فن و ثقافت کے اُفق پر ایک نام ہمہ جہت صلاحیتوں کے ساتھ جوروشن نظر آتا ہے، وہ ہے’’بلال مقصود ‘‘کا۔ عہد ساز دانشور انور مقصود،کےصاحب زادے، بلال مقصود نے اپنی پہچان صرف نسبت سے نہیں بلکہ اپنے فن، اپنی محنت اور اپنی انفرادیت سے بنائی ہے۔ وہ نا صرف موسیقار بلکہ میوزک ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور بہترین نغمہ نگار بھی ہیں، جدید پاکستانی میوزک کیلئے ایک مضبوط حوالہ سمجھے جاتے ہیں۔
وہ ملک کے مقبول بینڈ اسٹرنگز(Strings) کے مرکزی رکن کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کیلئے وہ دھنیں تخلیق کیں جو نسلوں کی آواز بنیں، وہ نغمے پیش کئے جو وقت کی قید سے آزاد ہوئے اور وہ میوزک دیا جس میں پاکستان کی خوشبو، اُمید اور شناخت جھلکتی ہے۔ ان کی آواز میں ایک سچائی اور ٹھہراؤ ہے، ان کے میوزک میں وہ گہرائی ہے جو سننے والے کو صرف سناتی نہیں بلکہ محسوس بھی کراتی ہے۔
چاہے وہ پاپ ہو، صوفیانہ ہو یا قومی جذبے سے لبریز نغمے۔ بلال مقصود 23مارچ1971 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ اُنہوں نے انڈس ویلی اسکول آف آرٹس سے کمیونیکیشن ڈیزائن کی تعلیم حاصل کی، مگر موسیقی سے گہری وابستگی کے باعث اسےاپنا کیریئر بنا لیا۔ اسٹرنگز بینڈ کے ساتھ اُنہوں نے بے شمار مقبول گانے تخلیق کئے، جن میں ’’سر کئے پہاڑ، دور، میرا بچھڑا یار ‘‘ کرکٹ کا ترانہ ’’ہے کوئی ہم جیسا‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔
ان کے ایک گیت ’’نہ جانے کیوں‘‘ کو ہالی ووڈ فلم کے سائونڈ ٹریک میں بھی شامل کیا گیا تھا۔ بلال نے ’’کوک اسٹوڈیو‘‘ میں بھی اپنی فنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، کئی سال اسٹیج اور اسٹوڈیو میں پاکستانی موسیقی کی نمائندگی کی، اب میوزک کے سب سے بڑے شو ’’پاکستان آئیڈل‘‘ کے پلیٹ فارم پر بطور جج فرائض انجام دے رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں ہم نے بلال مقصود سے، موسیقی، اس کےمستقبل اور ٹیلنٹ کے حوالے سے بات چیت کی۔ اس ملاقات میں کیے گئے سوالات اور بلال مقصود کے جواب نذر قارئین ہیں۔
سوال: پاکستان میں موسیقی کے مستقبل کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟۔
جواب : بہت روشن،دنیا بھر میں پاکستانی موسیقاروں کو سراہا جاتا ہے، البتہ مشکلات ہر دور میں رہی ہیں، آج بھی ہیں، مگر80 اور90کی دہائی میں موسیقی پر سخت پابندیاں تھیں، پرفارمنسز پر قدغنیں لگائی جاتی تھیں، ایسی سنسر پالیسیاں نافذ تھیں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، جیسے کسی گلوکار کے بال اگر کانوں سے نیچے ہوتے تو وہ ٹیلی ویژن اسکرین پر نہیں آ سکتا تھا، کوئی گلوکار بلوجینز پہنے ہوتا تو اُسے آوٹ کر دیاجاتا، جبکہ بلیک جینز کی اجازت تھی۔
