بات چیت: محمد ناصر
جب نوجوان موسیقار راحت فتح علی کو اُن کے چچا اور اُستاد نصرت فتح علی خان نے پہلی دفعہ اپنے ایک گانے کے مکھڑے کے ساتھ انترا ملانے کی ذمّہ داری سونپی تو پہلے وہ ڈرے، مگر پھر اسے چیلنج سمجھ کر قبول کر لیا۔
نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ موسیقی کے استاد مانے جانے والے راحت فتح علی خان نے اپنے چچا سے موسیقی کی کمپوزیشن ہی نہیں سیکھی، آواز و ادائیگی کا وہ تنوّع بھی سیکھا، جس کی وجہ سے آج وہ قوالی اور فلمی گانوں میں مہارت رکھتے ہیں۔
ورنہ عام طور پر ہندوستان اور پاکستان میں گلوگار یا تو عام گانے گاتے ہیں یا قوّالی کرتے ہیں۔ لیکن راحت فتح علی خان جنہیں سُروں کا سلطان کہا جا تا ہے، نے قوالی، غزل، کلاسیکل، فیوژن اور کئی رنگوں میں اپنی آواز کا جادو بکھیر کر دنیا بھر کے موسیقی کے شائقین کو مسحور کر رکھا ہے۔
آج وہ پاکستان آئیڈل کے پلیٹ فارم پر نئی آوازوں کو تلاش کرکے اُن کی تربیت ہی نہیں بلکہ انہیں عالمی اسٹیج تک پہچانے کا بیڑا اٹھا چکے ہیں۔اگر پاکستان کے موسیقی کے خزانے کہیں محفوظ ہیں تو وہ راحت فتح علی خان کی آواز میں محفوظ ہیں۔
فنِ قوالی اور کلاسیکل موسیقی کے وہ بادشاہ ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں برصغیر کوایک پہچان دی۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں وہ مقبولیت دیکھی جو بہت کم فنکاروں کو نصیب ہوتی ہے۔ بالی ووڈ، لالی ووڈ سے لے کر ہالی ووڈ تک راحت فتح علی خان کی آواز کا اثر کبھی کم نہیں ہوا۔ ہر گیت، ہر قوالی، ہر میلوڈی، دل کو چھو لینے والی تاثیر رکھتی ہے۔
ان کی شخصیت میں عاجزی، فن میں مہارت، اور نئے فنکاروں کے لیے محبت سب کچھ دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہ صرف عالمی گلوکار نہیں پاکستان کے ثقافتی سفیر بھی ہیں۔ پاکستان آئیڈل 2025ء میں جج پینل میں شامل راحت فتح علی خان اب پاکستانی موسیقی کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کررہے ہیں۔ گذشتہ دِنوں ”جنگ اور جیو“ نے اُن سے خصوصی انٹرویو کیا ،جو نذرقارئین ہے۔
س: آج کل کی موسیقی کا کیا احوال ہے؟
ج: بھیڑ چال کا رواج ہے۔ یعنی جو چل رہا ہے اسی کو چلائے جاؤ۔ لوگ اُس طرح کی جدّت نہیں کر رہے جومیرے چچا، میرےاستاد نصرت فتح علی خان نے کی تھی، جس کی وجہ سے ان کی مقبولیت لالی وُوڈ اور بالی وُوڈ کی حدیں پھلانگ کر ہالی وڈ تک جا پہنچیں۔ آج کل کے نوجوانوں میں موسیقی سیکھنے کا جذبہ ہے، خوش آئند بات یہ ہے کہ والدین بھی پہلے کے مقابلے میں بچّوں کے شوق کی حوصلہ شکنی نہیں کی کر رہے۔
س: آپ قوال، گلوکار کیا کہلوانا پسند کرتے ہیں ؟
ج: میں بنیادی طور پر ایک قوال ہوں، مجھے گلوکاری سے زیادہ خود کو قوال کہلوانا پسند ہے۔ صوفیانہ کلام میری روح میں بسا ہوا ہے۔ قوالی ہمارا خاندانی پیشہ یا کام ہے اور میرا یہ ماننا ہے کہ قوالی کا فن کبھی ماند نہیں پڑسکتا۔ یہ عوامی مگر پاپولر میوزک ہے، یہ سلسلہ آج سے نہیں صدیوں سے جاری ہے اور تاقیامت درگاہوں اور درباروں میں قوالی کی محفلیں ہوتی رہیں گی۔
آئندہ چند برسوں میں فنِ قوالی کو مزید عروج ملے گا۔ آج کے دور کے گانوں میں جو صوفیانہ رنگ نظر آتا ہے، وہ قوالی کی مرہون منت ہے، جس فلم میں بھی قوالی شامل کی جاتی ہے، وہ فلم سپرہٹ ہوتی ہے۔ انگریز کو قوالی بہت پسند ہے۔
