کہا جاتا ہے، آج کل کی زندگی کسی ڈرامے سے کم نہیں اور ہم سمجھتے ہیں ڈرامے کے بغیر زندگی نہیں ذہنی دباؤ، پریشانیاں ،ڈپریشن سب کا واحد علاج یہ لگتا ہےکہ ڈرامے دیکھو اور تازہ دم ہوجاؤ، چاہے کچھ دیر کے لیے سہی، غالباً اسی لیے ہر ٹی وی چینل ناظرین کی تفریح کے لیے ڈراموں کو اہمیت دیتا ہے۔
سال 2025 ء میں ڈراموں کی بھر مار نے تو ناظرین کو کنفیوژہی کردیا لیکن جیو ٹی وی نے معیار، تفریح اور خاندانی اقدار کے امتزاج پر مبنی ڈرامے پیش کرکے ڈراموں کو وہ مقام دیا جہاں ہر ڈرامہ اہلِ خانہ کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا اور انجوائے کیا گیا۔
جیو کویہ مقام ایک دن میں نہیں ملا، یہ اس کی مسلسل جدوجہد اور مستقل محنت کا نتیجہ ہے۔ ان ڈراموں میں معاشرے کے مسائل، خوشیاں، دکھ اور جدوجہد کو سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کیا گیا، چاہے وہ گھریلو ناچاقیاں ہوں، طبقاتی کشمکش، عورت کے حقوق، یا محبت اور قربانی کی داستان ۔
مکالمے، موسیقی اور ہدایت کاری نےبھی ان ڈراموں کو نہ صرف یادگار بنایابلکہ صبر، برداشت، محبت، سچائی اور رشتوں کی قدر کرنا سکھائی۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جیو ٹی وی کے ڈرامے پاکستانی ثقافت، روایات اور اقدار کے امین ہیں، جو نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ، جیو انٹر ٹیمینٹ نے ڈراموں کو محض تفریح نہیں بلکہ احساس، شعور اور سماجی مکالمہ بنا دیا، جو گھروں میں صرف اسکرین کے ذریعے داخل نہیں ہوتے بلکہ دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں ایسے کئی ڈرامے پیش کیے جن کی کہانیاں عام انسان کی زندگی سے جڑی ہوئی نظر آئیں، کہیں ماں کی قربانی، کہیں بیٹی کے خواب، کہیں ٹوتے بکھرتے رشتے تو کہیں محبت کی وہ شکل جو خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناظرین خود کو کہانی کا حصہ محسوس کرنے لگتے ہیں۔
2025 ءمیں بھی محض چمک دمک یا غیر حقیقی پلاٹس پر انحصار نہیں کیا بلکہ ایسے موضوعات کو ترجیح دی گئی جو ہمارے معاشرے میں تیزی سے جنم لے رہے ہیں۔ عورت کی خودمختاری، مرد کی نفسیاتی کشمکش، طبقاتی فرق، خاندانی دباؤ اور محبت کے بدلتے مفہوم وغیرہ کو زندگی کے ہر رنگ کو فنکارانہ سادگی اور طاقت سے پیش کیا۔
جیو ٹی وی کے وہ شاہکار ڈرامے جو سال 2025 میں پیش کیے گئے اُن میں ”کیس نمبر9، من مست ملنگ، بڑے بھیا، مہرہ پتھر دِل، بہار نگر، حیا، سانول یار پیا“ وہ شہرہی آفاق سیریلز وغیرہ شامل ہیں۔ ان ڈراموں نے ریٹنگ کے نئے ریکارڈ قائم کیے، جس کا سوشل میڈیا پر بھی خوب چرچا رہا۔ ذیل میں اُن مقبول ڈراموں کے بارے میں مختصراً ملاحظہ کیجئے جنہوں نے ایک بار پھر ”جیو ٹی وی“کو نمبرون کی صف میں کھڑا کردیا ۔
کیس نمبر9
