پاکستانی فلم انڈسٹری کی صورت ِحال گزشتہ کئی سالوں سے موسم کی طرح بدل رہی ہےاور سرگرمیاں بھی کافی حدتک ماند پڑ چکی ہیں۔ نہ اب سینما گھروں میں وہ پہلی جیسی رونقیں رہیں اور نہ ہی فلموں کامعیار، کبھی سینما گھروں میں ہاؤس فل کے بورڈ آویزاں ہوا کرتے تھے اور اب مایوس کن سناٹا دیکھنے کو ملاتا ہے۔
سال میں چند فلمیں ہی سینما گھروں کی زینت بنتی ہیں، جن میں کچھ کام یاب اور کچھ فلاپ ہو جاتی ہیں۔ جب تک فلم سازی کے عمل میں تیزی نہیں لائی جائے گی، صوتِ حال بہتر نہیں ہوگی، لالی وڈ کا ایک دور وہ بھی گزرا ہے، جب سال بھر وقفے وقفے سے فلمیں ریلیز کرنے کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ اب صور تِ حال کافی بدل چکی ہے۔2025 ء میں ہی دیکھ لیں، صرف چار فلمیں ریلیز ہوئیں۔ سال کے آغاز میں کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی۔
البتہ عیدا لاضحی کے موقع پر’’دیمک ‘‘اور لُوگرو ‘‘ کے نام سے دو فلمیں ریلیز ہوئیں۔’’دیمک ‘‘جیو فلمز کے تعاون سے سلور اسکرین کی زینت بنی تھی۔ چند ماہ بعد نومبر میں فلم ’’نیلو فر‘‘ ریلیز ہوئی۔ ان فلموں نے جو بزنس کیا، وہ سب کے سامنے ہے۔ دیمک اور لو گرو نے تو کروڑوں کا بزنس کیا لیکن نیلوفر باکس آفس پر کوئی رنگ نہیں جماسکی۔
2025 ء کی فلموں کا جائزہ لیا جائے تو پاکستانی سنیما میں خوف اور سنسنی کی دنیا کو نئی پہچان دینے والی فلم ”دیمک“ نے ریلیز کے 38دنوں میں 17.5کروڑ روپے کاشاندار بزنس کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا۔ ”جیو فلمز“ کی اس نئی پیشکش نے نا صرف عوام کو اپنی طرف متوجہ کیا بلکہ نقادوں کو بھی حیران کر دیا۔
فلم کے ہولناک مناظر، سنسنی خیز کہانی اور دل دہلا دینے والے کرداروں نے ناظرین کو سینما گھروں کی نشستوں سے جکڑ کر رکھا۔ فیصل قریشی، سونیا حسین، ثمینہ پیرزادہ، جاوید شیخ اور بشریٰ انصاری کی جاندار اداکاری نے فلم میں جان ڈال دی۔ پاکستانی عوام اب معیاری اور منفرد مواد کو بھرپور پذیرائی دے رہے ہیں۔ فلم کے پروڈیوسر سید مراد علی شاہ اور ہدایت کار رافع راشدی تھے۔ ”دیمک“ مانڈوی والا انٹرٹینمنٹ کے تحت ملک بھر میں ریلیز کی گئی۔
رافع راشدی کی ہدایت کاری میں بننے والی دیمک تناؤ، خاموشی، ثقافتی خوف پر مبنی ایک سست رفتار تھرلر فلم تھی، جس کی کہانی ایک ایسے خاندان پر مرکوز تھی جو تناؤ سے گزر رہا تھا کہ غیر واضح واقعات ان کی روزمرہ کی زندگی کو تہس نہس کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
جاوید شیخ نے سربراہ محمود کا کردار ادا کیا، جب کہ فیصل قریشی نے فراز کا کردار نبھایا، جو اپنی بیوی حبا (سونیا حسین) اور اپنی معذور ماں (ثمنیہ پیرزادہ) کے درمیان پھنسا ہوتا ہے۔ بشریٰ انصاری فلم کے آخری حصے میں اس وقت نظر آئیں جب صورتحال قابو سے باہر ہو گئی تھی۔ اس کاسٹ کا ہر فن کار اپنے کرداروں میں برسوں کا تجربہ لے کر آیا تھا۔
