لائیو شوز کی روشنیوں سے بالی ووڈ کے ریکارڈنگ اسٹوڈیوز تک، جہاں بھی سُر، لے اور تال نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما، وہاں زیب بنگش کا نام سنائی دیا۔ کوہاٹ میں آنکھ کھولنے والی اور ”خیبر پختونخوا“کی موسیقی کا ورثہ اپنے قلب میں لیے زیب بنگش اپنی کزن ہانیہ اسلم کے ساتھ دو رکنی بینڈ ”زیب اینڈ ہانیہ“سے دُنیا کے سامنے آئیں۔
2008ء کے البم چُپ! سے جس سادگی اور گہرائی سے آغاز کیا، وہ آج بھی زیب کے فن کی پہچان ہے، پھر وہ لمحہ آیا جب زیب بنگش پہلی پاکستانی فنکارہ بنیں جنہوں نے بالی ووڈ فلم ”لپ اسٹک انڈر مائی برقعہ“ کیلئے بطور میوزک ڈائریکٹر کام کیا، یہ ایک ایسی فلم تھی جس نے دنیا بھر میں 18 مختلف اعزازات تو اپنے نام کیے ہی، زیب کا نام بھی عالمی سطح پر متعارف ہوا۔ وہ اردو، پشتو، پنجابی، فارسی، ترکی، سرائیکی میں گاتی ہی نہیں، پوری پوری ثقافتیں اپنے اندر سموئے شائقین تک پہنچاتی ہیں۔
کوک اسٹوڈیو میں ”ببی صنم جانم، چل دیئے، تن ڈولی اور کشمیری کلاسک ”روشے“ ہو یا پھر ”دیارِ دل، ہو من جہاں، مَنٹو اور ”پرواز ہے جنون“کی دل چھو لینے والی دھنیں، ہر جگہ انہوں نے اپنی آواز سے تہلکہ مچا دیا۔
دنیا بھر کے فیسٹیولز اور کنسرٹس میں پرفارم کرنے کے بعد بھی زیب کی طبیعت میں دھیما پن، سادگی اور خلوص ہے، شاید اسی لیے ان کے چاہنے والے نا صرف پاکستان، بلکہ ہندوستان، مشرقِ وسطیٰ، یورپ، امریکا اور ایشیا کے ہر کونے میں موجود ہیں۔
وہ موسیقی کو صرف پیشہ نہیں اپنی سانس سمجھتی ہیں۔ 2017ء میں شادی کے بعد بھی اپنے فن سے رشتہ بر قرار رکھا، جو نئے سفر کی تلاش میں آگے بڑھتا رہا۔اب وہ موسیقی کی دُنیا کے سب سے بڑے میوزک شو ”پاکستان آئیڈل“ میں بطور جج اپنا کردار ادا کررہی ہیں اور پاکستان کیلئے بہترین آوازوں کو منتخب کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
گذشتہ دِنوں ”پاکستان آئیڈل“ کے بڑے پلیٹ فارم پر زیب بنگش سے سوال و جواب کی خصوصی نشست ہوئی، اس دوران اُن کے فن، سفرزندگی، شوق تجربات اور موسیقی کے رنگین راستے پر آنے کے حوالے سے مختصر گفتگو ہوئی جو قارئین کیلئے ہے۔
س: آپ کی آواز کی خاص بات کیا ہے؟ خود کیسے دیکھتی ہیں؟
ج: شاید نرمی میری آواز کی پہچان ہے۔ میں گانے کو اپنی مرضی سے نہیں بدلتی بلکہ خود کو گانے کے مزاج میں ڈھالتی ہوں۔ میرا مقصد صرف ایک ہوتا ہے کہ ہر سامع کے دل تک میری آواز پہنچے۔
یہ بتا دوں میرےگھر میں موسیقی کا ماحول تھا، لیکن میں نے پروفیشنل طور پر کام کرنے کا ارادہ تب کیا جب مجھے محسوس کیا اب میری آواز لوگوں کے دلوں تک پہنچ سکتی ہے۔ یاسر نعیم اور نرگس فخری کے ایک پروجیکٹ نے مجھے پہلا اعتماد دیا، پھر کوششوں کا سلسلہ چل پڑا۔