”جیو اور سیونتھ اسکائی انٹرٹینمنٹ“ کا معرکۃ الآراء ڈرامہ ”کیس نمبر 9“ شاہ زیب خانزادہ جو ”جیو نیوز“ کے مقبول پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ نے قلم بند کیا۔ یہ ان کا تحریر کردہ پہلا ڈراما سیریل تھی۔ شاہ زیب نے پہلی بار ایک ایسی کہانی لکھی جو نا صرف دل کو جھنجھوڑتی بلکہ سماج کے اندھے تصورات کو آئینہ بھی دکھاتی ہے۔
اس متاثر کن کہانی کے مرکز میں ہے ”سحر“ نامی کردار ایک نڈر، خوداعتماد اور باصلاحیت لڑکی کا جسے صبا قمر نے بے حد طاقتور انداز میں نبھایا ہے۔ سحر معاشرے کی غلط روایات کے آگے جھکنے سے انکار کرتی ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی ہمت بن جاتی ہے۔
دوسری جانب کامران ایک طاقتور، انا پرست اور اثر و رسوخ والا بزنس مین، اس کردار کو فیصل قریشی نے شاندار انداز میں پیش کیا ہے۔ کہانی ایک ایسی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے جہاں آزمائش، سازش، حوصلہ اور سچائی آمنے سامنے آ جاتے ہیں۔
اس سیریل میں پاکستان کی ٹیلی ویژن انڈسٹری کے بڑے نام صبا قمر، فیصل قریشی، جنید خان، آمنہ شیخ، رشنا خان، حنا بیات، گوہر رشید، علی رحمان خان، نور الحسن، نوین وقار، مزنا وقاص، کامران جیلانی، فائزہ گیلانی، عذرا محی الدین نے بڑی خوب صورتی سے اپنے کردار کیئے۔ اس سیریل نے نا صرف ٹیلی ویژن پر بلکہ سوشل میڈیا پر بھی خوب دھوم مچا ئی۔
من مست ملنگ
دو خاندانوں پر مشتمل ڈراما جو بچوں کی منگنی سے جڑا تھا، مگر ایک واقعے کے بعد دشمن بن جاتے ہیں، کبیر اور ریا کی محبت ان کے خاندانوں کو قریب لانے کی کوشش کرتی ہے اور پھر کہانی میں آنے والے نئے ٹوئٹس نے بھی ناظرین کو اپنی گرفت میں لیے رکھا۔
ڈرامے کے ڈائریکٹر علی فیضان، رائٹر نوراں مخدوم اور کاسٹ میں دانش تیمور، سحر ہاشمی، صبا حامد، عظمیٰ حسن، عدنان صمد، ہبا علی خان، نیئر اعجاز، دودھی خان، رمیز صدیقی، یاسر عالم، کامران جیلانی، شہرزاد نور پیرزادہ، ماہا حسن، فیصل بالی، حرمان غالب، آیت عارف شامل ہیں۔ ناظرین کی بھر پور توجہ سمیٹ کر اختتام پذیر ہوا۔
مہرہ
اس کی پہلی ہی قسط نے ناظرین کو اپنے سحر میں جکڑ لیاتھا، کس طرح انا اور لالچ لوگوں کو اندھا کر دیتی ہے، صحیح اور غلط کے فرق کو مٹا دیتی ہے۔ ایک فیصلہ، غرور یا پیسے کیلئے بہت سی زندگیوں کو بدل سکتا ہے۔ یہ سب کچھ اس میں دیکھنے کو ملا۔
مرکزی کردار علیزے ایک پراعتماد اور ہوشیار لڑکی ہے جو اپنی ماں اور بہن انوشے کے ساتھ رہتی ہے۔ ایک غیر متوقع المیہ علیزے کی دنیا برباد کر دیتا ہے اور وہ حمدانی خاندان سے بدلہ لینے کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔ طاہر نظیر کی تحریر کردہ سیریل کو ناظرین میں بہت زیادہ پذیرائی ملی۔ اسے محسن مرزا نے ڈائریکٹ کیا جبکہ کاسٹ میں عذرا، سید طوبی انور، آغا علی، لائبہ خان، میکال ذوالفقار، ندا ممتاز، بہروز سبزواری، نمرہ شاہد، اسلم محمود و دیگر شامل تھے۔
پتھر دِل