فلم کا مرکزی تنازع بہو اور ساس کے درمیان کشیدہ تعلقات کا تھا۔ فلم میں کورونا کا زمانہ دکھایا گیا ہے اورجلد ہی یہ واضح ہوگیا تھا کہ یہ گھر اب صرف ایک گھر نہیں رہا بلکہ اس پر کسی خطرناک چیز کا قبضہ ہوگیا ہے۔ فیصل قریشی اور سونیا حسین کے بیٹے(رافع) نے سب سے پہلے گھر میں ہونے والی تبدیلی محسوس کی، بعد میں اس کی بہن رومیسہ نے بھی کچھ محسوس کیا۔ دونوں بچوں نے بہادر ی اور دل چھو لینے والی اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ فلم میں ان کی بے چینی سامعین کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔
فلم دیمک میں بصری اثرات کو اچھی طرح دیکھا گیا، خاص طور پر پاکستانی سنیما میں اعلیٰ معیار کے ہارر ویژولز کی محدود تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ فلم کا سی جی آئی، جو ایک کینیڈین ٹیم کے تعاون سے کیا گیا، قابل یقین لیکن غیر واضح مافوق الفطرت عناصر، تیرتے ہوئے فرنیچر، ہلتے ہوئے سائے، ٹمٹماتی روشنیاں اور ساؤنڈ ڈیزائن نے فلم میں چار چاند لگا دیئے۔
دھیمی سسکیاں، خالی کمروں میں ہنسی، اور چیخوں نے ناظرین کو خوب میں مبتلا رکھا۔ ثمینہ پیرزادہ فلم میں زیادہ تر بے حرکت رہنے کے باوجود بہترین اداکاری کرتی نظر آئیں۔ ان کے چہرے کے تاثرات نے بے مثال پر فارمنس کا مظاہرہ کیا۔
فیصل قریشی کی جاندار اداکاری نے فلم کو مزید مقبول بنا یا جب کہ سونیا حسین کا ایک خاموش خوفزدہ عورت کا کردار حقیقت سے بھر پور لگا۔ فلم دیمک ایک ایسے وقت میں سینما گھر کی زینت بنی جب پاکستان میں ہارر فلموں کا رجحان آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ ’’ذبح خانہ‘‘ (2007) اور’ ’عکس بند‘‘ (2016) جیسی فلموں نے سلیشر اور فاؤنڈ فوٹیج کے میدان کو تلاش کیا، جب کہ’ ’ان فلیمز‘‘ (2023) نے نفسیاتی ہارر کو آرتھ ہاؤس کے دائرے میں سمویا۔
دیمک اس تبدیلی کو جاری رکھتے ہوئے ایک ایسی فلم تھی، جس نے تماشے سے زیادہ جذباتی اور نفسیاتی حقیقت پسندی پر توجہ مرکوز رکھی۔ اس فلم نے صرف ہارر کی صنف کو نئی شکل نہیں دی بلکہ اس کی کہانی بھی منفرد تھی۔ یہ ایک رکی ہوئی، ماحول پر مبنی اور پریشان کن فلم تھی جو ذاتی محسوس ہوتی تھی۔رافع راشدی کی ڈائریکشن نے سب کو حیران کر دیا۔ جیو نے اس فلم کی شان دار انداز میں پروموشن کی۔
دوسری ندیم بیگ کی ہدایت اور ہمایوں سعید کی پیش کردہ فلم ’’لُوگرو ‘‘ تھی۔ اسکرپٹ واسع چوہدری کا تھا، جب کہ فلم کی سینماٹو گرافر، سلیمان رزاق تھے۔ اس فلم میں کئی پاکستانی اور بھارتی فلموں کی جھلکیاں دیکھنے کو ملیں۔ فلم میں مزاح کے نام پر پختون لب ولہجے کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ فلم کی سب سے شاندار بات اس کا پروڈکشن ڈیزائن تھا یعنی پوری فلم کی پریزنٹیشن بہت عمدہ تھی۔ اس کی شوٹنگ پاکستان اور بر طانیہ میں کی گئی، جس طرح فلم کو عکس بند کیا گیا ،وہ حیران کن تھا۔
فلم میں مرکزی کردار ماہرہ خان اور ہمایوں سعید نے نبھائے۔ ماہرہ خان کو لندن میں رہائش پذیر اور پیشے کے اعتبار سے آرکیٹیکچر دکھایا گیا۔ انہوں نے بھی بہتر ین اداکاری کی۔ ہمایوں سعید نے متعدد مقامات پر اداکاری کا پورا حق ادا کیا ۔فلم کے پس منظر میں پختون گھرانوں کی جھلک نظر آئی۔ عثمان پیرزادہ اور جاوید شیخ نے پختون کاکردار نبھانے کی بھر پور کوشش کی۔ دیگر فنکاروں میں رمشا خان، احمد علی بٹ اور مرینہ خان نے بھی عمدہ کام کیا۔