س: پسندیدہ گلوکار کون ہیں ؟
ج: نور جہاں، لتا جی، فاخر محمود، اور گلزار نے بہت متاثر کیا۔ ان کو سن کر احساس ہوتا ہے کہ موسیقی صرف سُر نہیں، ایک فلسفہ ہے۔
س: ”پاکستان آئیڈل“ میں بطور جج کیسا محسوس کررہی ہیں؟
ج: سچ بات یہ ہے کہ میں ابتدا میں جج بننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ میں نے ہمیشہ خود کو ایک ایسی شخصیت سمجھا ہے جو مسلسل سیکھنا چاہتی ہے اور میری کبھی یہ خواہش نہیں ہوئی کہ میں دوسروں پر اپنی رائے مسلط کروں۔ میری توجہ ہمیشہ اپنے کام پر فوکس رہی۔
اسی لیے جب مجھے ”پاکستان آئیڈل“میں بطور جج کیلئے پیشکش ہوئی تو فیصلہ کرنے میں وقت لگا۔ لیکن جب میں نے قبول کرلیا تو پھر اسے اپنے طریقے سے دیکھا۔ میں خود کو روایتی جج نہیں سمجھتی بلکہ ایک فنکارہ ہی سمجھتی ہوں جو اپنے تجربات کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرتا ہے۔ میرا مقصد فیصلہ سنانا نہیں بلکہ ایسا تعمیری فیڈبیک دینا ہے جو امیدواروں کی بہتری میں اُن مدد کرسکے۔
س: آئیڈل میں اب تک کا تجربہ کیسا رہا؟
ج: توقعات سے کہیں زیادہ بہترین تجربہ رہا۔ ابتدا میں کچھ خدشات تھےجو جلد ختم ہوگئے۔ پاکستان میں بے پناہ باصلاحیت اور مضبوط آوازوں والے گلوکار ہیں۔میں تو نوجوان نسل کی صلاحیتں، اُن کی آواز سن کر حیران رہ گئی۔
مثلاً منعم جو صرف 19 سال کا ہے، اس کی آوازکی پختگی اور فنی مہارت بہت سے تجربہ کار فنکاروں سے بھی آگے ہے۔ یہ پلیٹ فارم موسیقی کو عوامی سطح پر ایک وسیع اور جاندار انداز میں سامنے لایا ہے۔ لگتا ہے کہ یہ ایک جمہوری پلیٹ فارم ہے، اس کا حصہ بننا میراشاندار تجربہ ہے۔
س: پاکستانی ٹیلنٹ کو کس نظر سے دیکھتی ہیں؟
ج: مجھے لفظ ”ٹیلنٹ“ تھوڑا محدود محسوس ہوتا ہے کیونکہ تخلیقی اظہار صرف ٹیلنٹ سے نہیں بنتا۔ اس کے لیے محنت، ذہانت، مہارت اور نکھارکی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں طاقتور تخلیقی اظہار موجود ہے جو ہماری صدیوں پرانی ثقافتی اور موسیقی کی تاریخ سے تشکیل پایا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں بہت بڑی کمرشل فلم انڈسٹری یا میوزک انڈسٹری نہ ہونے کی وجہ سے موسیقی میں ایک ایسی Originality ہے جو آج کے تجارتی دور میں بہت نمایاں ہے۔ ہمارے فنکار جذبے سے کام کرتے ہیں، پیسے کے لیے نہیں۔ یہی اخلاص ہماری آوازوں اور دھنوں میں نظر آتا ہے۔
س: نوجوان بغیر تربیت کے گیت گارہے ہیں کیا یہ درست ہے؟
ج: میں سمجھتی ہوں کہ اس بات کا انحصار مکمل طور پر گلوکار پر ہوتا ہے کہ وہ کیسا گا رہا ہے۔ اگر کوئی بغیر ٹریننگ کے اچھا گاتا ہے تو ٹریننگ ضروری نہیں، مگر بہت سے روایتی انداز انتہائی مشکل ہوتے ہیں، جنہیں استاد کے بغیر سیکھنا آسان نہیں۔ میں نے خود بھی ٹریننگ اس وقت شروع کی جب میں پاپ آرٹسٹ بن چکی تھی، کیوںکہ میں اپنی فنی حدود کو بڑھانا چاہتی تھی۔ لیکن ٹریننگ کسی بھی گلوکار کو مزید مضبوط بنا دیتی ہے۔
س: لڑکوں میں زیادہ ٹیلنٹ نظر آیا یا لڑکیوں میں؟
ج: ٹیلنٹ کو جنس کی بنیاد پر تقسیم نہیں کرسکتی۔ دونوں میں صلاحیتیں ہیں، فرق صرف مواقع اور اعتماد کا ہوتا ہے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ بہت سی نوجوان لڑکیاں سیکھ رہی ہیں، گھر میں، خاندان میں یا آن لائن۔ کئی خواتین امیدواروں کی آواز نہایت مضبوط اور تربیت یافتہ ہے۔ مواقع ملیں تو دونوں یکساں طور پر آگے بڑھ سکتےہیں۔
س: پاکستان میں عالمی سطح کی موسیقی کے تربیتی ادارے کیوں نہیں ہیں؟
ج: ہماری موسیقی بنیادی طور پر ”اُستاد اور شاگرد“ کی روایت پر قائم ہے اس تعلق کو اداروں میں اسی وقت منتقل کیا جا سکتا ہے جب ادارے اساتذہ کو عزت اور سہولت فراہم کریں۔
گزشتہ بیس برس میں میوزک میں کاروباری مداخلت بہت بڑھی ہے، جس نے طویل المدت تربیت کے نظام کو کمزور کردیا ہے، جب تک ایسے نظام نہیں بنتے جو تجارتی فائدے کے بجائے معیار اور استادوں کی اہمیت کو ترجیح دیں، مضبوط پلیٹ فارم بنانا مشکل رہے گا۔
س: آپ کو لگتا ہے کہ نوجوانوں کو مزید سیکھنے کی ضرورت ہے؟
ج: ہر کسی کو ساری زندگی سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، مجھے بھی ہے۔ کچھ لوگ سیکھنے کے شوقین ہوتے ہیں، کچھ کارکردگی پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ بہت سے امیدوار جیسے روَیش، منعم، حسن سوشل میڈیا پر بھی سرگرم ہیں اور ساتھ ساتھ سیکھ بھی رہے ہیں، جو بہت خوش آئند ہے۔
لوگ ان کی آواز کو ”گاڈ گفٹڈ“ کہتے ہیں، مگر میں سمجھتی ہوں، اصل تحفہ سیکھنے کا موقع اور اچھے استاد کی رہنمائی سے ملتا ہے۔
س: کیا صرف مناسب موسیقی کی تعلیم حاصل کرلینے سے گلوکاری میں مہارت آجاتی ہے؟
ج: مجھے نہیں معلوم کہ ”مناسب“ تعلیم کی تعریف کیا ہے، مگر یہ ضرور جانتی ہوں کہ سیکھنا ہمیشہ فائدہ دیتا ہے۔ ٹریننگ آپ کی تکنیک، الفاظ، آواز کی گہرائی اور اظہار کو وسیع تر کرتی ہےاور صرف موسیقی نہیں زندگی، ادب، اور دیگر فنون میں دلچسپی بھی فنکار کی سوچ اور اظہار کو طاقتور بناتی ہے۔
س: اگر آپ کو موقع ملے تو کیا آپ کو خود بھی سکھانا چاہیں گی؟
ج: نہیں، میں موسیقی کیلئے استاد بننے میں دلچسپی نہیں رکھتی،صرف اپنے تجربات شیئر کرنے میں ہی خوش ہوں، کیوں کہ موسیقی کی ٹیچر نہیں اپنے آپ کو آج بھی ایک سیکھنے والی فنکار سمجھتی ہوں۔