وہ ہماری ثقافتی موسیقی کو بے انتہا پسند کرتےہیں۔ ہماری مینجمنٹ نے2016ء کو قوالیوں کا سال کے طور منایا تھا۔ اس سلسلے میں قوالیوں پر مبنی ایک سی ڈی البم بھی ریلیز کی تھی۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد اور کوئٹہ میں قوالی کے بڑے کنسرٹ کرنے کے ساتھ دنیا کے بیشتر ممالک میں پرفارم کرتے ہوئے خوب داد سمیٹی۔ اس سلسلہ کی خاص بات یہی تھی کہ ہم نے اپنی پرفارمنس کے دوران بالی وڈ کے گانے نہیں گائے بلکہ صرف قوالیاں سنائیں جن کو بہت پسند کیا گیا۔ ان کنسرٹ کا نام ہم نے جسٹ قوالی رکھا تھا۔
س: کیا قوالی کا فن خاندانی میراث ہے؟
ج: برصغیر پاک و ہند میں قوالی کا فن تقریباً چھ سو سال پرانا ہے۔ پاکستان میں استاد نصرت فتح علی خان مرحوم نے فن قوالی کو پوری دنیا میں نئے رنگ اور منفرد انداز سے متعارف کرایا۔
میرے دادا استاد فتح علی خان مرحوم کی فنی خدمات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ ہمارے خاندان نے قوالی کے فروغ کیلئے بہت خدمات انجام دیں اور دے رہے ہیں، سب جانتے ہیں کہ میرا فنی سفر بچپن میں ہی شروع ہوگیا تھا۔
اپنے چچا اور استاد نصرت فتح علی خان کے انتقال کے بعد میں نے اپنے ملک اور خاندان کا نام پوری دنیا تک پہنچانے کا جو بیڑہ اٹھایا تھا اس میں اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی سے سرخرو ہو رہا ہوں، اسی وجہ سے مجھے موسیقی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی تھی۔
یہ بتا دوں، فن اور فنکار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اس لیے میں یہ بات وثوق سے کہنا چاہتا ہوں ہوں کہ میرے فنی سفر میں کو آگے بڑھانے میں میں جہاں استاد نصرت فتح علی خان کی رہنمائی شامل رہی وہیں بالی وڈ کے پلیٹ فارم سے بھی خوب استفادہ کیا اس وقت حالات بہت خراب ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ ان میں بہت جلد سدھار آئے گا۔
میرا ایسا سوچنے کی وجہ وہاں کام کرنے کی خواہش نہیں بلکہ امن پسندی کا وہ جذبہ ہے، جس سے ہر پاکستانی سرشار ہے۔ پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ پاکستانی کس قدر مہمان نواز اور امن پسند لوگ ہیں خاص طور پر فنکار برادری جس طرح سے پوری دنیا میں جانی پہچانی جاتی ہے اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
ہمارے ملک کے فنکار دنیا میں جہاں بھی جاتے ہیں وہاں پر اپنے فن کے ذریعے امن پیار محبت دوستی کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ پاکستان کا سافٹ امیج اپنے فن کی بدولت دنیا بھر میں پہنچا رہا ہوں۔
یہ میرا ہی نہیں ہمارے خاندان ان کا اصل مقصد ہے ہم چاہتے ہیں کہ صوفیائے کرام کے کلام کے ذریعے دنیا بھر میں امن کا پیغام پہنچائیں، اس میں ہمیں کامیابی مل رہی ہے۔
س: نئی نسل میں قوالی سننے کا شوق بڑھ رہا ہے؟
ج: بالکل کالج یونیورسٹیوں میں ہم سے قوالی کی فرمائش کی جاتی ہے۔ یہ فن کسی کی میراث نہیں ہے۔ مگر موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اگراس شعبے کو بطور پروفیشن اپنایا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ انٹرنیٹ پر اکیڈمی کے ذریعے قوالی اور موسیقی کا شوق رکھنے والا دنیا کے کسی بھی ملک میں رہتا ہو، وہ ہم سے تربیت حاصل کر سکتا ہے۔
