حیدرآباد ( بیورو رپورٹ) حیدرآباد میں دفعہ 144کی خلاف ورزی، سابق ایم این اے کے بیٹے کی شادی میں ہوائی فائرنگ اور آتش بازی،جبکہ بیشتر علاقوں میں قائم شادی ہالز میں تقریبات کے دوران ہوائی فائرنگ اور آتشبازی معمول بنا ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عائد پابندیوں کے باوجود شادی تقریبات میں ہوائی فائرنگ، آتش بازی اور سڑکوں کی بندش کا سلسلہ نہ رک سکا۔جمعرات اور جامعہ کی درمیانی شب تھانہ بھٹائی نگر اور تھانہ نسیم نگر کی حدود میں پیپلز پارٹی کے سابق ایم این اے لال چند اکرانی کے بیٹے یوگل اکرانی کی شادی کے موقع پر سرعام دفعہ 144کی خلاف ورزی کی گئی۔قاسم میں وادھو واہ روڈ پر قائم ایک نجی شادی ہال میں بارات لے جانے کے دوران سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا جبکہ دولہے کی گاڑی کے آگے مسلسل آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کی جاتی رہی۔ اس دوران شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔ اس دوران بارات کے ہمراہ پولیس موبائل بھی موجود تھی، تاہم آتش بازی اور سڑک کی بندش کو نہ روکا جا سکا۔واضح رہے کہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے ضلع بھر میں رات 12 بجے کے بعد شادی تقریبات پر پابندی عائد ہے، مگر اس کے باوجود تقاریب رات گئے تک جاری رہتی ہیں اور تقریبات میں ہوائی فائرنگ اور آتشبازی بھی کی جاتی ہے۔ دوسری جانب شہر کے بیشتر علاقوں میں بھی پابندی کے باوجود ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کا سلسلہ جاری ہے۔ قاسم آباد تحصیل میں جامشورو روڈ، نسیم نگر روڈ، سحرش نگر، لطیف آباد نمبر 2، 3 اور 7 سمیت سٹی اور تحصیل دیہی کے درجنوں علاقوں میں قائم شادی ہالز میں تقریبات کے دوران فائرنگ اور آتش بازی معمول بن چکی ہے،جس کی روک تھام کے لیے کسی قسم کے عملی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے۔