اسلام آباد( تنویر ہاشمی/مہتاب حیدر) وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2025 میں سرکاری ملکی اداروں کے خالص خسارے میں 300 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق 25 سرکاری اداروں کو مجموعی طور پر 832 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ مالی سال 2024 میں یہ نقصان 30.6 ارب روپے تھا، جو مالی سال 2025 میں بڑھ کر 123ارب روپے تک پہنچ گیا۔رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ نقصان نیشنل ہائی وے اتھارٹی کوہوا جس کی مالیت 294.9 ارب روپے رہی۔ اس کے بعد کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (112.7 ارب روپے)، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (92.7ارب روپے)، پاکستان ریلوے (60.3ارب روپے) اور پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی (48.9ارب روپے) شامل ہیں۔دیگر بڑے خسارے میں جانے والے اداروں میں نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی (46.1 ارب روپے)، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی (29.4 ارب روپے)، پاکستان اسٹیل ملز (26 ارب روپے) اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (25.3 ارب روپے) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان پوسٹ، پاسکو، حیدرآباد، لاہور اوربجلی کی دیگرتقسیم کار کمپنیاں بھی خسارے میں رہیں۔اس کے برعکس، مالی سال 2025 میں منافع کمانے والے سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 709 ارب روپے منافع حاصل کیا جو چند بڑے اداروں تک محدود رہا۔ سب سے زیادہ منافع او جی ڈی سی ایل نے 169.9 ارب روپے کے ساتھ کمایا، اس کے بعد پی پی ایل نے 89.9 ارب روپے ‘نیشنل بینک 56.7 ارب روپے‘واپڈا(52.3 ارب روپے) اور گورنمنٹ ہولڈنگز (48.5 ارب روپے) شامل ہیں۔دیگر منافع بخش اداروں میں کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی، پاک عرب ریفائنری، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن، اسٹیٹ لائف انشورنس، سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیاں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چند بڑے ادارے ہی مجموعی منافع کا تقریباً 90 فیصد پیدا کر رہے ہیں، جو اس شعبے میں آمدنی کے شدید ارتکاز کو ظاہر کرتا ہے۔مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں کی بیلنس شیٹ میں مثبت اور منفی دونوں رجحانات دیکھے گئے۔ مجموعی ایکویٹی میں 7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 5865 ارب روپے سے بڑھ کر 6245 ارب روپے تک پہنچ گئی، جس کی بڑی وجہ بجلی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ ختم کرنے کے لیے سرمایہ کاری تھی۔ دوسری جانب واجبات میں 3 فیصد کمی ہوئی اور یہ 32,570 ارب روپے سے کم ہو کر 31,742 ارب روپے رہ گئے۔ مجموعی اثاثے تقریباً مستحکم رہے اور صرف 1 فیصد کمی کے ساتھ 37,988 ارب روپے تک محدود رہے۔مالی سال 2025 میں حکومت کی جانب سے سرکاری اداروں کو دی جانے والی مالی معاونت بڑھ کر 2,078.5 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 37 فیصد زیادہ ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ بجلی کے شعبے میں قرضوں کی ادائیگی کے لیے دی جانے والی ایکویٹی انجیکشنز تھیں، جو 728.9 ارب روپے رہیں۔اسی طرح سرکاری قرضے 263.3 ارب روپے سے بڑھ کر 354.1 ارب روپے ہو گئے۔ تاہم گرانٹس میں 27 فیصد اور سبسڈیز میں 7 فیصد کمی واقع ہوئی۔ خودمختار ضمانتیں بھی نمایاں طور پر بڑھ کر 2,164 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں وفاقی حکومت نے 12,970 ارب روپے ٹیکس وصول کیا، جس میں سے تقریباً 2,078 ارب روپے (یعنی 16 فیصد) دوبارہ سرکاری اداروں کو سبسڈی، قرضوں، گرانٹس اور ایکویٹی انجیکشنز کی صورت میں دیے گئے۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے ہر 6 روپے ٹیکس میں سے تقریباً ایک روپیہ سرکاری اداروں کی مدد پر خرچ ہو رہا ہے۔