لالچ کس طرح مضبوط خاندانی تعلقات کو توڑ سکتی ہے،یہ سیریل ’’پتھر دل ‘‘ میں دیکھنے کو ملا۔ ہر قسط میں ناظرین کے دِل جیتے۔ اس سیریل کو نزہت ثمن نے تحریر کیا، سید محمد خرم کی ہدایت میں تشکیل کئے گئے۔
ڈرامے کی کاسٹ میں علی عباس، کنول خان، جنید جمشید نیازی، فجر خان، ہارون شاہد، عائشہ گل، کنزا مالک، ہمیرا بانو، فائزہ خان اور دیگر نے اپنی اداکاری کے شاندار جوہر دکھائے۔
بہار نگر
”بہار نگر“ایک مضبوط اور قابل احترام خاتون جو اپنے گھر پر فخر سے حکمرانی کر رہی تھیں کہ ان کا رشتہ جلن اور مخالفت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کشمکش سے ناظرین بھی خوب محظوظ ہوئے۔ اس سیریل کو نون قلم اور سجاد حیدر زیدی نے مشترکہ طور پر تحریر کیا، مظہر معین نے ہدایات دیں۔ ڈرامے میں حنا دل پزیر خان، جویریا سعود، حماد فاروقی، ثناعسکری، احمد حسن، حرا شیخ، حفصہ بٹ، اور دیگر شامل تھے۔
حیا
”حیا“ ایک نوجوان لڑکی ہے جو اپنی محبت حاصل نہیں کر پاتی ،جس کے بعداس کی زندگی بدل جاتی ہے۔ محبت اب اس کے قدم نہیں بلکہ طاقت چلاتی ہے۔ نون قلم اور ابو راشد کی تحریر کردہ کہانی نے پہلی ہی قسط سے ناظرین کو اپنی جگہ پر باندھے رکھا۔ اہد محمود نے ڈائریکٹ کیا جبکہ کاسٹ میں سنبل اقبال، مرزا زین بیگ، صبا فیصل، شمیم ہلالی، فرحان علی آغا، ٹیپو شریف، فائزہ گیلانی وغیرہ نے اپنے جوہر دکھائے۔
سانول یار پیا
سانول یار پیا محبت، تقدیر، اور تین افراد کے پیچیدہ تعلقات پر مبنی کہانی، سانول، عالی یار اور پیاکی تقدیر وفاداری، قربانی، اور ماضی کے چیلنجز کے درمیان ٹکرا جاتی ہے۔ ڈرامے میں پیش کئے گئے ٹوئسٹ نے بھی ناظرین کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا،ہر قسط کا بے چینی سے انتظار کرتے دکھائی دیئے۔
ہاشم ندیم خان کی تحریر کردہ سریل کو دانش نواز نے ڈائریکٹ کیا۔ کاسٹ میں فیروز خان، درِفشاں، احمد علی اکبر، یاسر نواز، زینب قیوم، دیپک پروانی، نیئر اعجاز، رضا زیدی، ثاقب سمیر، کامران جیلانی، رشید فاروقی اور دیگر نے اپنے کردار بہ خوبی انجام دئیے۔
گُڈی
یہ ایک خوش مزاج لڑکی کی کہانی تھی، جس میں پیش گوئی کی صلاحیت تھی۔وہ والدین کی موت کے بعد چچا اور چاچی کے ظلم کا سامنا کرتی ایک گڑیا اس کی مدد کرتی بعد میں ڈرامہ جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا لوگوں کے دِل میں جگہ بناتا گیا۔ نبیلہ ابر راجا اور امبر اظہر نے اسے لکھا، کاسٹ میں بختاور رشید، کامران جیلانی، بینش چوہان، کنزہ بخاری نے یادگار کردار ادا کرکے لوگوں کے دِل میں اس سیریل کو امر کردیا۔
بجّو
مسرت (بجّو) نے درمیانے طبقے کے خاندان میں اپنی تلخ مزاجی اور شادی نہ ہونے کی وجہ سے مسائل پیدا کیے،بعدازاں شادی کی پیشکش نئے چیلنجز لائی ۔ڈرامے کو جویریا سعود نے تحریر کیا جبکہ مظہر معین نے ہدایات دیں۔
کاسٹ میں جویریا، سعود، سقیہ خان، عریز احمد، حشام خان، ثنا عسکری، عائشہ گل، شمائل خان، یاسر شورو، فازیلا لاشاری، سچل افضل، حفصہ بٹ، زہرہ عامر، سمینہ احمد، حرا شیخ، روباب رشید نے بہترین اداکاری کے جوہر کھائے اور ڈرامہ عوام کی مقبولیت سمیٹ کر اختتام پذیر ہوئی۔
