اسلام آباد(عبدالقیوم صدیقی) ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر ہراسانی کے الزامات ثابت ہونے پر برطرف، وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی کا تاریخی فیصلہ، اختیارات کا ناجائز استعمال اور جنسی ہراسانی ثابت، رضامندی اور ہنی ٹریپ کا مؤقف مسترد، خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ دینے کے لیے قائم فیڈرل محتسب برائے انسدادِ ہراسانی (FOSPAH) نے ایک اہم فیصلے میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان کو جنسی ہراسانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مفاداتی بنیادوں پر بدسلوکی (کوئیڈ پرو کو) کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔ جمعرات کو جاری اعلامیے کے مطابق محتسب نے قرار دیا کہ وائس چانسلر نے اپنے ادارہ جاتی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ایک طالبہ، جو بعد میں ان کی جونیئر ساتھی بنی، کے ساتھ نامناسب تعلق قائم اور برقرار رکھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ شکایت کنندہ کو غیر قانونی طور پر غیر معمولی پیشہ ورانہ رسائی اور مراعات دی گئیں، جو 2010 کے تحفظِ خواتین ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ محتسب نے "رضامندی" اور "ہنی ٹریپ" سے متعلق دفاعی دلائل کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ جہاں اختیارات کا واضح عدم توازن موجود ہو، خصوصاً استاد و طالب علم یا سینئر و جونیئر کے تعلق میں، وہاں رضامندی قانونی حیثیت نہیں رکھتی کیونکہ ادارہ جاتی درجہ بندی آزادانہ انتخاب کو متاثر کرتی ہے۔