• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گئے دنوں کی خوشگوار جھلک ’’رینوکا دیوی سے اکا بوا تک‘‘

یادِ رفتگاں

کل کا ایک معروف نام، جو آج بھی اُس دور کے ناظرین کے دل و دماغ پر نقش ہوگا جب اُن کی بے ساختہ اداکاری پر خوب داد ملتی تھی، جو تقسیم ہند سے پہلے ’’رینو کا دیوی‘‘ کے نام سے جب کہ پاکستان میں’’ اکا بُوا ‘‘کے نام سے مشہور ہوئیں۔ اُن کے دنیا سے جانے کے بعد بھی انہیں ’’اکا بُوا ‘‘ کے نام سے ہی جانا جاتا ہے۔ اکا بُوا کا اصل نام بیگم خورشید مرزا ہے۔

آج کی نسل اُن کے نام اور کام سے ناواقف ہوگی لیکن اگر آج بھی ان کی ایک ڈراما سیریل نشر ہو جائے تو یقینا نسل نو کے دل میں بھی گھر کرلیں گی۔ اس ہفتے ہم ماضی کےجھروکوں میں جھانکتے او آپ کی ملاقات ’’ اکا بُوا ‘‘ سے کراتے ہیں، جانیے ان کے بارے میں۔

بیگم خورشید مرزاکا اصل نام خورشید جہاں تھا۔ تقسیم ہند سے قبل رینوکا دیوی کے نام سے مشہور ہوئیں اور پاکستان بننے کے بعد پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی ممتاز فنکارہ کے طور پر جانی گئیں۔ بیگم خورشید مرزا کا تعلق برصغیر کے معروف علمی، ادبی اور ثقافتی خانوادے سے تھا۔ ان کا خاندان علی گڑھ کے ممتاز گھرانوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ 

 والد شیخ عبد اللہ ماہر تعلیم تھے۔ انہوں نے علی گڑھ میں مسلم گرلز کالج کی بنیاد رکھی تھی، جبکہ بڑی بہن ڈاکٹر رشید جہاں انجمن ترقی پسند مصنفین کے بانی شرکاء میں سے تھیں۔ شیخ محمد عبد اللہ تعلیم نسواں کے زبردست حامی تھے، انہوں نے 1904 میں ایک رسالہ’’ خا تون ‘‘ کے نام سے نکالا۔1906 میں لڑکیوں کے لئےعلی گڑھ میں ایک مدرسہ قائم کیا، جو بعد ازاں کالج ہو گیا۔

ان کی خدمات پر حکومت برطانیہ نے ’خان بہادر‘ کا خطاب دیا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ’ایل ایل ڈی‘ کی اعزازی ڈگری اور حکومت ہند نے ’پدم بھوشن‘ کا اعزاز دیا۔ اسکول کی طالبات شیخ عبد اللہ کو ’پاپا میاں‘ او ران کی شریک حیات وحید جہاں بیگم کو ’اعلیٰ بی‘ کے نام سے پکارتی تھیں۔

بیگم خورشید مرزا چار مارچ 1918ء کو پیدا ہوئیں۔سترہ برس کی عمر میں ان کی شادی ایک پولیس آفیسر اکبر حسین مرزا سے ہوئی۔ خورشید جہاں کے بھائی محسن عبد اللہ بمبئی میں دیویکارانی اور ہمانسورائے کے فلمی ادارے بمبئی ٹاکیز سے وابستہ تھے۔ 

ان کے توسط سے جب دیویکا رانی کی ملاقات خورشید جہاں سے ہوئی تو انھوں نے انھیں اپنی فلموں میں اداکاری کی دعوت دی، جسے انہوں نے قبول کر لیا، یوں خورشید جہاں نے ’رینوکا دیوی‘ کے نام سے فلموں میں کام کرنا شروع کر دیا۔ 

 رینوکا دیوی، دیویکا رانی کی مرحوم بہن کا نام تھا ۔ دیویکا رانی نے خورشید جہاں کو یہ نام اپنی بہن کی یاد میں دیا تھا۔ بمبئی ٹاکیز نے برصغیر کی فلمی صنعت کو متعدد نئے چہرےدئیے، جن میں رینوکا دیوی (بیگم خورشید مرزا) کے علاوہ لیلیٰ چٹنس جیسی اداکارائیں، نجم الحسن اور اشوک کمار جیسے اداکاروں سے متعارف کرایا۔