من مرضی
اس سیریل میں دو بہنیں منشاء اور زارا تھی۔ منشاء خوبصورت لیکن خود غرض، جب کہ زارا سمجھ دار ہے۔ منشاء کے فیصلے زارا کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ڈائریکٹر زاہد محمود، رائٹر رابعہ رزاق اور کاسٹ میں فاطمہ افندی، نوال سعید، ہارون شاہد، ہمایوں اشرف، نورالحسن، صباحت عادل، راجہ حیدر، ندا ممتاز، بسمہ بابر، حماد فاروقی، فائزہ گیلانی، رابعہ نورین، عاصم محمود، شازیہ قیصر، شہزاد ملک، سلمہ قادری شامل تھے۔ یہ سیریل بھی مقبولیت سمیٹ کر اختتام پذیر ہوئی۔
ڈائن
ڈرامہ سیریل ڈائن میں مرکزی کردار کرنے والی نِہال کی زندگی ایک سانحے کے بعد بدل جاتی ہے ۔وہ انصاف کیلئے لڑتی ہے، جو اسے اپنی شخصیت اور طاقت کو آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔
سیریل کے ڈائریکٹر سراج الحق، رائٹرزفاطمہ فیضان، امبر اظہرجب کہ کاسٹ میں مہوش حیات، احسن خان، حرا مانی، عثمان پیرزادہ، زینب قیوم، نیئر اعجاز، سہیل سمیر، اسامہ طاہر، ندا ممتاز، شمیل خان، افشین حیات، زہرہ عامرشامل تھے۔ سیریل کو ناظرین نے بہت پسند کیا۔
مکافات
یہ ڈرامہ سیونتھ اسکائی انٹرٹینمنٹ کے عبداللہ کادوانی اور اسد قریشی نے اپنی پروڈکشن میں رمضان المبارک کیلئے خصوصی طور پر تیار کیا تھا، جس کی ہر قسط مختلف انداز میں دکھائی گئی تھی۔ اعمال کا نتیجہ کس طرح سامنے آتا ہے، متاثرین کس طرح بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور مجرم خاموش انصاف کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس میں دیکھنے کو ملا۔ ڈرامے کی لکھاری ثمینہ اعجاز،ہما حنا نفیس، غزالہ نقوی، مہرانسا شامل ہیں۔ سلیم گھانچی کی ہدایات میں عکس بند کئے گئے۔
اُمِ عائشہ
یہ ڈرامہ ماہ رمضان میں شروع ہوا۔ سیریل میں دکھایا گیا کہ ”امِ عائشہ“ اللہ پر مکمل بھروسے کے ساتھ زندگی کے فیصلے کرتی ، جبکہ اس کے راستے میں تنقید اور متضاد زندگی کا فلسفہ رکاوٹ بنتا۔ ڈرامے کی رائٹر ہما نفیس ڈائریکٹر سلیم گھانچی پروڈیوسر عبداللہ کادوانی اور اسد قریشی جبکہ کاسٹ میں نمرہ خان، عمر شہزاد، محمود اختر، ندا ممتاز، تارا محمود، رہما زمان، ایمان، عاصم محمود، دیا رحمان، محسن گیلانی، بینا چوہدری، عائشہ راجپوت شامل تھے۔
بڑے بھیا
بڑے بھائی کی کہانی میںدنیا کی تلخ حقیقت کو بتایا گیا۔ کبھی کبھار، چاہے آپ خاندان کیلئے کتنا ہی کچھ کریں لیکن لالچ کے سبب آپ کی قربانیاں بھلا دی جاتی ہیں۔ کبیر، خاندان میں سب سے بڑا بیٹا، والدین کے انتقال کے بعد بھائی اور سرپرست کا کردار ادا کرتا، اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش کرتا ، ان کی ضروریات کو اپنی ترجیح بناتے ہوئے اپنے خواب ترک کردیتا ہے۔
