بات چیت: ندا سکینہ صدیقی
کہتے ہیں، زندگی میں پلاننگ بہت اہم ہوتی ہے۔ ہر کام منصوبہ بنا کر کیا جائے تو نتائج بہتر نکلتے ہیں لیکن کبھی کبھی کسی کی زندگی بغیر منصوبہ بنائے بھی خوش گوار گزرتی ہے، جس کا اندازہ اداکارہ ’’رُشنا خان ‘‘ سے ملاقات کے بعد ہوا۔بقول رُشنا کے ’’میں نے کبھی کوئی کام پلاننگ کے تحت نہیں کیا، جب جو کرنے کا دل چاہا کرلیا۔
بغیر یہ سوچے کہ میں یہ کام کر سکتی ہوں یا نہیں، نت نئی تجربات کرنا ہمیشہ میرا شوق رہا ہے۔ کبھی فلم میکنگ کی دنیا میں قدم جمائے تو کبھی ٹریولنگ کے شوق نے کیبن کریو بنا دیا۔ رُشنا کینیڈا میں قیام پذیر تھیں شادی کے بعد پاکستا ن آگئیں۔ گرچہ ان کی فیملی میں کسی کا تعلق شوبز انڈسٹری سے نہیں ہے۔ لیکن رُشنا نے اس میدان میں بھی بغیر منصوبے کے قدم رکھ دیا۔
حال ہی میں جیو چینل کی دھوم مچاتی سیریل ’’کیس نمبر 9‘‘ میں انہوں نے ’’کرن ‘‘ کا کردار ادا کیا، جس میں ناظرین نے ان کے کام کو سراہا۔ گزشتہ دنوں ہم نے ’’رُشنا خان ‘‘ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور دوران ملاقات جو گفتگو ہوئی، ہمارے سوالوں کے جواب میں اُنہوں نے کیا کہا، ملا حظہ کریں۔
س: سب سے پہلے خاندانی پس منظر اور تعلیم کے بارے میں ہمارے قارئین کو بتائیں ؟
ج: میری جائے پیدائش کراچی ہے، 10 سال کی تھی تو فیملی کے ہمراہ کینیڈا شفٹ ہوگئی تھی۔ دو بھائی ہیں۔ وہ بھی کینیڈا میں رہتے ہیں۔ ہائی اسکول کے بعدسائیکلولو جی اور سوشولوجی میں گریجویشن کیا۔ سائیکلولوجی میں میری دل چسپی بہت زیادہ تھی مجھے لوگوں کی سوچ اور مائنڈ سیٹ جاننے کا بہت شوق تھا۔
گریجویشن کے ایک پروجیکٹ میں ہمیں ایک فلم ’’واٹر ‘‘ دکھائی گئی، جسے دیکھنے کے بعد مجھے فلم بنانے کا شوق ہوا، مجھے ڈاکومینٹرز اور رئیلٹی شوز اچھے لگتے ہیں ،اسی لیے’’ ٹورنٹو فلم اسکول‘‘ سے فلم میکنگ میں ماسٹرز کیا۔ابتدا ء میں کچھ ڈاکومینٹرز بنائیں جو مختلف فلم فیسٹیول کا حصہ بھی بنی تھیں۔ لیکن میں یہ کام فری لائنسر کے طور پر کرتی تھی۔
یہ بتادوں میں نے کوئی بھی کام کبھی پلان کرکے نہیں کیا، نہ بچپن سے سوچا تھا کہ مجھے یہ بنا ہے ،عمر کے ساتھ ساتھ شوق بدلتے گئے، جب جو کرنے کا دل چاہا کرلیا۔ فلم میکنگ ،ایوی ایشن اور اداکاری تینوں شعبے ایک دوسرے سے بالکل جدا ہیں لیکن میں نے تینوں میں کام کرنے کا تجربہ کیا۔ میں سمجھتی ہوں تجربے زندگی میں سبق سکھاتے ہیں۔
ٹورنٹو ائیررپورٹ کینیڈا میں پارٹ ٹائم کسٹمر سروس میں بہ حیثیت مترجم ملازمت کی، وہاں جب ایوی ایشن کے اسٹاف کو آتے جاتے دیکھتی تو اچھا لگتا، سب مجھے سے کہتے بھی تھے کہ تم کیبن کریو کے لیے اپلائے کردو۔
ٹریولنگ کا شوق مجھے بچپن سے تھا اتفاق سے ایک نجی ائیر لائن، کینیڈا کیبن کریو کے انٹرویوز لینے آئی تو میں نے بھی انٹرویو دیا، کچھ دنوں بعد مجھے ان کی طرف سے کنفرمیشن لیٹر موصول ہوا، اس طرح میں ایوی ایشن کا حصہ بن گئی، اس کے لیے مجھے دبئی جاناپڑا، جہاں تین سال میں نے بہ طور کیبن کریو کام کیا۔