بیگم خورشید مرزا، کی پہلی فلم’’ جیون پرابھت‘‘ کے نام سے 1937ء میں، دوسری فلم ’’بھابی‘‘ 1938ء میں ریلیز ہوئی اور سپرہٹ ہوئی اور پھر بیگم خورشید پورے انڈیا میں رینوکا دیوی کے نام سے مشہور ہوگئیں۔ فلم بھابی میں وہ ہیروئن تھیں۔ فلم نیا سنسار‘‘ بھی ان کی سپرہٹ فلم تھی، جس کے ہیرو اشوک کمار اور ہیروئن رینو کا دیوی (بیگم خورشید مرزا) تھیں۔ اس فلم میں رینوکادیوی نے کئی گانے بھی گائے تھے۔ 1941کی یہ سپرہٹ فلم تھی۔ 

اس کے بعد رینوکا دیوی نے بمبئی کو خیر باد کہا اور لاہور آگئیں۔1943ء میں لاہور سے زینت بیگم فلمز کی جانب سے ان کی ایک فلم سہارا‘‘ کے نام سے ریلیز ہوئی۔1947ء میں پاکستان بننے کے بعد رینوکادیوی اپنا نام اور فلمیں انڈیا میں چھوڑ کر پاکستان آ گئیں۔ یہاں آنے کے بعد کافی عرصہ تک ان کا نام ہندوستان میں گونجتا رہا۔ پاکستا ن آنے کے بعد بیگم خورشید مرزا کے نام سے معروف ہوئیں۔ 

ابتدا میں ڈراموںاور فلمی دنیا سے دور رہیں، البتہ ریڈیو پاکستان سے پروگرام کئیے ،جن میں غریب پسماندہ علاقوں کے مسائل پر روشنی ڈالتیں مگر یہاں کی فلمی صنعت میں اُس وقت شامل نہیں ہوئیں، کیونکہ وہ یہاں کی فلموں کی تباہ حالی اور خواتین اداکاراؤں کی عزت نہ کرنا ان کے نزدیک توہین آمیز تھا، اس لئے انہوں نے فلموں کی طرف دھیان نہیں دیا اور ریڈیو کے ذریعے حق کی آواز بلند کرتی رہیں ریڈیو کے کئی پروگراموں کی کمپیرنگ کی۔ 1962میں جب کراچی میں ٹیلی ویژن کی تجرباتی نشریات کا آغاز ہوا تو انہوں نے دو ڈراموں میں کام کیا، ۔دسمبر 1971 میں ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا، جس کے بعد انہوں نے پروڈیوسر شیریں پاشا کے اصرار پر باقائددڈراموں میں کام کرنا شروع کیا۔

کرن کہانی سے پی ٹی وی کے سفر کا باقائدہ آغاز کیا، ان کی پہلی ٹیلی وژن سیریل ’کرن کہانی‘ تھی، حسینہ معین نے اسے لکھا تھا، اس میں انکے کام کو بہت پسند کیا گیا، بعد ازاںانھوں نے متعدد ٹیلی وژن سیریلز میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔1974ء میں ان کی کامیڈی ڈرامہ سیریل زیر، زبر، پیش‘‘ تھی، جس کی پروڈیوسر شیریں خان تھیں۔ 

کہانی حسینہ معین نے لکھی تھی۔1974ء ہی میں ان کا ایک اور ڈرامہ انکل عرفی‘‘ کے نام سے شروع ہوا جو کافی مقبول ہوا۔ اس کے بعد ان کے بے شمار ڈرامے ٹیلی کاسٹ ہوئے۔ 1984 میں ان کی ڈرامہ سیریل ’’انا‘‘ پیش کی گئی جو بہت مقبول ہوئی۔

ہدایتکار حیدر امام رضوی تھے اس میں غزالہ کیفی، اظہار قاضی، زینت یاسمین، مہرین الٰہی وغیرہ نے کام کیا۔ ان کے دیگر معروف ڈراموں میں شمع، افشاں، عروسہ، رومی، شوشہ، پناہ، دھند اور ماسی شربتی وغیرہ شامل ہیں۔’’ ’ماسی شربتے‘ میں بھی ان کا کردار بڑا یادگار سمجھا جاتا ہے۔

بیگم خورشید مرزا کی سوانح عمری ’اے وومن آف سبسٹانس‘ کے نام سے شائع ہوئی، جو ان کی صاحبزادی لبنیٰ کاظم نے قلم بند کی ،یہ’ ’دی میکنگ آف اے ماڈرن مسلم وومن‘ ‘کے نام سے بھی شائع ہوئی۔

بیگم خورشید مرزا نے سماجی خدمات بھی سر انجام دیں، 'اپوا‘‘(Apwa)آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن‘‘ سے بھی منسلک رہیں۔ جب ان کے شوہر کا تبادلہ کوئٹہ میں ہوا تو وہاں بھی اپوا‘‘ سے منسلک رہیں اور سماجی کام کرتی رہیں، وہاں باقاعدہ ایک مرکز اسماعیل خیلی کے نام سے قائم کیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں1985ء میں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ بیگم خورشید مرزا کا انتقال 8فروری 1989ء کو لاہور میں ہوا۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید