی آ واز کا جادو جگایا۔ وہ جتنی بڑی فنکارہ تھی اتنی ہی بڑی انسان بھی تھی، ہر ایک کی عزت کرنا اور محبت سے پیش آنااُس کی فطرت تھی۔
ریشماں نے پاکستانی اور بھارتی فلموں کے لئے بھی بے شمار گیت گائے، سب سے زیادہ پنجابی زبان میں گایا، اردو، پشتو اور سندھی زبانوں میں بھی کئی گیت گائے۔ ان کے مقبول گیتوں میں "ہائے او ربا نہیوں لگ دا دل میرا"، "وے میں چوری، چوری تیرے نال لالئیاں اکھاں وے"، "وے ساڈے آسے پاسے پیندیاں پیار پھہاراں“، "ڈھولنا، تیریاں جدائیاں دتا مار وے"، "مینوں عشق ہوگیا لوکو، میں دنیا نویں وسائی" شامل ہیں۔ 2004 میں ان کا گانا "عاشقاں دی گلی وچ مقام دے گیا" بھارتی چارٹ کے ٹاپ ٹین میں شامل تھا۔
لوک گلوکارہ نے پاکستانی فلموں کے لیے بھی متعدد گیت ریکارڈ کروائے ۔ معروف بھارتی ہدایت کار سبھاش گھئی نے ان سے فلم ’ہیرو‘ کا گانا ’لمبی جدائی‘ ریکارڈ کروایا، جو آج بھی پاک و ہند میں مقبول ہے۔ انہیں پاکستان میں متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا، جن میں صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی، ستارہ امیتاز اور ’لیجنڈز آف پاکستان کے اعزازات سرفہرست ہیں۔ 3اور 4نومبر2013ء کی درمیانی رات کو وہ سرطان سے لڑتے ہوئے اپنے پرستاروں کو لمبی جدائی دے گئیں۔