اب دیکھیں میرے بیٹے کے کم عمری میں دنیا بھر میں کروڑوں پرستار ہیں۔ میں جہاں کہیں جاتا ہوں وہ ہمیشہ اسٹیج پر میرے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ موسیقی کی یہ وراثت نسل ِنو کو خوب صورت انداز میں منتقل ہو رہی ہے۔یہی وراثت اب پاکستان آئیڈل کے نوجوانوں کی بھی امانت بنے گی۔
س: مستقبل میں نئی چیزیں متعارف کرائیں گے؟
ج: بلکل کرائیں گے۔ ایک بات بتاوئں،میں نے درجنوں ممالک میں قوالیاں پیش کیں، خاص طور پر حضرت امیر خسرو، شیخ سعدیؒ، بوعلی سینا قلندر، حافظ شیرازی و دیگر شعراء کا کلام پیش کیا۔ لیکن دیار غیر میں بسنے والی نوجوان نسل کی چاہت دیکھ کر دنگ رہ گیا کیونکہ جس طرح سے انہوں نے قوالی سنی اور داد دی وہ میرے لئےکسی بڑے اعزاز سے کم نہ تھی، دوسری خاص بات یہ کہ ہمیں قوالی کے پروگراموں میں ہزاروں کے مجمعے میں کسی ایک نے بھی فلمی گیت سنانے کی فرمائش نہیں کی۔
یہاں ایک بات اور بتانا چاہوں گا کہ 1992ء کے ورلڈ کپ کے دوران ہمارے کرکٹر، استاد نصرت فتح علی خان کی قوالیاں بہت شوق سے سنتے تھے۔ آج کی نئی نسل بھی قوالی بہت شوق سے سنتی ہے۔ کالج اور یونی ورسٹی میں منعقدہ کنسرٹ میں مجھ سے بہت زیادہ قوالیوں کی فرمائش کی جاتی ہے۔
س: سنا ہے آپ میوزک اکیڈمی بنارہے ہیں ؟
ج: جی ،ایساکر رہا ہوں یہ اکیڈمی صرف کلاس روم نہیں وہ جگہ ہوگی جہاں اگلی نسل کے سپر اسٹار تیار ہوں گے۔ نیا ٹیلنٹ عملی تربیت حاصل کرے گا ۔
س: پاکستان آئیڈل میں شریک گلوکاروں میں کتنا ٹیلنٹ نظر آرہا ہے؟
ج: ٹیلنٹ تو فطری ہوتا ہے، البتہ آہستہ آہستہ سیکھ کر اسے مزید نکھارا جاتاہے۔ پاکستان آئیڈل میں اب تک ہونے والی پرفارمنس میں کئی ایسے امیدوار سامنے آئے جن کی آواز میں جادو ہے۔
ایک گلوکارہ ”حرا“ کی آواز اتنی خوبصورت ہے کہ اسے کسی تربیت کی ضرورت ہی نہیں، البتہ اگر اُس بچی کو تھوڑی سی تعلیم دی جائے وہ بہت آگے جا سکتی ہے۔ میرا مقصد بھی پاکستان کے ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر روشناس کرانا ہے اور یہی میرا سب سے بڑا وژن ہے۔
س: آپ طویل عرصے سے دنیا کے بڑے اسٹیج پر پرفارم کررہے ہیں، وہاں فنکاروں کے ساتھ کام کیا، ہزاروں کنسرٹس بھی کیے۔
آپ کو سُر، لے، تال، کمزوریاں، غرض ہر چیز کا اندازہ صرف چند لمحوں میں ہو جاتا ہے ”پاکستان آئیڈل“میں بطور جج آپ نے کیا اُصول اپنا یا ہوا ہے؟
ج: اس میوزک شو میں ہم گلوکاروں کی صرف پرفارمنس کو جج کرتے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کس گلوکار یا گلوکارہ نے کہاں سے سیکھایا میوزک کو سیکھا بھی ہے کہ نہیں، البتہ جو اچھا پرفارم کرتا ہے، اس کی صلاحیت کا کھل کراعتراف بھی کرتے ہیں۔
پاکستان آئیڈل میں کوئی سفارش نہیں چلتی، یہاں صرف خوبصورت اور دِل چھو لینے والی ”آوازیں“ بول رہی ہیں اور یہی ایک چیز ہے، جس سے ”پاکستان آئیڈل“ دنیا بھر کے دیگر شوز سے ممتاز ہے۔
س: پاکستان آئیڈل کے ٹاپ تین فاتح گلوکاروں کیلئے آپ نے کچھ خاص اعلان کیا ہے؟
ج: یہ بات درست ہے میں پاکستان آئیڈل کے تین ٹاپ گلوکاروں کو دنیا بھر کے شوز میں ساتھ لے کر جاؤں گا، اُنہیں اپنے ساتھ رکھوں گا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر یہ نوجوان بڑے اسٹیج کو سنبھالنا سیکھ جائیں تو دنیا ان کی آواز کو کھلے دل سے قبول کرے گی۔