میں اس وقت ویڈیوز بناتا تھا، ایڈیٹنگ ٹیبل پر یہ تمام پالیسیز میرے سامنے رکھی ہوتی تھیں،بہت مشکل وقتوں سے گزرا ہوں، لیکن آج یوٹیوب اور سوشل میڈیا کی بدولت موسیقی کی مارکیٹ بالکل گلوبل اور اوپن ہو چکی ہے۔
اب موسیقاروں کو نہ پی ٹی وی کی ضرورت ہے، نہ کسی چینل کی اور نہ ہی کسی میوزک لیبل کی، وہ اپنا کام خود کر سکتےاور دنیا بھر میں لوگ ان کا کام دیکھ سکتے ہیں۔ آج ہر بچےکے پاس اوپن پلیٹ فارم موجود ہے جہاں وہ اپنا ٹیلنٹ دنیا کو دکھا سکتا ہے۔ یہ وقت پاکستانی موسیقی کیلئے بہت اچھا ہے۔
سوال: ’’پاکستان آئیڈل ‘‘ کے موجودہ سیزن کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
جواب: اس سے پہلے جو سیزن تھا، ہم اسے ابھی شمار نہیں کرتے کیونکہ وہ 10-11 برس پہلے کا تھا۔ موجودہ سیزن میں جو ٹیلنٹ ہم دُنیا کے سامنے لے کر آئے ہیں، وہ صرف یہی ثابت کرتا ہے کہ آگے کے راستے بہت تاب ناک ہیں۔
سوال: کیا آپ کو اُمید ہے کہ ’’پاکستان آئیڈل ‘‘ کا اگلا سیزن زیادہ مشکل ہوگا؟۔
جواب: میں سمجھتا ہوں اگر پہلے ہی سیزن میں اتنا ٹیلنٹ سامنے آ گیا ہے تو سوچیں اگلے سیزنز کیلئے کتنے بچے تیاری کریں گے۔ ہمارے ٹاپ 16 اور وہ بچے بھی جو ٹاپ 16 میں نہیں آ سکے، ان میں بھی بہت سے ایسے تھے جو اردو، پنجابی، سندھی، بلوچی یعنی ہماری تمام ثقافتی موسیقی بہت اعلیٰ سطح پر گارہے تھے۔
مجھے لگتا ہے کہ جہاں جہاں بھی جنوبی ایشیائی لوگ بستے ہیں، چاہے وہ پاکستان ہو یا انڈیا، یہ بچے کسی بھی لیول پر، کسی بھی پلیٹ فارم پر کھڑے ہو سکتے اور اپنا لوہا منوا سکتے ہیں، وہ اگلے سیزنز میں آئیں گے۔ مجھے یقین ہے پاکستان کا مستقبل موسیقی کے حوالے سے بہت روشن ہے۔
سوال: کیا ہم اپنی موسیقی کا مقابلہ پڑوسی ملک کی موسیقی سے کرسکتے ہیں؟۔
جواب: اگر آپ پاکستان آئیڈل کے حوالے سے پڑوسی ملک کے کمنٹس پڑھیں تو ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں ہو گی، چاہے ہمارا کوک اسٹوڈیو ہو، یا پاکستان آئیڈل، وہاں بیٹھے لوگ ہمارے گلوکاروں کی تعریفیں کر رہے ہیں، بہت سی جگہوں پر ہم اُن سے بہت بہتر ہیں لیکن کئی جگہوں پرکمزور بھی ہیں۔ بات یہ ہے کہ، میوزک ان کے کلچر میں بسا ہوا ہے، جو ہم دیکھتے ہیں ’’بالی ووڈ ‘‘۔
اس کے علاوہ بھی انڈیا میں بہت زیادہ میوزک ہے،ساؤتھ انڈیا چلے جائیں، نارتھ چلے جائیں، یعنی ہر طرح کا میوزک، ہر طرح کا انسٹرومنٹ وہاں موجود ہے اور انہوں نے ان چیزوں میں ماسٹر کیا ہوا ہے۔ لیکن ہمارے پاس محدود چیزیں اور بہت محدود مواقع، وسائل ہیں لیکن جتنا بھی ہم ٹیلنٹ نکال کے اوپر لائے ہیں وہ سینہ تان کے پڑوسی ملک کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں۔
سوال: ’’پاکستان آئیڈل ‘‘میں بطور جج فرائض انجام دینا کیسا لگ رہا ہے؟۔
جواب: شروع میں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے، لیکن پاکستان آئیڈل کی ٹیم واقعی بہت شاندار ہے اور جب کوئی چیز ہائی کوالٹی کی ہوتب ہی اس کا اصل لطف آتا ہے۔
جہاں تک جج بننے کی بات ہے تو جب آپ انصاف کی کرسی پر بیٹھتے ہیں، آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے، اس کو نبھانا آسان نہیں ہوتا، بطور جج مجھے پاکستان آئیڈل کی کرسی پر بٹھایا گیا ہے تو میں اسی نظر سے فیصلے کر رہا اور اپنی طرف سے مکمل انصاف کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
مجھے بہت مزہ آ رہا ہے، اگر شو اچھا نہ ہوتا، تو اس کا پروڈکشن لیول، اس کی آڈیو کوالٹی اور جو اُمیدوار اس شو میں آئے ہیں یہ سب اتنے ہائی لیول کے نہ ہوتے۔
سوال: کیا آپ ذاتی طور پر بھی کسی کو موسیقی کی تعلیم دے رہے ہیں؟۔
جواب: میں ذاتی طور پر تو کسی نوجوان کو موسیقی نہیں سکھا رہا لیکن میرا انسٹا گرام ہے ، جہاں نوجوان گلوکاروں کی بڑی تعداد مجھے اپنی چیزیں فائنل کرکے بھیجتے ہیں اور وہیں میں اُنہیں اُن کا فیڈ بیک دے دیتا ہوں۔ بہرحال مجھے لگتا ہے کہ اگر فلاں بچہ بہتر ہوسکتا ہے تو میں اس میں بہتری لانے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔
سوال: یعنی ہم آپ کو بھی ایک گلوکار کہہ سکتے ہیں؟۔
جواب: میں اپنے آپ کو پروفیشنل گلوکار نہیں سمجھتا، البتہ شوقیہ طو رپر گاتا رہتا ہوں۔ دراصل ہمارا جو بینڈ تھا ’’اسٹرنگز‘‘ کے نام سے جس نے دُنیا بھر میں شہرت حاصل کی اُس کے اصل گلوکار تو فیصل کپاڈیہ تھے۔ اُن کی آواز، اُن کا انداز پاکستان سمیت دُنیا میں سب ہی پسند کرتے تھے۔
میں اُس پائے کا گلوکار نہیں ہوں نہ ہی میں اپنے آپ کو مایاناز گلوکاروں کی فہرست میں شامل کرتاہوں، البتہ آپ مجھے میوزک کمپوزر ، میوزک ڈائریکٹر، پروڈیوسر کہہ سکتے ہیں۔ اِن تمام چیزوں پر میری بہت اچھی گرفت ہے۔
سوال: کیا حکومتی سطح پر موسیقی کو سپورٹ کیا جارہا ہے؟۔
جواب: حکومت نے کبھی بھی میوزک انڈسٹری کو باقاعدہ صنعت کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ یعنی فلم انڈسٹری کو تو انڈسٹری کا درجہ دیا جاتا ہے، مگر پاکستان میں میوزک انڈسٹری کو آج تک یہ حیثیت نہیں مل سکی،جب کہ ملنی چاہیے۔
سوال: کیا پاکستان میں موسیقی سکھانے کے ادارے موجود ہیں؟۔
جواب: کراچی میں اس وقت دو بڑے ادارے ہیں۔ ایک نیپا اور دوسرا آرٹس کونسل کراچی، جہاں موسیقی سکھائی جاتی ہے۔ لاہور، اسلام آباد وغیرہ میں موسیقی کس حد تک سنجیدگی سے سکھائی جارہی ہے یا نہیں، اس بارے میں مجھےعلم نہیں ، اس لیے میں اس پر بات نہیں کر سکتا لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب تک ایک ملک کسی پروفیشنل موسیقار کیلئے مکمل اور مضبوط انفراسٹرکچر تیار نہیں کرتا، اس وقت تک اس بچے کے گھر والے اسے موسیقی پڑھنے کی اجازت دینے سے ہچکچائیں گے۔
ویسے موسیقی ایک ایسا فن ہے کہ اگر آپ کے اندر ٹیلنٹ ہےتو لازمی نہیں کہ آپ کو کسی اسکول یا استاد کی ضرورت ہو، آپ خود بھی سیکھ سکتے ہیں۔ آج کے دور میں یوٹیوب آپ کا استاد بن سکتا ہے۔ ’’پاکستان آئیڈل ‘‘ میں ایسے کئی بچے ہیں جو پروفیشنل گلوکاروں سے بھی بہتر گا رہے ہیں، ان کا استاد صرف یوٹیوب ہے، لہٰذا جو سیکھنا چاہے، اسے لازمی طور پر اکیڈمی کی ضرورت نہیں، تاہم اکیڈمیز اور ایک مضبوط انفراسٹرکچر کا ہونا پھر بھی بہت ضروری ہے۔
سوال: ماضی میں کئی میوزیکل بینڈ بنے، مگر اب ایسا نظر نہیں آتا کیوں؟
جواب: واقعی بینڈز بننا مشکل ہو گئے ہیں، ان کی تعداد بھی کم ہوتی جا رہی ہے، وجہ یہ ہے کہ، بینڈ سے زیادہ ایک فرد کیلئے مقبول ہونا اب کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔
جب آپ ٹک ٹاک، جیسے پلیٹ فارمز پر کام کر رہے ہوتے ہیں تو وہاں ایک ہی فرد ہیرو کے طور پر سامنے آتا ہے، وہ خود اپنی چیزیں کر رہا ہوتا ہے، زیادہ تر لوگ یہاں مقبولیت کیلئے آتے ہیں، جو اصل موسیقار ہیں، وہ اکثر پردے کے پیچھے رہ جاتے ہیں، لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ پسِ پردہ کون کام کر رہا ہے۔ یہاں جتنے آپ کے فالوورز ہوتے ہیں، جتنے پسندیدہ ہوتے ہیں، آپ اتنے ہی بڑے اسٹار سمجھے جاتے ہیں۔
اسی لیے ایک فرد کیلئے گانا بنانا بھی نسبتاً سستا ہوتا ہے، خود کو مینیج کرنا بھی آسان اور ہٹ ہونا بھی آسان ہوتا ہے، اسی وجہ سے آج کے دور میں بینڈ بنانا مشکل ہو گیا ہے، میرے خیال میں یہی اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
سوال: پاکستان آئیڈل میں ہر جج انفرادی فیصلے کرتا ہے یا ہم آہنگی ہے؟
جواب: میں تو ’’پاکستان آئیڈل ‘‘ سے بہت خوش ہوں، یہ لاجواب سیزن ہے۔ ججز پینل کے درمیان بھی ہم آہنگی، دوستی اور ایک دوسرے کے لیے احترام ہے۔ ہم سب ایک ساتھ کام کر کے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
اگر آپس میں کسی قسم کی ناچاقی یا ہم آہنگی نہ ہوتی تو کام مشکل ہو جاتا، مجھے خوشی ہے کہ اس شو میں بہت خوشگوار انداز میں کام ہو رہا ہے۔ مجموعی طور پر ’’پاکستان آئیڈل ‘‘ کیلئے میرا پورا تجربہ بہت ہی خوشگوار اور یادگار ہے۔
سوال: کیا آپ نے بھی ’’پاکستان آئیڈل ‘‘ سے کچھ سیکھا ہے؟۔
جواب: سیکھنے کا عمل ہمیشہ رہتا ہے۔ مجھے بھی اس شو سے بہت کچھ سیکھنے کاموقع ملا ہے۔ نوجوان گلوکار جس طرح محنت کرتے اور اس کے بعد انہیں گانے کیلئے موقع ملتا ہے، وہ براہ راست اور ججز کے سامنے،ان کی محنت اورجواعتماد کا لیول ہے ،وہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
اگر ہمیں روز یہ کرنا پڑے، ہر روز کوئی ہمیں جج کر رہا ہو، روز ہم گانا گا رہے ہوں تو یہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے ہر کوئی، کچھ نہ کچھ سبق ضرور لے سکتا ہے۔ یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ یہ بچے تیاری بھی کر رہے ہیں، پریکٹس بھی کر رہے ہیں، گا بھی رہے ہیں، مسکراتے ہوئے فیڈبیک بھی لے رہے ہیں اور پھر اگلی بار اسی فیڈبیک پر عمل کر کے پہلے سے بہتر گانا پیش کر رہے ہیں، ان کا جو یہ سفر ہے، ہم سب کیلئے ایک سبق ہے۔ اگر بلیک اینڈ وائٹ فلموں کے دور کا گانا گاتے ہیں تو محسوس ہی نہیں ہوتا کہ آپ کسی اور کی آواز سن رہے ہیں ،آپ خود اس زمانے میں پہنچ جائیں گے۔
سوال: آڈیشن سے اسٹیج تک اِن بچوں کی تربیت کیسی لگی ؟۔
جواب: نیچرل ٹیلنٹ کو ’’پاکستان آئیڈل‘‘ جیسے شوز ہی گروم کر سکتے ہیں ، یہ بچے جب آڈیشن دینے آئے تھے اور آج جب یہ فائنل راؤنڈز کی طرف جا رہے ہیں ان میں زمین آسمان کا فرق ہے، کیونکہ ان کو چند ماہ میں ایسا ماحول ملا ہے جہاں پر یہ ججز پینل کی فیڈبیک اور پس پردہ مینٹورز کم لوگوں کو ملتا ہے۔ کم عرصے میں ان کو اتنا ایکسپوژر مل گیا تو اگر ایسے شوز مسلسل ہوں تو یقینا بچوں کو گرومنگ کا موقع ملے گا۔
سوال: آپ نے بچوں کیلئے ’’پکے دوست‘‘ نامی کونٹینٹ بنایا ہے، اس بارے میں بتائیں؟
جواب : ’’پکے دوست‘‘ بچوں کی ویب سیریز ہے جسے بہت غیر معمولی رسپانس ملا ہے،آغاز میں نے اکیلے کیا تھا، پھر لوگ شامل ہوتے گئے، گذشتہ سیزن کے بعد یونیسیف جیسا ادارہ جو دنیا بھر میں بچوں کیلئے کام کر رہا ہے، وہ ’’پکے دوست‘‘ کے ساتھ کام کرنا اور تعاون کرنا چاہتا ہے۔
اس سیریز کو بنانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بچوں کی ابتدائی نشوونما کے مراحل، خاص طور پر پہلے پانچ برس میں انہیں صحیح تربیت دی جائے، اچھی باتیں سکھائی جائیں اور انہیں ایک اچھا انسان بنایا جائے، وہ بھی اپنی زبان اردو میں، اس وقت بچے جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ زیادہ تر غیر ملکی مواد ہے اور اس میں وہ کیا سیکھ رہے ہیں، یہ ہمارے کنٹرول میں نہیں ۔
’’پکے دوست‘‘ بنانے کا مقصد یہی ہےکہ ہم ایسا مواد تیار کریں جسے نا صرف بچے بلکہ پورا خاندان مل کر دیکھے، آج کل عموماً بچوں کے ہاتھ میں فون یا ٹیبلٹ تھما دیا جاتا ہے اور امی ابو اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں، اس شو کا مقصد یہ بھی ہے کہ ایسا پروگرام بنایا جائے جسے دیکھنے کا دل امی ابو کا بھی چاہے۔
ہر سیزن میں ہم یہ بات ثابت کرتے جا رہے ہیں۔ والدین کی ویورشپ کے اعداد و شمار مسلسل بڑھ رہے ہیں اور بہت سے امی ابو ’’پکے دوست‘‘ کے بڑے مداح بن چکے ہیں۔ یوں یہ ایک مکمل فیملی بانڈنگ ٹائم فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ خاص طور پر اوورسیز پاکستانیوں میں اس کی مانگ بہت زیادہ ہے۔
بلال مقصود کی مصروفیت نے مزید سوالات پوچھنے کی اجازت نہ دی۔ مختصر انٹرویو اختتام پذیر ہوا۔