نئے چہرے کے طور پر مانی لیاقت نے بطور کامیڈین اچھا کام کیا۔ فلم کے گانوں کو عوام نے خوب پسند کیا۔ اس فلم چار موسیقاروں کی خدمات حاصل کی گئی تھی جن میں شانی ارشد، عدنان دھول، سعد سلطان اور شیراز اپل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عارف لوہار اور راؤچ کلا کا گیت ’’آتینوں موج کراواں‘‘ جیسا مقبول گیت بھی شامل کیا گیا۔ فلم میں ایک پختون گیت ’’سدا اشنا‘‘ کے علاوہ کئی رومانوی گیت شامل تھے ،مگر سب رومانوی گیتوں کی میلوڈی ایک جیسی ہی تھی۔
اب بات کرتے ہیں فواد خان کی پرڈیوس کردہ اور عمار رسول کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’’نیلو فر ‘‘ کی، جس میں مرکزی کردار، ماہرہ خانّ (نابینا نیلو فر) اور فواد خان(رائٹر منصور خان ) نے ادا کیے۔
اس فلم کی کہانی قوتِ بینائی سے محروم ایک لڑکی اور الفاظ سے دنیا کو اپنا اسیر بناتا ایک لڑکے کے گرد گھومتی ہے۔ یہ فلم دوسری فلموں سے مختلف تھی، اس میں صرف ہنسنا، ہنسانا نہیں تھا بلکہ ایک نابینا لڑکی کے جذبات اور احساسات بہت خوبصورت اندا زمیں عکس بند کیے گئے، تاہم فلم کی ہدایت کاری بہت کمزور نظر آئی۔
اداکاری کی بات کریں تو ماہرہ خان نے ایک نابینا لڑکی کے کردار میں خود کو بہت خوب صورتی سے ڈھالا۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں کی حرکات سے کئی سین میں جان ڈال دی، خاص کر ان کے ہاتھوں کے ارتعاش نے کئی مناظر کو حقیقت کا رنگ دیا۔فواد خان نے بھی منصور کا کردار بہ خوبی نبھایا۔ شائقین کو پاکستانی شوبز اندسٹری کی مایہ ناز جوڑی ماہرہ خان اور فواد خان کو کئ سالوں بعد بڑی اسکرین پر دیکھنے کا موقع ملا۔
’’سونیا حسین ‘‘ نےروسی فیسٹیول میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ اپنے نام کیا
معروف اداکارہ سونیا حسین کو فلم’’ دیمک ‘‘میں بہترین اداکاری پر روسی فیسٹیول میں ایوارڈ ملا ۔بین الاقوامی ایوارڈز کی فہرست میں 2025ء میں پاکستان ایک بار پھر نمایاں ہوا۔ سونیا نے روس میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیت کر نہ صرف ملک کا نام بلند کیا بلکہ پاکستانی فلم انڈسٹری کی عالمی رسائی کو مضبوط بنایا۔
سونیا حسین یہ اعزاز حاصل کرنے والی پاکستان کی دوسری اداکارہ ہیں۔ اس سے پہلے یہ اعزاز پاکستانی فلم لیجنڈ صبیحہ خانم کے پاس تھا۔ فیسٹیول میں 17 ممالک کی 34 فلموں میں سے دیمک نے بین الاقوامی ججوں کی توجہ حاصل کی۔
فلم ’’دیمک ‘‘ نے شنگھائی تعاون تنظیم فلم فیسٹیول میں بیسٹ ایڈیٹنگ ایوارڈ حاصل کیا
2025 ء میں جیو فلمز کی سنسنی خیز اور کامیاب ہارر فلم ”دیمک“ نے بین الاقوامی سطح پر سب کو حیران کر دیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) فلم فیسٹیول 2025 میں بیسٹ ایڈیٹنگ کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔
فلم کے ہدایتکار رافع راشدی اور مرکزی کردار کرنے والی سونیا حسین نے چین کے شہر چونگچنگ میں ایک پروقار تقریب میں ایوارڈ وصول کیا۔ اس فلمی میلے کی میزبانی چین کی فلم ایڈمنسٹریشن اور چونگچنگ میونسپل پیپلز گورنمنٹ نے کی، جس میں فلموں کی نمائش، مقابلے اور بین الاقوامی تعاون فورمز شامل تھے۔ فلم کو جس طرح سے عالمی سطح پر پذیرائی ملی وہ پاکستانی سینما کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