پاکستان آئیڈل کے بڑے اسٹیج تک پہنچنا میوزک سے محبت رکھنے والوں کیلئے ایک بہت بڑا خواب ہوتا ہے، یہ ایک انقلاب ہے، ایک دروازہ ہے جو نئے گلوکاروں کیلئے پہلی بار کھل رہا ہے۔
س: آج کل مختلف ایپس کے ذریعے بغیر موسیقی سیکھے شہرت حاصل کرنے والے فنکاروں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج: بغیر سیکھے پرفارم کرنا خود کو امتحان میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ چند دن کی شہرت کے بعد لوگ گائیکی میں خامیاں نکالنے لگتے ہیں اور ایسا اسٹار جلد ہی نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ سیکھ کر آگے بڑھیں تو پھر مثبت پیش رفت ہوتی ہے۔
س :پاکستان آئیڈل کے نئے سیزن نے کلاسیکی موسیقی کی واپسی کے آثار دکھائے ہیں۔ آپ اس تبدیلی کو کیسے دیکھتے ہیں؟
ج: بہت خوشی کی بات ہے۔ برسوں بعد نوجوانوں نے مہدی حسن، نور جہاں اور غلام علی کے گیت گاکر ثابت کیا کہ اصل ذوق آج بھی زندہ ہے۔ یہ رجحان ہمارے موسیقی کے مستقبل کے لیے نیک شگون ہے۔
س: نوجوان گلوکاروں کا کلاسیکل اور نیم کلاسیکل کی طرف رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟
ج: دو وجوہات ہیں: ہمارے گھروں میں استادوں کا فن آج بھی سانس لے رہا ہے۔ نوجوانوں کو جیسے ہی باوقار پلیٹ فارم ملا، انہوں نے مشکل سروں میں مہارت دکھا دی۔ ٹیلنٹ ہمیشہ موجود تھا، بس سمت نہیں تھی۔
س: منتظمین نے شو میں میرٹ اور معیار کو ترجیح دی، آپ اسے کیسے دیکھتے ہیں؟
ج: میں انہیں داد دیتا ہوں! نہ عمر کی رعایت، نہ پس منظر کی پروا، جس نے اچھا گایا وہ آگے گیا۔ شہرت کے بجائے فن کو ترجیح دینا بہت بڑا قدم ہے۔ بہت سے نوجوانوں نےحیران کن پر فارمنس دی۔
مثلاً وقار حسین نے غلام علی اور مہدی حسن کے مشکل گیت ابتدائی راؤنڈز میں چھیڑ دیے۔ میں نے اسے مذاق میں کہا بھی تھا کہ بیٹا ہڈی پسلی ٹوٹ نہ جائے، مگر وہ بڑے سکون سے سُروں سے کھیلتا رہا۔
س: گالا راؤنڈ کے آغاز پر گلوکاروں کا ’’میڈلے ‘‘بہت پسند کیا گیا۔ آپ کیا کہیں گے؟
ج: وہ پرفارمنس بہت خوبصورت تھی۔ میڈلے آسان نہیں ہوتا، مگر آٹھوں لڑکوں نے کمال پیش کیا، خاص طور پر ابرار نے کلاسیکل سے نکل کر پاپ رنگ دکھایا جو سب کو حیران کر گیا۔ خواتین نے بھی میڈلے میں زبردست پرفارمنس دی ہے جو واقعی حیران کن ہے۔
س: عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے اپنا کیٹلاگ شو کو دے دیا، اسے آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
ج: یہ بہت بڑا اور مثالی قدم ہے، نوجوانوں کے لیے یہی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ اگر بڑے نام اپنا میراث نئے فنکاروں کو دیں تو ہماری انڈسٹری دوبارہ کھڑی ہوسکتی ہے۔ افسوس کہ حکومت نے موسیقی کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔
س: کیا پاکستان آئیڈل جیسے شوز موسیقی کا مستقبل طے کرسکتے ہیں؟
ج: بالکل! قوم کا فنی شعور ختم نہیں ہوا، صرف پلیٹ فارم کا انتظار تھا۔ اگر ریاست اور نجی ادارے مل کر موسیقی کی سرپرستی کریں تو پاکستان کی آواز دوبارہ دنیا میں گونج سکتی ہے۔
راحت فتح علی خان کی مصروفیت آڑے آگئیں اور گفتگو کا اختتام راحت فتح علی خان کے اس جملے پر ہوا کہ، پاکستان آئیڈل اور میں مل کر موسیقی کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرنے جا رہے ہیں۔