اس ہفتے فلمی دنیا کی دو ’’ثریا ‘‘ سے ملاقات کریں۔ ایک بولی وڈ کی اداکارہ ’’ثریا جمال شیخ ‘‘ ، دوسری پاکستان کی معروف گلوگارہ ،’’ثریا ملتانیکر ‘‘ ہیں۔
1940اور 50ء کی دہائی میں ہندوستان میں اداکارہ ثریا کے نام کا ڈنکا بجتا تھا۔15 جون 1929ء کو گوجرانوالہ میں آنکھ کھولی۔ والدین کی اکلوتی اولاد تھیں ،پورا نام ثریا جمال شیخ تھا۔ وہ جتنی باصلاحیت اداکارہ تھیں اتنی ہی اچھی گلو کارہ بھی تھیں۔ انہوں نے 65کے قریب فلموں میں کام کیا۔
ان کا شمار اپنے وقت کی کام یاب اور دولت مند اداکاراؤں میں ہوتا تھا۔ ثریا کے فنی سفر کی کہانی کچھ یوں ہے، ہندی سنیما کے مشہور ہیرو راج کپور اور دیو آنند ان کے بچپن کے ساتھی بھی تھے اور ہمسائے بھی۔
راج کپور اس زمانے میں آل انڈیا ریڈیو بمبئی میں بچّوں کے پروگراموں میں حصّہ لیتے تھے۔ انھوں نے ثریا کو بھی آل انڈیا ریڈیو پرآڈیشن دینےکا مشورہ دیا۔ ثریا نے آڈیشن دیا، اس زمانے میں زیڈ اے بخاری بمبئی ریڈیو کے اسٹیشن ڈائریکٹر تھے۔ انھوں نے ثریا کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ریڈیو پر ثریا کی آواز نے نوشاد علی کو اپنی جانب متوجہ کرلیا، اُن کے کہنے پر ثرّیا صدا کاری کے ساتھ آواز کا جادو بھی جگانے لگیں، فلمی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد پیچھے مُڑ کر نہ دیکھا۔
اپنے وقت کے تمام مشہور ہیروز کے ساتھ کام کیا۔ 1937ء میں کیمرے کا سامنا کیا، بارہ برس کی عمر میں فلم ’تاج محل‘ میں بطور چائلڈ اسٹاراداکاری کی،ہوا کچھ یوں کہ،ہدایت کار نانو بھائی وکیل کی نظر ثریّا پر پڑی تو انھوں نے اپنی فلم تاج محل میں کام کرنے کا کہا ، ثریّا فوری راضی ہوگیئں۔
تاج محل میں ممتاز محل کا کردارکرتے ہی بڑے پردے پر سب کی توجہ کا مرکز بن گئیں، بعد ازاں فلمی دنیا کے دروازے ان پر کُھلتے گئے، فلم پھول، انمول گھڑی، تدبیر، عمر خیام، پروانہ، وارث، مرزا غالب اور رستم و سہراب میں ثریّا کی اداکاری بہت پسند کی گئیں۔ پیار کی جیت‘ ’بڑی بہن‘ اور ’دل لگی‘ان کی سپر ہٹ فلمیں تھیں۔
اداکاری کے علاوہ ثریّا نے تین سو سے زائد گانے ریکارڈ کروائے،جن میں’سوچا تھا کیا، کیا ہو گیا‘،’دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے‘ اور ’یہ عجیب داستاں‘ جیسے گانوں نے انہیں شہرت دی۔ تقسیم کے بعد ان کے خاندان کے تمام لوگ اور قریبی عزیز پاکستان آگئے لیکن ثریّا نے ممبئی میں رہنا پسند کیا اور آخری سانس تک ایک اپارٹمنٹ میں تنہا زندگی گزاری۔
انہوں نے شادی نہیں کی تھی۔ دیکھ بھال پڑوسی کرتے تھے۔ کہتے ہیں وہ اپنے زمانے کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اور چالیس، پچاس کی دہائیوں میں بھارتی فلموں کی اتنی ہی مقبول اداکارہ تھیں جتنے راجیش کھنّہ 1960 اور 70 کی دہائیوں میں رہے۔
کہا جاتا ہے، ثریا وہ فلمی اداکار تھیں جن کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بمبئی میں لوگ ان کے گھر کے باہرکھڑے رہتے تھے۔ ان کی فلموں کے پریمیئر شوز پر بھی ایسی ہی صورتِ حال دیکھنے کو ملتی تھی۔ پورے ہندوستان میں ان کے مداحوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔لیکن لاہور میں ثریا کے چاہنے والوں میں ماسٹر فیروز دین جیسا کوئی نہ تھا،وہ پیشے کے اعتبارسے درزی تھے،انہیں لاہور میں ثریا کا سب سے بڑا ’’عاشق ‘‘کہا جاتا تھا۔