سال گزرتے ہیں اور جب زندگی کبیر کو مہوش کے ذریعے دوبارہ خوشی کا موقع دیتی ہے، تو لالچ اور خود غرضی خاندان میں آجاتی ہے۔ چھپے ہوئے منصوبے اور سازشیں سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں، جو نا صرف کبیر کے پیار بلکہ اس کی قربانیوں سے بنائی گئی ہر چیز کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔
سیریل کو لکھاری نزہت ثمن نے ہی ڈائریکٹ کیا۔ کاسٹ میں اعجاز اسلم، مایا خان، رابعہ کلثوم، عزرا احمد، بینش چوہان، کامران جیلانی، نوید رضا، عثمان پیرزادہ، عذرا محی الدین، حمیرا بانو، عائشہ راجپوت، یاسر شورو، نیہا خان، شہزاد مختار، محبوب سلطان، حفصہ بٹ، صبیہ جعفری، مریم خان نے شاندار کردار ادا کئے جسے ناظرین نے بے حد سراہا۔
کٹھ پتلی
کٹھ پتلی کی کہانی میں ایک طرف لالچ اور دھوکا دکھایا گیا تو دوسری طرف یہ بھی بتایا گیا کہ ایمانداری اور صبر کامیابی کا راستہ کیسے ہموار کرتے ہیں۔ دو بہنیں جن کی مختلف فطرتیں انہیں الگ راستوں پر لے جاتی ہیں۔ ایک بہن ایمانداری، عقل اور صبر کی مثال ہے دوسری چالاک اورلالچی دکھائی گئی۔ ان کے درمیان ایان ہے، جس کا محبت بھرا دل ایمانداری اور دھوکہ کے درمیان الجھتا ہے۔
یہ سیریل بھی اپنی ہر قسط میں مختلف بَل کھاتی ناظرین میں مقبولیت پاتی رہی۔ اسے عرفان احمد شمس نے تحریر کیا، ڈائریکٹر سمیع سنی جبکہ کاسٹ میں فرحان احمد، فاجر خان، حماد فاروقی، محمود اختر، رشید فاروقی، شمائل خان، بینا چوہدری، حمیرہ بانو نے اپنی شاندار اداکاری سے لوگوں کے دِل جیت لئے۔
بہکاوے
یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو اپنی خوشی کی تلاش میں خاندان اور خود کیلئے ناقابلِ واپسی نتائج پیدا کرتا ہے۔ زبیر، ایک درمیانی عمر کا شخص، گھر پر سختی کے ساتھ حکومت کرتا ہے، اس کی بیوی زینت خاموشی سے اس کے ظلم برداشت کرتی ہے۔ اچانک اس وقت سب کچھ بدل جاتا ہے جب زبیر ستارہ نامی نوجوان عورت سے ملتا ہے۔
زبیر کی خود غرضی خواہشات اس کے خاندان کے لیے کیا نتائج لائیں، یہی سب اس سیریل میں دکھایا گیا۔ ڈرامے کو ثمرہ بخاری نے تحریر، اسد جبل نے ڈائریکٹ کیا۔ یشما گل، یاسر نواز، حبا علی خان، اسامہ طاہر، نئیر اعجاز، فرحان علی آغا، عائشہ گل اور دیگر نے یادگار کردار ادا کئے۔
ہم راز
محبت، تقدیر اور کفارہ کی منفرد کہانی، جو تین افراد سارہ، احمر اورو سیم کی زندگی پر ایک المناک واقعے کے اثرات پر مشتمل ہے۔ سارہ اور احمر کے تعلقات کے دوران وسیم کی زندگی اچانک بدل جاتی ہے۔ شواہد سارہ پر شک ظاہر کرتے ہیں لیکن وہ خود کو بے قصور ثابت کرتی ہے۔ تقدیر تینوں کو ایک جگہ لاتی ہے تاکہ وہ سچائی اور رازوں کا سامنا کریں۔
مصباح نوشین کی تحریر کردہ ڈرامے کی ہر قسط نے ناظرین کے دِل میں جگہ بنائی۔ فاروق رند کی ڈائریکشن میں بنائے گئے ڈرامے میں فیروز خان، عائزہ خان، لائبہ خان، نورالحسن، عینی زیدی، شمیم ہلالی، عذرا محی الدین، بہروز سبزواری، اور دیگر اداکاروں نے ایسی پرفامنس دی کہ لوگ اسے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
