• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نثار بزمی کی شاگردی نے میری فنی صلاحیتوں کو نکھارا

گلوکار، میوزک ڈائریکٹر، تنویر آفریدی کسی تعارف کے محتاج نہیں، موسیقی کی دنیا کا بڑا نام ہے۔ ان کا تعلق سند ھ کے شہر حیدر آباد سے ہے۔ چوتھی جماعت میں تھے تو حیدر آباد ریڈیو کے پروگرام ’’پھلواری ‘‘میں شرکت کی، یوں بطور چائلڈ آرٹسٹ کام کا آغاز کیا۔ ابتداء میں پھلواری میں مختلف آوازیں نکالتے تھے، پھر لطیفے سنانے لگے۔

سامعین بہت محظوظ ہوتے تھے، اس وقت تک ان کو انداز نہیں تھا کہ ان کی سُریلی آواز ہے۔ میٹرک کے بعد کراچی منتقل ہوگئے۔ یہاں ایک ڈرامے کے لیے آڈیشن دیا، جس میں ناکام ہوگئے۔ اسی دوران ریڈیو اسٹیشن میں ایک صاحب کو ہارمونیم بجاتے دیکھا تو ان کو بھی شوق ہوا اور اُسی دن ایک بجا خریدلیا۔ گھر کے پڑوس میں ایک دفتر تھا وہاں دوپہر میں جاکر باجا بجاتے۔ والد نے دیکھا تو گھر میں باجا بجانےکی اجازت دے دی۔

اس دوران لائف انشورنس میں بھی کام کرنے لگے تھے، وہاں سے جو رقم ملی، اس سے ایک ہندوستانی باجا خریدا، جس سے کئی میوزک کمپوز کیے ان میں کچھ اتنے مقبول ہوئے جو ان کی پہچان بن گئے۔ 1992 ء میں انہوں نے باقاعدہ اسٹوڈیوز میں جانا شروع کیا، وہاں ان کی دوستی پروڈیوسر عادل منصورسے ہوئی، ان کے پاس موسیقار نثار بزمی آتے تھے۔ تنویر آفریدی نے عادل منصور سے کہا، مجھے نثار بزمی سے ملو ادیں۔

عادل منصور نےایک دن ان سے ملا قات کرادی۔ تنویر آفریدی نے نثار بزمی سے اپنے شوق کا اظہار کرتے ہوئے ان کا شاگرد بننے کی خواہش کی، جو پوری ہوگئی۔ نثار بزمی کی زندگی تک ان کی شاگردی میں رہے۔ ان کے ساتھ متعدد رگانوں کی ریکارڈنگ میں ساتھ رہے۔ اپنا پہلا گانا ریڈیو کے ایک پروگرام میں سنایا، جسے بہت پسند کیا گیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتےان کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا۔

بعدازاں انہوں نے پوپ میوزک اور رپ(Rap) کو مکس کرکے ایک گانا تیار کیا، جس کو ایک نجی کمپنی نے ریلیز کیا، دنیا بھر میں اس گانے کو بہت پسند کیا گیا۔ یہ ان کا پہلا کمرشل گانا تھا ،جو کیسٹ پر ریلیز ہوا۔

90 کی دہائی میں بطور سنگر اور کمپوزر اُبھرنے والے تنویر آفریدی نے 2000 کی دہائی میں شہرت پائی۔ وہ پاکستان فلم میوزک لیجنڈ نثار بزمی صاحب کے آخری شاگرد ہیں، پاکستان کی میوزک ہسٹری کی جتنی معلومات ان کے پاس ہیں شاید ہی کسی اور کے پاس ہوں، پاکستان کے 70 سال مکمل ہونے پر انہوں نے پاکستانی میوزک کی ستر سالہ تاریخ پر جنگ گروپ کے ویکلی میگزین اخبار جہاں میں قسط وار آرٹیکلز لکھے، جو ایک نایاب دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میوزک انڈسٹری میں انہیں بہت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اب وہ میوزک ڈائریکٹر ہیں۔

پاکستان آئیڈل کے سپر ٹیلنٹ کو سامنے لانے میں تنویر آفریدی کا اہم کردار ہے وائلڈ کارڈ اینٹری کی اناؤسمنٹ کے لیے پہلی بار کیمرے کے سامنے آنا، ایک سرپرائز ہی تھا۔ تنویر آفریدی نے شہر شہر گھوم پھر کر ڈھیروں ہیرے موتیوں جیسا جگمگاتا نوجوان ٹیلینٹ تلاش کیا، پھر انہیں ایک ایک کر کے ججز کے سامنے پیش کیا۔ 

ان ہزاروں نوجوانوں میں سے ججز نے 37 نوجوان منتخب کیے، پھر ان میں سے باریک بینی سے جانچنے کے بعد 16 امیدوار منتخب کیے۔ پاکستان آئیڈل کے ایک پرواگرم میں تنویر آفریدی کا کہنا تھاکہ، ’’یہ 16 کے 16 میرے فیورٹ ہیں، یہ چار ہزار لوگوں کو مات دے کر یہاں تک پہنچے ہیں۔‘‘

سینیئر گلوکاروں کی جانب سے اس طرح کا شفقت بھرا اظہار نوجوان ٹیلینٹ کا کتنا خون بڑھا دیتا ہے، اس کا احساس صرف انہیں ہی محسوس ہوتا ہے۔ تنویر آفریدی پاکستان آئیڈل exclusive کی ایپیسوڈز میں بھی ان contestants کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے اور انہیں مختلف ٹپس دیتے ہیں۔ یہ اپنی ذات میں خود میوزک انڈسٹری کی ایک اہم دستاویز ہیں۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید