اسلام آباد ( رانا غلام قادر ) وزیر اعظم شہباز شریف کے دور حکومت کے پہلے 22 مہینوں کے دوران قرضوں میں 13ہزار719ارب روپے کا بڑا اضافہ ہواہے ، مارچ 2024 تا دسمبر 2025 مقامی قرضے میں 12 ہزار 687 ارب ،بیرونی قرضے میں 1ہزار31ارب روپےکااضافہ ہوا۔ وفاقی حکومت کاقرضہ دسمبر2025 تک 78ہزار 529ارب ہو گیا جبکہ نگراں حکومت کے آخری مہینےفروری2024 تک وفاقی حکومت کے قرضے 64ہزار810ارب روپے تھے۔وفاقی حکومت کےقرضوں میں بڑا اضافہ مارچ دوہزارچوبیس سےلیکردسمبردوہزارپچیس کےدوران ہوا۔ اسٹیٹ بینک کی دستاویزات کے مطابق مارچ 2024 سے دسمبر2025 کے22مہینوں کےدوران وفاقی حکومت کےمقامی قرضےمیں 12ہزار 687 ارب روپے اوروفاقی حکومت کےبیرونی قرضے میں ایک ہزار31ارب روپےکااضافہ ہواجس کے بعد وفاقی حکومت کاقرضہ دسمبر2025 تک بڑھ کر 78 ہزار529ارب روپےہو گیاجبکہ نگران حکومت کے آخری مہینےفروری2024 تک وفاقی حکومت کے قرضے 64 ہزار 810 ارب تھے۔ اسٹیٹ بینک کی دستاویزکےمطابق فروری 2024تک مرکزی حکومت کا مقامی قرضہ42 ہزار675 ارب روپےتھاجو دسمبر2025 تک بڑھ کر55 ہزار 364 ارب روپے ہوا۔اسی طرح فروری 2024ءتک وفاقی حکومت کابیرونی قرضہ22 ہزار 134ارب روپے تھا اور دسمبر2025 تک مرکزی حکومت کا بیرونی قرضہ بڑھ کر 23 ہزار 166 ارب روپے ہوگیا۔