• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہیئر ایکسٹینشنز میں سرطان پیدا کرنے والے کیمیکلز کی موجودگی کا انکشاف

سائنسدانوں نے ہیئر ایکسٹینشنز کے بارے میں ایک ہنگامی انتباہ جاری کیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق تجزیے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ان میں سرطان پیدا کرنے والے درجنوں کیمیکلز موجود ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں نے ہیئر ایکسٹینشنز کے بارے میں ہنگامی وارننگ میں درجنوں مضر صحت کیمیکلز کی موجودگی کا انکشاف کیا۔ 

واضح رہے کہ آسٹریلوی ماڈل ایلے میکفارسن، امریکی صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اور گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ سمیت کئی مشہور شخصیات کی پسندیدہ ہیئر ایکسٹینشنز بالوں کو زیادہ گھنا اور دلکش بنانے کا تاثر دیتی ہیں۔

امریکی ریاست میساچوسیٹس میں واقع سائلنٹ اسپرنگ انسٹیٹیوٹ کے ماہرین نے اب ان ایکسٹینشنز میں کئی تشویشناک کیمیکلز  دریافت کیے ہیں، حتیٰ کہ ان میں بھی جو انسانی بالوں سے تیار کی جاتی ہیں۔

اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں کی ٹیم نے آن لائن فروخت ہونے والی 43  مشہور مصنوعات کی مختلف کیمیکلز کی وسیع رینج کے لیے جانچ پڑتال کی۔

ان کے تجزیے کے دوران درجنوں کیمیکلز کے آثار پائے گئے، جن میں فلیم ریٹارڈنٹس (آگ سے بچاؤ کے کیمیکلز)، فیتھالیٹس، کیڑے مار ادویات، اسٹائرین، ٹیٹراکلوروایتھین اور آرگینو ٹنز شامل ہیں۔

تشویشناک امر یہ ہے کہ گزشتہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مادے کینسر، ہارمونز میں بگاڑ، نشوونما کے مسائل اور مدافعتی نظام پر منفی اثرات سے منسلک ہیں۔

اس تحقیقی ٹیم کی سربراہ اور مصنفہ ڈاکٹر الیسیا فرینکلن نے کہا کہ کمپنیاں شاذ ونادر ہی ان خصوصیات کو حاصل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے کیمیکلز کے بارے میں آگاہ کرتی ہیں، جس کی وجہ سے صارفین طویل عرصے تک ان کے استعمال سے صحت کے خطرات کے بارے میں لاعلم رہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا یہ فائبرز براہ راست سر اور گردن پر ہوتے ہیں اور جب انہیں گرم کر کے اسٹائل کیا جاتا ہے تو یہ کیمیکلز ہوا میں خارج ہو سکتے ہیں جنہیں استعمال کرنے والے سانس کے ذریعے انہیں اندر لے سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ کلپ ان ہوں، ٹیپ ان، ویوز ہوں یا مائیکرو لنکس، بالوں کی ایکسٹینشنز اب برطانیہ اور امریکا میں بے حد مقبول ہیں۔

صحت سے مزید