ویسے تخلیقی دنیا میں عمر کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، اہم بات فن کی پختگی ہوتی ہے۔ البتہ میں ایسا ماحول بنانے میں دلچسپی رکھتی ہوں جہاں لوگ خود سیکھ سکیں، نا کہ میں اُن کی ٹیچر بنوں۔
س: اب تک کا تجربہ دیکھتے ہوئے آپ کے خیال میں ”پاکستان آئیڈل“میں کون بہت آگے جائے گا؟
ج: فی الوقت میں اس کا جواب نہیں دے سکتی، سب ہی کی آوازیں، صلاحیتں اقابل رشک ہیں، سب ہی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ بہترین آواز، پختگی، اعتماد، ججز کا فیصلہ اور عوام کا ووٹ یہ تمام چیزیں ہیں جو کسی بھی گلوکار کو آگے لے جاسکتی ہیں، اب کون نمبرون ہوگا اس کے لیے انتظار کریں۔
س: پاکستان آئیڈل میں کوئی خاص یا دلچسپ واقعہ جسے شیئر کرنا پسند کریں گی؟
ج: کسی ایک واقعے کے بجائے، مجھے امیدواروں کے نفسیاتی سفر نے زیادہ متاثر کیا ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ ایک فنکار کیلئے خود پر اعتماد اور جذباتی مضبوطی کتنی ضروری ہے۔ کچھ گلوکار خوف کے باعث پیچھے رہ جاتے ہیں، کچھ اسی خوف میں زیادہ کوشش کر بیٹھتے ہیں۔
جو اپنے اندر کی آواز کو سمجھتے اور ساتھ ساتھ کھلے دل سے سیکھتے ہیں اور پھر وہی سب سے زیادہ چمکتے ہیں۔ ان نوجوان فنکاروں کی اس جدوجہد کو دیکھنا میرے لیے بہت متاثر کن رہا ہے۔
س: کیا آپ کو ان میں کوئی کمی محسوس ہوئی؟
ج: میں انہیں ”بچے“ نہیں سمجھتی یہ مکمل فنکار ہیں، جن میں سے کئی بہت پختہ آواز کے مالک ہیں۔ ہر فنکار میں بہتری کی گنجائش نظر آرہی ہے۔ اکثر امیدواروں کو اپنی آواز کی گہرائی اور انفرادیت کو پہچاننے کا مزید موقع چاہیے۔کچھ کی موسیقی کی سمجھ بہت اچھی ہے۔ لیکن ہر ایک میں کوئی نہ کوئی خاص بات ضرور ہے۔
س: فلمی میوزک کی طرف آنے کا تجربہ کیسا رہا؟
ج: بہت خوبصورت، پاکستانی فلم ”ہو من جہاں“ کے لیے گانے کا موقع ملا تو سمجھ آئی کہ فلمی میوزک کی دنیا مختلف ہے۔ وہاں ہر لفظ، ہر سانس اس کی جذباتی کیفیت کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔
آج کل چھ نئے فوک فیوژن گانے ریکارڈ کر رہی ہوں جو جلد ریلیز ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایک بین الاقوامی کولیبریشن بھی پائپ لائن میں ہے۔ کوشش ہے کہ پاکستانی موسیقی کو دنیا کے سامنے نئے انداز میں پیش کروں۔
س: کوک اسٹوڈیو‘ نے آپ کے سفر میں کیا تبدیلی پیدا کی؟
ج: بہت بڑی تبدیلی ہوئی، عالمی سطح پر شناخت دی۔ عیاریاں اور خانا بدوش جیسے گانوں نے میری آواز کو لاکھوں لوگوں تک پہنچایا۔ یہ سیکھنے کا موقع ملا کہ کسی گانے میں احساس سب سے اہم ہوتا ہے۔
س: نئی نسل کے سنگرز کو کیا مشورہ دیں گی؟
ج: خلوص ِنیت سے کام کریں۔ آواز خوبصورت ہونا کافی نہیں، احساس ہونا ضروری ہے۔ موسیقی مقابلہ نہیں محبت ہے، اور محبت ہی دل تک پہنچتی ہے۔