لاہور( آصف محمود بٹ)پاکستان سول سروسز اکیڈمی کا نیا انٹیگریٹڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ مینوئل متعارف۔ کامن ٹریننگ پروگرام میں نگران کے روایتی نظام کو پیشہ ورانہ سرپرستی کے ماڈل میں تبدیل کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ڈی جی سی ایس اے فرحان عزیز خواجہ نے کہا ہے کہ مینوئل نگرانی اور رہنمائی کے عمل کو منظم، شواہد پر مبنی اور ترقیاتی فریم ورک میں ڈھالتا ہے۔پاکستان سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) لاہور نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) اسلام آباد کے اشتراک سے اکیڈمک گروپ انچارجز کیلئے ’’انٹیگریٹڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ مینوئل‘‘ کی باضابطہ رونمائی کردی۔ افتتاحی تقریب ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی فرحان عزیز خواجہ، وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی، وفاقی وزارت صحت، ریگولیشنز و کوآرڈی نیشن اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن حکومت پاکستان کے سینئر نمائندگان کے علاوہ دونوں اداروں کے اعلیٰ افسران اور فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔نئے مینوئل کو سول سروسز کی بنیادی تربیت یعنی کامن ٹریننگ پروگرام (سی ٹی پی) میں پیشہ ورانہ معیار، گورننس اور اخلاقی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی ایک اہم اصلاحاتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مینوئل بالخصوص اکیڈمک گروپ انچارجز اور فیکلٹی ممبران کیلئے تیار کیا گیا ہے جو تربیت کے ابتدائی اور نہایت اہم مرحلے میں پروبیشنری افسران کیلئے اولین رابطہ اور عملی نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل سی ایس اے فرحان عزیز خواجہ نے کہا کہ یہ مینوئل نگرانی اور رہنمائی کے عمل کو ایک منظم، شواہد پر مبنی اور ترقیاتی فریم ورک میں ڈھالتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گروپ انچارج کے کردار کو روایتی انتظامی نگرانی سے آگے بڑھاتے ہوئے اسے ’’پیشہ ورانہ سرپرستی‘‘ کا درجہ دیا گیا ہے، جس کا محور افسران کی طویل المدتی فکری، رویہ جاتی اور اخلاقی نشوونما ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید اور پیچیدہ حکمرانی کے تقاضوں سے نمٹنے کیلئے ایسے افسران کی تیاری ناگزیر ہے جو محض انتظامی مہارت ہی نہیں بلکہ مضبوط کردار، متوازن فیصلے اور ادارہ جاتی وابستگی کے حامل ہوں۔یہ مینوئل ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے قریبی اشتراک سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں فیکلٹی ممبران اور پروبیشنری افسران دونوں کیلئے منظم اسکریننگ اور اسسمنٹ کا نظام شامل کیا گیا ہے۔ اس مقصد کیلئے دو تکمیلی ذرائع استعمال کئے جائیں گے جن میں ایچ ایس اے کا پروفیشنل اسسمنٹ فریم ورک اور ’’E-Orbit‘‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم شامل ہیں۔ وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی نے کہا کہ عوامی خدمت کی تربیت میں نفسیاتی فلاح، اخلاقی وضاحت اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہیلتھ سروسز اکیڈمی سول سروسز اکیڈمی کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دیتے ہوئے سول سروسز کے ادارہ جاتی استحکام اور پیشہ ورانہ تشکیل کے عمل کو مضبوط بناتی رہے گی۔وزارت قومی صحت خدمات اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نمائندگان نے اس اقدام کو سول سروسز کی تربیت میں میرٹ، پیشہ ورانہ معیار اور احتساب کے فروغ کی جانب ایک دور اندیش اور مثبت قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے منظم اور شفاف فریم ورک ایسے افسران کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں جو اختیار کو تحمل، دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔انٹیگریٹڈ پروفیشنل ڈیولپمنٹ مینوئل کو ایک ’’لانگ ٹر م ڈاکومنٹ‘‘ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے جو مستقبل میں بھی تربیتی ضروریات کے مطابق اپ ڈیٹ ہوتا رہے گا اور اکیڈمک گروپ انچارجز اور فیکلٹی ممبران کیلئے رہنمائی، نگرانی اور جائزہ کے عمل میں بنیادی حوالہ دستاویز کا کردار ادا کرے گا۔ حکام نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدام پاکستان کی سول سروسز کی ساکھ، شفافیت اور مجموعی کارکردگی کو طویل المدتی بنیادوں پر مضبوط بنانے میں مؤثر ثابت ہوگا۔