اس دوران بھی سوچتی تھی کہ ٹریولنگ سے متعلق ڈاکومینٹریز بناؤ گی لیکن موقع نہیں ملا، جو کرنے کا سوچانہ تھا وہ کر گزری یعنی اداکاری کی دنیا میں قدم رکھ دیا۔
س: کیا اداکاری کرنے سے پہلے پروڈکشن ہاؤسز میں آڈیشن دئیے تھے ؟
ج: جیسا کہ میں نے بتایا، اداکاری کرنے کا میں نے کبھی نہیں سوچا تھا، کیوںکہ میری فیملی میں کسی کا بھی تعلق اس شعبے سے نہیں ہے، آنے کا اتفاق ایسے ہوا کہ میرے شوہر شاہ زیب کا تعلق میڈیا سے ہے، ان کے ساتھ مختلف تقریبا ت میں جانا ہوتا رہتا ہے۔
ایک تقریب میں کسی نے مجھ سے پوچھا کہ، آپ ڈراموں میں کام کرنا چاہیں گی تو میں نے سوچا فلم میکنگ اور ایوی ایشن کی طر ح کیوں نہ اداکاری کا تجربہ بھی کرلیا جائے، میں نے فوراً کہا جی ضرور، پھر جیو کے پروڈکشن ہاؤس ’’سیونتھ اسکائی ‘‘ اور دیگرپروڈکشن ہاؤسز میں آڈیشن دئیے ، اُس وقت ذہن میں یہی تھا کہ دیکھتی ہوں کیا ہوتا ہے، یوں سمجھ لیں بس شوق میں آڈیشن دئیے اور کام یاب ہوگئی۔
س: پہلا ڈرامہ کون سا تھا اور کیسے آفر ہوا ؟
ج: پہلا ڈرامہ ایک نجی چینل سے کیا تھا، جس کانام تھا ’’تیرا یہاں کوئی نہیں ‘‘، اس میں میرا سپورٹنگ رول تھا۔ بعدازاں جیو کی ڈرامہ سیریل ’’مجھے خود پر یقین ہے ‘‘ میں کام کیا۔ پروڈکشن ہائوس سے آفر ہوئی تھی۔ کیس نمبر 9 سے پہلے میں نے جتنے بھی ڈرامے کیے ان سب میں میرا سائیڈ رول تھا۔
س: ’’کیس نمبر9‘‘ میں کرن کا کردار آپ کو کس نے آفر کیا؟ اس کردار کو کرنے کی کوئی خاص وجہ تھی، اسے کرنے میں کوئی دشواری ہوئی ؟
ج: کردار میں ایک بھی ایسی چیز نہیں تھی، جس کی وجہ سے میں اسےکرنے سے انکار کرتی، لہٰذا فوری حامی بھرلی، جاندار کردار تھا، شوہر کو نہ دیکھا۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ اس ڈرامے میں مجھے اپنے آپ کو ثابت کرناہے چاہے، اس کے لیے مجھے کتنی ہی محنت کیوں نہ کرنی پڑے۔ کردار آفر ہونے کے بعد ڈائریکٹر وجاہت حسین نے میرا آڈیشن لیا۔
اس کے بعد بھی مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ میں اس کردار کوبہتر کرسکوں گی یا نہیں ،کیوں کہ اس میں تما م آرٹسٹ بہت تجربہ کار تھے، ان سب کے کریڈٹ پر کئی سپر ہٹ ڈرامے ہیں۔ میری اُردو بولنے سے زیادہ پڑھنے میں کافی کمزور ہے، ڈرامے میں صحیح اُردو اور تلفظ کی درست ادائیگی پر میں نے بہت محنت کی تھی۔ مشکل الفاظ کے صحیح تلفظ کی کئی کئی گھنٹے پریکٹس کرتی تھی، لیکن یہ سب کرنے میں مجھے مزہ بہت آتا تھا میں نے اس سیریل کے پورے سفر کو بہت انجوائے کیا۔
کرن بننے کے لیے بہت زیادہ محنت کی ،ناپا سے ورک شاپس بھی لیں، جس سے مجھے بہت زیادہ مدد ملی۔ گھر پرشاہ زیب کے ساتھ اپنے مکالموں کی بہت پریکٹس کرتی تھی، حالاں کہ اسکرپٹ دیکھ کر مجھے ایک لمحے کے لیے لگا کہ شاید میں نہ کرسکوں گی، کیوں کہ اُردو میں اسکرپٹ دیکھ کر ہی گھبرا گئی تھی۔
یہاں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گی اداکاری کو نکھارنے میں ورک شاپس بہت اہم ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مضبوط کردار پر فارم کرنے میں بہت مزہ آتا ہے۔ اگر یہ ڈرامہ شاہ زیب نے نہیں لکھا ہوتا، تب بھی میں محنت کرتی، ہر لحاظ سےاچھا پر فارم کرنے کی پوری کوشش کی۔
بس مجھے ایک ڈر تھا کہ اگر اچھا پر فارم نہیں کرسکی تو ناظرین باتیں کریں گے۔ میں نے اس بات کا خیال رکھا کہ میری وجہ سے کسی سین میں کوئی کمی نہ رہے، کیوں کہ کوئی بھی سین جب ہی اچھا ہوتا ہے جب سارے کردار مضبوط ہوں ، سب کی کیمسٹری اچھی ہونا ضروری ہے۔
س: آپ کے خیال میں اداکاری آسان کام ہے ؟
ج: بالکل بھی نہیں ہے۔ ناظرین کو لگتا ہے بس چند جملے ہی تو بولنے ہوتے ہیں ،اس میں کون سی بڑی بات ہے، مگر حقیقت میں ہوتا اس کے برعکس ہے۔ وہی بات ہے جب تک آپ خود کسی چیز کا تجربہ نہیں کرتے تو اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔ اداکاری کرنے سے پہلے مجھے بھی یہ چیزیں بہت آسان لگتی تھیں لیکن کرتے وقت اندازہ ہوا یہ اتنا آسان نہیں ہے، کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد ڈرامے کا ایک سین شوٹ ہوتا ہے، کچھ سینز مکمل کرنے میں کئی کئی دن لگ جاتے ہیں۔
ابتدا ء میں خود بھی نہیں معلوم ہوتا کہ آپ کس طرح کام کریں گے، ڈائریکٹر کابھی پریشر ہوتا ہے، جب آپ فیلڈ میں نئے ہوتے ہیں تو اپنے آپ کو منوانے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ ہدایت کار کی ڈیمانڈ کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے۔
ڈرامے میں میری سب سے بڑی جنگ اپنے آپ سے تھی، کیوں کہ ڈرامے کا حصہ بننا بڑی بات نہیں تھی، اپنے کردار کو خوب صورتی سے نبھانا اور ناظرین کو آپ کا کام پسند آجانا، یہ سوچ کر پریشان ہوتی تھی۔
س: کوئی ایک چیز جو آپ کو اپنے کردار میں کم لگی ہو؟
ج: میں یہ نہیں کہوں گی کہ میرا کام بالکل پر فیکٹ تھا اس میں مزید بہتری کی گنجائش تھی۔ میرا کردار صرف بلیک اینڈ وائٹ نہیں بلکہ کچھ گرے بھی تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ میں نے اپنے کام کو تنقیدی نقطہ ٔ نظر سے نہیں دیکھا، البتہ کردار کی جو ڈیمانڈ تھی، وہ نبھانے کی پوری کوشش کی۔
میرے خیال سے یہ پہلا ڈرامہ ہے، جس میں کورٹ روم دکھایا گیا ہے، اس سے لوگوں کو قانونی طور پر آگاہی ملی ہے، اس طرح کے کیسز کو کس طرح ہینڈل کرنا چاہیے۔ کورٹ روم میں کس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایس اوپیر ز کیا ہوتے ہیں، ٹیسٹ کب کروانا ہوتا ہے، اگر ثبوت نہیں ہیں تو کن کن چیزوں سے گزرنا پڑتا ہے، میڈیکل کے کن مسائل کاسامنا کرنا پڑتا ہے، پولیس کی تحقیق کس طر ح ہوتی ہے، یہ سب گہرائی میں جا کر دکھا یا گیا ہے۔ اس سے لوگوں کو بہت آگا ہی ملی ہے۔ اس سے قبل ریپ کے موضوع پر جتنے بھی ڈرامے پیش ہوئے، ان میں اتنی گہرائی نہیں تھی۔
س: ناظرین کا کہنا ہے کہ آخری تین اقساط ڈراما نہیں شاہ زیب خانزادہ کا پروگرام لگ رہی تھیں؟
ج: ایسا کرنا اسکرپٹ کا حصہ تھا، شاہ زیب نہ کرتے تو کوئی اور کرتا۔ انہوں نے خود کرلیا تو اس میں غلط کیا تھا اور ڈرامے کا حصہ بننے کا فیصلہ شاہ زیب کا اپنا نہیں بلکہ پروڈکشن ہاؤس کا تھا۔
س: اداکارہ بننے کے بعد کوئی تبدیلی محسوس کرتی ہیں ؟
ج: خاص تبدیلی نہیں، البتہ جب لوگ میرے کردار کی وجہ سے مجھے پہچانتے ہیں، کام کی تعریف کرتے ہیں تو بہت خوشی ہوتی ہے۔
س: کیبن کریو اور اداکارہ بننا دونوں مختلف کام ہیں، کس کام کو زیادہ انجوائے کیا؟
ج: ہر کام کو انجوائے کیا، جب ایوی ایشن میں تھی وہاں کام کرنے کا اپنا مزا تھا، اداکاری کی تو اُسے انجوائے کیا۔ کیبن کریو میں مختلف ممالک میں ٹریول کیا، اس وقت میں بہت خوش ہوتی تھی۔ لہٰذا مجھے دونوں ہی کام کرنے میں لطف آیا۔
س: شادی کے حوالے سے بتانا پسند کریں گی کیسے ہوئی ؟ پسند کی تھی یا ارینج ؟
ج: فلم میکنگ کا ایک پروجیکٹ تھا، جس میں مجھے ڈاکومینٹری بنانی تھی، اس سلسلے میں شاہ زیب سے میری ملاقات ہوئی، انہوں نے میری کافی مدد کی تھی، بعدازاں میں نے ایوی ایشن جوائن کرلیا اور دبئی چلی گئی۔
شاہ زیب کرکٹ ٹورنامنٹ ’’پی ایس ایل‘‘دیکھنے دبئی آئے تو ہماری دوبارہ ملاقات ہوئی۔ اس سے قبل وہ میری فیملی سے بھی مل چکے تھے۔ آہستہ آہستہ ہماری ذہنی ہم آہنگی ہوگئی، ایک دن شاہ زیب نے مجھے شادی کی آفر کی، مجھے اور گھر والوں کو اعتراض نہیں تھا، سو ہماری شادی ہوگئی اور شوہر کے ہمراہ پاکستان آگئی۔
س: شادی کے بعد کینیڈا سے پاکستان شفٹ ہونا کتنا چیلجنگ تھا ؟
ج: چیلجنگ تو ہر لحاظ سے تھا، کیوں کہ وہاں کے اور یہاں کےلائف اسٹائل میں بہت فرق ہے۔ نئی جگہ اور نئے ماحول کو اپنانا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن آہستہ آہستہ ہر چیز کو اپنا لیا۔
جب میں تین سال دبئی میں رہی، تو پہلا سال میرے لیے بہت مشکل تھا۔ میرے خیال سے ہر ملک کا اپنا ماحول ہوتا ہے، آپ کسی بھی نئی جگہ جائیں وہاں مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔
س: زندگی کا کوئی ناقابل فراموش واقعہ ؟
ج: ترکی میں میرا فون گُم ہو گیا تھا، اس میں بہت ساری یادیں تھیں، وہ ملا نہیں لیکن اسے بھولنا میرے لیے ناممکن ہے۔
س: شوہر سے جھگڑا ہوتا ہے، ہوتا ہے تو کن باتوں پر؟ جھگڑا ختم کرنے میں پہل کون کرتا ہے ؟
ج: میرے خیال سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختلافات تو میاں بیوی کے درمیان ہوتے ہی ہیں۔ ہم جھگڑوں کو زیادہ طول نہیں دیتے، جس کی غلطی ہوتی ہے وہ صلح کرنے میں پہلا کرلیتا ہے، مجھے ویسے بھی زیادہ ناراض رہنا پسند نہیں۔ لڑائی جتنی جلدی ختم ہوجائے اتنا ہی اچھا ہوتا ہے۔
س: کیا ہمارےڈرامے معاشرے کو سدھار میں کوئی کردار ادا کررہے ہیں ؟
ج: یقیناً ڈراموں سے معاشرے میں سدھار آرہا ہے، پاکستانی ڈرامے دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں۔ عوام میں آگاہی پھیلا رہے ہیں۔ ڈراموں کے ذریعے لوگوں کو بہت ساری نئی باتیں پتا چلتی ہیں۔
س: فرصت کے لمحات میں کیا کرتی ہیں ؟
ج: نیٹ فلکس پر سیریز دیکھتی ہوں، جم چلی جاتی ہوں اور اگر زیادہ عرصے کے لیے فارغ ہوتی ہوں تو ٹریول کرتی ہوں۔
س: مستقبل میں مزید ڈراموں میں کام کرنے کا ارداہ ہے ؟
ج: اگر کوئی اچھا اسکرپٹ آفر ہوا تو ضرور کروں گی، ابھی ایک آفر ہوا تھا جو مجھے نہیں سمجھ آیا، میں نے معذرت کرلی۔ جو کردار معاشرے میں منفی پیغام دیں وہ میں کبھی نہیں کرنا چاہوں گی۔