ایک دن ماسٹر فیروز دین اپنے دوستوں کے ہمراہ بارات لے کرممبئی روانہ ہو گئے۔ جب وہ ثریا کے گھر پہنچے، انہیں اطلاع دی گئی کہ لاہورسے ماسٹر فیروز دین بارات لے کر آئے ہیں تو وہ حیران ہوئیں، بہرحال انہوں نے عقل و فراست سے کام لیا، بڑی عزت سے بٹھایا اورماسٹر فیروز دین سے کہا کہ، وہ ان کے اس جذبے کی قدر کرتی ہیں لیکن اس وقت حالات انہیں شادی کی اجازت نہیں دیتے، اس کے لئے انہیں انتظار کرنا پڑے گا۔
یہ سن کر ماسٹر فیروز دین نے ثریا کاشکریہ ادا کیا اور پھر اگلے ہی دن اپنے باراتیوں کے ساتھ لاہور واپس آ گئے۔ اس واقعے سے ماسٹر فیروز دین کوبہت شہرت ملی۔ بھارت اور پاکستان کے اخبارات نےاس واقعے کی خوب تشہیر کی۔ ماسٹر فیروز دین لاہور کی ممتاز ترین شخصیت بن گئے۔ لیکن ثریاکی شادی ہوئی نہ ماسڑفیروز دین کی،31جنوری 2004 کو ماسٹر فیروز دین کا بمبئی میں انتقال ہواتو اخبارات میں خبر کے ساتھ ان کی بارات کا حوالہ بھی شامل تھا۔
معروف گلوکارہ، ثریا ملتانیکر بچپن سے خود ہی فلمی گانے سُن سُن کر اُن کی دُھنیں یاد کرنے کی مشق کرتی رہتی تھیں، بعدازاں معروف کلاسیکی موسیقار اور سارنگی نواز، استاد، غلام نبی خان کی باقاعدہ شاگردی اختیارکی۔ غلام نبی خان نے بھی ثریا کو راگ ودیا سکھانے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ 1956ء میں ریڈیو پاکستان لاہور میں کلاسیکل کے ساتھ ساتھ ٹھمری، دادرا، کافی اور غزل بھی گانے لگیں۔ کراچی، پشاور اور ڈھاکا ریڈیو سےفنِ گائیکی کا خوب مظاہرہ کیا۔
اس دوران انہیں اس دَور کی معروف گلوکارائوں ،زاہدہ پروین، فریدہ خانم، نسیم بیگم اور منور سلطانہ کی سنگت میں پٹیالہ گائیکی سے خاصی واقفیت ہوئی۔اپنی سہیلی، گلوکارہ نسیم بیگم کے مشورے پر فلم گل بکاؤلی، کا گانا ریکارڈ کروایا، گرچہ وہ گیت زیادہ مقبول نہ ہوا، مگر 1964ءمیں جب فلم ’’بدنام‘‘ کے لیے مسرور انور کالکھا گیت ’’بڑے بے مروّت ہیں، یہ حُسن والے ‘‘ ریکارڈ کروایا، تو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر جاپہنچیں، اس کے بعد تو ان کے لیے فلموں میں گلوکاری کے دروازے کُھلتے ہی چلے گئے۔ سرائیکی کافیاں ان کی پہچان بنیں۔
1960-70ء کی دہائی میں مُلک اور بیرونِ مُلک اپنی رسیلی، پُرسوز آواز کا خُوب جادو جگایا۔ کئی سال بطورِ خاص جشنِ کابل میں شرکت کی۔ ثریا ملتا نیکر نے یورپ ، روس، عرب امارت، ایران ، نیپال اور بھارت میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
وہ بھرپور ریاض اور مشق کی وجہ سے راگ کی مشکل سے مشکل بندش بھی بآسانی ادا کرلیتی تھیں۔ 1970ءمیں جب ریڈیو پاکستان ملتان کا قیام عمل میں آیا تو وہاں سے زیادہ تر اُن کی درد بَھری میٹھی آواز میں لوک گیت، کافیاں اور غزلیں گونجتی تھیں۔
اُس دَور میں انہوں نے موسیقار عبدالشکور بیدل، میاں عبدالباری اور مراد علی کی موسیقی میں سرائیکی کے قدیم لوک گیتوں کو اپنی آواز سے نئے آہنگ دے کر موسیقی شناسی کا بھرپور ثبوت دیا۔ گلوکاری کا سفر جاری تھا، کہ اُن کی شادی ہوگئی، جس کے بعدانہوں نےفلمی دنیا کو خیرباد کہہ دیا۔ حکومتِ پاکستان نے 14 اگست 1986ء کو صدارتی تمغہ برائے حُسنِ کارکردگی اور 14 اگست 2008ء کو ستارہ امتیاز سے بھی نوازا۔