ایک لفظ زندگی
اس سیریل کی کہانی والدین کے تنازعات کے بچوں پر اثرات اور ان کے نتائج کو بیان کرتی ہے۔ مرکزی کردار خاندان میں مسلسل جھگڑے، غلط فہمیاں اور تعلقات کو بگاڑنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
ان کی بیٹی حور ایک مضبوط شخصیت کے طور پر سامنے آتی ہے جو وفاداری اور اپنے پیاروں کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھاتی ہے، ایک المناک واقعہ سے پوری کہانی تبدیل ہو جاتی ہے اور اس موڑ نے ناظرین کو اس سیریل کی طرف ایسا کھینچا کہ پھر وہ اختتام تک اس میں ڈوبے نظر آئے۔
ثمینہ اعجاز کی تحریر کردہ کہانی کو ثاقب ظفر نے ڈائریکٹ کیا۔ کاسٹ میں سعد قریشی، حرا خان، سہیل سمیر، فضل حسین، شہریار زیدی، خالد انعام، عذرا محی الدین، ماریا واسطی، کاشف محمود، صائمہ قریشی اور دیگر شامل ہیں۔
دوسرا چہرہ
دوسرا چہرہ حسد، شناخت، تعریف اور مایوسی کے درمیان دل چسپ کہانی یہ بتاتی ہے کہ کس طرح ظاہری دکھاوا، خاص طور پر ڈیجیٹل دور میں، لوگوں کو دھوکہ دے سکتا ہے اور اس سے متاثرین پر جذباتی دباؤ پڑتا ہے۔ کہانی دو جوڑوں کے گرد گھومتی ہے۔ سلمان اور کومل ایک سادہ زندگی گزارتے ہیں، جبکہ زارا اور جنید ایک شاندار جوڑا ہیں جو سوشل میڈیا پر مقبول ہے۔
تعریف جب خاموش مقابلہ میں بدلتی ہے تو حسد اور غیر یقینی احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ اس سیریل میں کئی راز کھلے جو ناظرین مدتوں یاد رکھیں گے۔ ردا بلال کی تحریر کو شہزاد شیخ نے ڈائریکٹ کیا۔ سیریل کی کاسٹ میں صنم سعید، عدیل حسین، صبور علی، صبا فیصل، ندا ممتاز، بہروز سبزواری اور دیگر نے اپنی فنکارانہ صلاحیت سے ڈرامے میں جان کر لوگوں کے دِل جیت لئے۔
کارزار دُعا
لازوال محبت کی کہانی جو سازشوں کے غیر متوقع موڑ آنے کے بعد جدا ہو جاتے ہیں۔کہانی نئے نئے رُخ اختیار کرکے ناظرین کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ ڈرامے کے لکھاری مصباح علی سید، ڈائریکٹر علی فیضان جبکہ کاسٹ میں شہزاد شیخ، حنا الطاف، نوال سعید، سیف حسن، سلمہ حسن، اعجاز اسلم، زینب قیوم، منور سعید، ثاقب سمیراور دیگر شامل ہیں جنہوں نے اپنی اداکاری سے لوگوں کے دِل فتح کئے۔
مفاد پرست
مفاد پرست دو کزنز کی زندگیوں کی کہانی ، جن کی مختلف فطرتیں محبت، دھوکہ، اور تقدیر کے ڈرامائی قصے کو جنم دیتی ہیں۔ صبا حسن اور انیلا سید کا تحریر کردہ سیریل اس وقت بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ اسکرین کی زینت بنا ہوا ہے۔ جسے محمد افتخار افی نے ڈائریکٹ کیا ہے۔
کاسٹ میں نازش جہانگیر خان، اسامہ طاہر، عائشہ راجپوت، جان ریمبو (افضل خان)، صاحبہ افضل، جاوید شیخ، نازلی نصر، نوین نقوی، رمیز صدیقی، سلمہ حسن، عدنان صمد، یاسر شورو اپنی اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں۔